طالب علموں کے لئے بدبو دار ماحول کیوں ؟

طالب علموں کے لئے بدبو دار ماحول کیوں ؟
 طالب علموں کے لئے بدبو دار ماحول کیوں ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا خواب کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنائیں گے ، بہت اچھا اور کسی حکمران کی جانب سے پہلا احسن اقدام اور تخیل ہے ، ریاست مدینہ جو کہ کرپشن سے پاک تھی ، وہاں انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے تھے ، معافی مانگنے والے کو معاف کیا جاتا تھا ، اقلیتوں کو تحفظ دیا جاتا تھا ، تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا جانا اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے چین جانے تک کے فرمان تھے ۔اقلیتوں کا خیال تو یہاں تک رکھا جاتا کہ نجران سے 60عیسائیوں کا ایک وفد حضور پاک ﷺ سے ملاقات کے لئے مسجد نبوی آیا تو انہیں وہاں عبادت کرنے کی اجازت خود سرور کائنات نے دی تھی ۔

مسلمان کا کسی دوسرے مذہب کے پیرو کار سے کوئی جھگڑا ہوتا یا لین دین کا کوئی معاملہ ہوتا تو اُس کا فیصلہ بلا امتیاز کیا جاتا تھا ، یہ ماحول تھا اُس وقت ریاست مدینہ کا ۔وقت گزرتا گیا اور 1947میں پاکستان معرض وجود میں آیا ، قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی کئی تقاریر میں اقلیتوں کے حقوق اور اُن کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے مفصل بیان کیا ، پاکستان کے سبز پرچم میں سفید رنگ کا ہونا بھی پاکستان میں اقلیتوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔حضرت انس بن مالکؓ سے روائت ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے، کچھ جگہوں پر اس حدیث کو ضعیف بھی لکھا گیا ہے ہم اس بحث میں نہیں پڑیں گے کیونکہ علم کے حوالے سے دیکھا جائے توقران کے نزول کی شروعات ہی علم کی افادیت سے بہرہ ور کرنے سے ہوئی تھی ۔

دُنیا کے کسی بھی ملک کو دیکھ لیں اُس کی ترقی کا راز تعلیم اور یکساں اور فوری انصاف میں پنہاں نظر آتا ہے ، جاپان کے صوبے ہیکائیدو کے شہر ’’ اینگارو ‘‘ کے ریلوے اسٹیشن کو ختم کرنے کا فیصلہ صرف اس وجہ سے روک دیا گیا تھا کہ وہاں سے ایک لڑکی سکول پڑھنے جاتی ہے ، نہ صرف یہ فیصلہ ختم کیا گیا، بلکہ ٹرین کا ٹائم ٹیبل بھی لڑکی کے سکول کے مطابق کر دیا گیا ۔پاکستان میں گٹر اور گھروں کی گندگی صاف کرنے والے انتہائی توجہ کے مستحق ہیں ، وہ بیچارے خود بدبو میں رہ کر کیچڑ اور کبھی کبھار گند اپنے جسموں پر سجائے ہمیں صاف اور شفاف ماحول مہیا کرتے ہیں، تاکہ ہم صفائی سے معطر آب و ہوا میں سانس لیں ، ویسے ہمیں صفائی پسند بھی ہے کیونکہ یہ سرور کائنات ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ صفائی نصف ایمان ہے ‘‘ ۔

پاکستان میںیہ صفائی کرنے والے خاکروب نسل در نسل اسی کام سے منسلک رہتے ہیں ، فیصل آباد کے ’’ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ‘‘ یعنی واسا میں یہ لوگ اپنی نوکریاں کر تے ہیں ، ان کے بچوں کے لئے کوئی ایسا سکول نہیں تھا کہ جہاں انہیں مفت تعلیم دی جا سکتی ، بشپ افتخار نے سیکڑوں پرائمری سکولوں اور ہسپتال پاکستان میں بنانے کا ایک خواب دیکھا ، اُس کی تعبیر کے لئے بشپ افتخار نے امریکا ، چائنا اور ہانگ کانگ کی ’’ مشنری ‘‘ سے رابطہ کیا اور انہیں قائل کیا کہ وہ اِن غریب بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں ۔2007میں ایک سکول کی بنیاد رکھی اور 40بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا عملی مظاہرہ شروع ہو گیا ، جب ان بچوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو ارد گرد کی زمین خرید کر سکول کی عمارت بڑی کر دی گئی ۔

حکومت پاکستان نے بچوں کی تعداد دیکھی تو کہا کہ قانون کے مطابق بچوں اور بچیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ تعلیم کا بندوبست کیا جائے ، 2014میں یہ کام بھی کر دیا گیا اور اب 15سو بچے ور بچیاں علیحدہ علیحدہ مفت تعلیم حاصل کر رہی ہیں، اس سکول سسٹم کا نام این سی ایس ایس ’’ نیو کوئینت سکول سسٹم ‘‘ رکھا گیا اور اب سکول کے تمام انتظامات کو چائنیز مشنری سنبھال رہی ہے ۔2014 میںآرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کا حملہ اور انہی دنوں پنجاب میں ڈینگی مچھر کے مسائل کی وجہ سے سیکیورٹی کے پیش نظر اس سکول کے ساتھ موجود ’’ گندے جوہڑ ‘‘ کو ختم کرنے کے لئے ایم ڈی واسا ، ڈی سی فیصل آباد اور چیئر میں واسا و درخواستیں دے کر جوہڑ کو بند کر دیا گیا ۔

