”سعودی عرب کے اپنے معاشی حالات اچھے نہیں جبکہ ہمارامجبوری کا عالم ۔۔۔ “ایاز امیرکے بیباک تجزیے پر حکومت بھی سوچنے پر مجبور ہوجائیگی

”سعودی عرب کے اپنے معاشی حالات اچھے نہیں جبکہ ہمارامجبوری کا عالم ۔۔۔ “ایاز ...
”سعودی عرب کے اپنے معاشی حالات اچھے نہیں جبکہ ہمارامجبوری کا عالم ۔۔۔ “ایاز امیرکے بیباک تجزیے پر حکومت بھی سوچنے پر مجبور ہوجائیگی

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) تجزیہ کار ایاز امیرنے کہاہے کہ سعودی عرب کے اپنے معاشی حالات اچھے نہیں ہیں ، یمن ان کے لئے درد سر بنا ہوا ہے لیکن ہمارامجبوری کا عالم بہت زیادہ ہے ، اس لئے ہم سعودی ولی عہد کے دورے پر اوور بورڈ ہورہے ہیں، ہمیں تھوڑا متوازن ہوکر رہنا چاہئے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”تھنک ٹینک“ میں گفتگو کرتے ہوئے ایاز امیر نے کہا کہ پلوامہ میں جوحملہ ہواہے یہ کوئی چھوٹا واقعہ نہیں ہے ، بھارتی دباﺅ کی وجہ سے کشمیر میں خود کش حملہ آور پیدا ہورہے ہیں ، عادل کی ماں نے کہا کہ بھارتی فوج کے تشدد کی وجہ سے عادل گھرسے بھاگ گیا ، ہم نے اس کی تلاش کی وہ نہ ملا اور پھر یہ واقعہ ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ 1965میں جب پاکستان سے گوریلا مقبوضہ کشمیر میں گئے تو ہم نے پوری کوشش کی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں بغاوت کی آگ بھڑکے لیکن یہ کوشش ناکام رہی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ اب کشمیریوں میں اتنی ہمت کیسی آگئی کہ گولیاں چل رہی ہیں اور کشمیری فدائی بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کااپنا کٹھ پتلی فاروق عبد اللہ بھی غصے میں آگیا اور اس نے کہا کہ کشمیر میں جاکر پوچھا جائے کہ وہ یہ کیوں کررہے ہیں؟ان کا کہناتھا کہ فدائی بننا کوئی آسان کام نہیں ہے کہ بندہ اپنی جان پر کھیل جائے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور ایران کوآپس میں ملایا نہیں جا سکتا ، ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں زک پہنچائی جاتی ہے ،اس کو آپس میں ملانا نہیں چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے اپنے معاشی حالات اچھے نہیں ہیں ، یمن ان کے لئے درد سر بنا ہوا ہے لیکن ہمارامجبوری کا عالم بہت زیادہ ہے ، اس لئے ہم اوور بورڈ ہورہے ہیں، ہمیں تھوڑا متوازن ہوکر رہنا چاہئے ۔

مزید : قومی


loading...