سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے: صنعتی و تجارتی رہنما

سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے: صنعتی و تجارتی رہنما

کراچی (رپورٹ / غلام مرتضی) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے، ملک کی معیشت پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار کراچی کے تاجروں اور صنعتکاروں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔ روزنامہ پاکستان گفتگو کرتے ہوئے ہوٹلنگ سے تعلق رکھنے وا لے معروف بزنس مین بہرام آواری نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ پاکستان سے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے وفد میں سعودی عرب کے معروف تاجر اور سرمایہ کار بھی آرہے ہیں ۔ توقع یہ کی جارہی ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے دورے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ کہ چین میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ محمد بن سلمان کا امریکہ کی جانب زیادہ جھکاؤ ہے، لہگا اس دورے سے یہ تاثر زائل ہوجائے گا اور چین سی پیک پر بلا ہچکچاہٹ سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ توقع کی جارہی ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں ہیلتھ ٹورازم کے بزنس کو تقویت ملے گی اور پاکستان میں بھی بھارت کی طرز پر علاج و معالجے کی سہولیات دستیاب ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کررہے ہیں کہ اس دورے کے نتیجے میں ملکی معیشت مستحکم ہو اور روزگار کے مواقع دستیاب ہوں ۔ معروف صنعتکار اور تاجر رہنما جاوید بلونی نے کہا کہ پاکستان کی سعودی عرب سے کی جانے والی درآمدات کاحجم 3 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی جانے والی برآمدات کا حجم صرف 330 ملین ڈالر ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے یعنی صرف آدھا آرب ڈالر اس حوالے سے سعودی عرب کو آمادہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ پاکستان سے ز یادہ سے زیادہ درآمد کرے تاکہ پاکستان کو زرمبادلہ کمانے کا موقع ملے۔ انہوں نے کہا سعودی عرب ٹیکسٹائل کے شعبے میں دنیا بھر سے 350 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کرتا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب سے ٹیکسٹائل کے حوالے سے مراعات مانگے ۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی لیبرز کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں کام کرتی ہے اور ترسیلات زر کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب سے آتا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب سے پاکستانی مزدوروں کے سہولیات دینے کے حوالے سے بات کرے تاکہ سعودی عرب سے آنے والی ترسیلات زر میں جو حالیہ کمی واقع ہوئی ہے، اس میں بہتری لائی جاسکے۔ کاٹی کے چیئرمین دانش خان نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے 16 سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی عرب سے سرمایہ کاری کے حوالے سے مفاہمت کی جن یاداشتوں پر دستخط کئے جائیں ان پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر کے واقعہ کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کی جاسکتی ہیں ایسے وقت میں سعودی ولید عہد کا دورہ پاکستان انتہائی حوش آئند ہے۔ سی این جی اسٹیشن اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے کہا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان پاک سعودی تعلقات کو م زید بہتر بنانے کے لیے ایک اچھی پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا خواہاں ہے۔ لیکن اسے آئی ایم ایف کی طرف کوئی ایسی پابندی نہیں لگانی چاہیے جس کو پاکستان پورا نہ کرسکے۔ کے سی سی آئی کے سابق صدر سعید شفیق نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے ملکی معیشت میں وقتی طور پر بہتری آئے گی اگر 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی تو ظاہر ہے ڈالر مستحکم ہوگا جو ایک اچھی بات ہے۔ اس سے بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب نہر سوئس بنائی گئی تھی تو یہ کہا جاتا تھا کہ معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوا اسی طرح سی پیک سے بھی اسی طرح کی توقعات وابستہ کی جارہی ہیں، اس سے بھی صرف وقتی ریلیف ملے گا کیونکہ جب تک کرپشن کا خاتمہ عدالتی نطام میں بہتری نہیں ہوگی ، پاکستان معاشی استحکام کی جانب گامزن نہیں ہوسکتا ہے۔ قوم کی بے ساکھیوں پر کھڑا کرنے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوگا

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...