جب یہ کام ہو رہا تھا تب موقع پر تمام محکمے اور ایجنسیاں موجود تھیں ،کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوا ، پھر سکول انتطامیہ نے واسا فیصل آباد سے کہا کہ جو ’’جوہڑ‘‘ ختم کیا گیا ہے ہم اس کے گرد چار دیواری کرکے سکول کے بچوں کے لئے گراونڈ بنا دیتے ہیں اور اس کے بدلے جہاں واسا چاہے ہم اُسے وہاں زمین مہیا کر دیتے ہیں ، واسا کی نشاندہی پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ کی زمین خرید کر دے دی گئی جہاں واسا نے ’’ ڈسپوزل اسٹیشن ‘‘ یعنی گندے کنویں بنانے تھے ، آبادی کے باسیوں نے واسا کو بدبودار کنویں بنانے سے روک دیا جس کی وجہ سے بشپ افتخار کے ہاتھوں سکول انتظامیہ کی زمین کے لئے دی گئی ایڈوانس رقم بھی ڈوب گئی ، سوال یہ ہے کہ اگر وہاں کے مکین گندے کنووں کے لئے راضی نہیں تو اس میں سکول یا سکول کے بچوں کا کیا قصور ہے ؟

کیونکہ واسا فیصل آباد اُسی گراونڈ میں گندے کنویں بنانا چاہتا ہے جہاں سکول کے بچے کھیلتے ہیں ، ہمارا معاشرہ بھی عجیب و غریب کیفیت کا حامل ہے ، ایک طرف علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے کی مثالیں دیتا ہے اور دوسری طرف چین والے وہاں آکر مفت تعلیم دے رہے ہیں اور وہ لینے کے لئے تیار نہیں ،اندازہ لگائیں کہ اگر اُس گراونڈ میں گندے کنویں بنا دیئے گئے تو بچے تعلیم حاصل کیسے کریں گے ؟ ہمیں ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اُس سکول میں ہمیں صاف ماحول دینے والوں کے بچے زیر تعلیم ہیں ۔

چائنیز ، ہانگ کانگ اور امریکا کی مشنری پر مشتمل انتظامیہ اور سکول کے پچاس کے لگ بھگ اساتذہ تذبذب کا شکار ہیں ، بشپ افتخار پاکستان کے تمام دروازے کھٹکھٹا کر تھک گیا تو اُسے جان لیوا دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہ پاکستان سے بھاگ کر سپین آگئے اور یہاں اسائلم سیکر کی زندگی گزارنا شروع کر دی ، بشپ افتخار سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں اور میرے بچے یہاں محفوظ ہیں لیکن مجھے فکر ہے تو اُن 15سو بچوں کی جن کو میں نے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا اعلان کیا تھا ،

بشپ افتخار کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں مجھ سے سپین کا پاسپورٹ واپس لے کر اُس کے بدلے پاکستان میں تحفظ فراہم کردیا جائے، تاکہ میں دُنیا بھر کے ’’ڈونرز‘‘ کو مفت تعلیم ، علاج معالجہ اور ڈیم فنڈ میں ڈونیشن کے لئے پاکستان لا سکوں، بولتے بولتے بشپ افتخار کی آنکھوں میں پاکستان کی محبت آنسو بن کر چھلکنا شروع ہو گئی ، وہ کہہ رہے تھے کہ وزیر اعظم پاکستان کو ملکی ترقی کے لئے تعلیم کے فروغ کو ترجیح دینی چاہیئے اور ماحولیات سمیت واسا اور دوسرے محکموں کے وزراء کو چاہیئے کہ وہ’’ این سی ایس ایس ‘‘سکول فیصل آباد کے بچوں کو بدبو دار ماحول دینے سے واسا اور دوسرے محکموں کو منع کریں ، سکول کے گراونڈ کی دیوار گرا دی گئی ہے اُسے دوبارہ تعمیر کرنے کے آرڈرز جاری کئے جائیں ،

اب بھی واسا فیصل آباد کہے تو سکول انتظامیہ گندے کنویں بنانے کے لئے متبادل زمین مہیا کرسکتی ہے ، اس کے باوجود بھی اگر واسا مجبور ہے اور سکول انتظامیہ کی جانب سے جوہڑ ختم کرکے گراونڈ بنانے والی زمین سکول انتطامیہ کو نہیں دے سکتی تو کم از کم اُس سکول گراونڈ پر گندے کنویں نہ بنائے جائیں کیونکہ ایسا کرنے سے جو بدبو پیدا ہو گی اُس میں پاکستان کا مستقبل وہ طالب علم صحیح طریقے سے تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے ، پاکستان کے تمام مذاہب کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری گندگی ختم کرکے ہمیں صاف ماحول دینے والوں کے بچوں کو ہم بدبو دار ماحول کیوں دینا چاہتے ہیں ، ذات پات ، قوم اور مذہب سے بالا تر ہو کر سب کو آگے آنا ہوگا،

تاکہ خاکروبوں کے بچوں کو خاکروب بننے سے روکا جا سکے ، انہیں تعلیم یافتہ بنا کر پاکستان کے بہتر مستقبل میں حصہ دار بنایا جائے آخر وہ بھی انسان ہیں ، دوسرے ملک کی انتظامیہ ہمارے ملک میں تعلیم دینا چاہتی ہے اور ہم انہیں بدبو دار ماحول دے کر آخر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم پاکستان کو چاہیئے کہ وہ بشپ افتخار جیسے محب وطن کو وطن عزیز میں تحفظ مہیا کریں، تاکہ وہ پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار بغیر کسی ڈر اور خوف کے نبھا سکے ۔

مزید :

رائے -کالم -