آرٹیکل6کا رولا!

آرٹیکل6کا رولا!
آرٹیکل6کا رولا!

  

بات وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے شروع کی، وہ خود وکیل ہیں، اس لحاظ سے آئین اور قانون کو بہتر طور پر سمجھتے بھی ہیں،اِس لئے ان کے پاس دلیل بھی ہو گی۔ فواد چودھری نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن کے خلاف آئین کے آرٹیکل6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلنا چاہئے۔یہ انہوں نے مولانا کے ایک بیان کی روشنی میں کہا، جو مولانا نے لاہور میں دیا۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی وہ راز بتا ہی دیں کہ چودھری برادران نے دھرنا ختم کرانے کے لئے کیا یقین دہانی کرائی تھی؟میڈیا سے اسی گفتگو کے دوران مولانا نے خود بھی کہا ہے کہ ان کو یقین دلایا گیا کہ استعفےٰ ہو جائے گا اور تین ماہ کے اندر انتخابات بھی ہوں گے۔انہوں نے اپنے اس بیان کی کوئی وضاحت بھی نہیں کی تھی اور بال چودھری برادران کی کورٹ میں پھینک دی تھی، جنہوں نے اس معاملے میں چُپ سادھ لی، حالانکہ خود چودھری پرویز الٰہی پہلے کہہ چکے تھے کہ مولانا سے جو بھی بات ہوئی وہ راز ہے اور وقت آنے پر بتا دیا جائے گا،مگر لاہور میں مولانا نے بات کی تو اسی دوران چودھری برادران کے حکومتی امور والے تحفظات کے حوالے سے سرکاری کمیٹی سے بات بھی چل رہی تھی، ان کی میڈیا سے بات بھی ہوئی، لیکن اس حوالے سے کوئی لفظ نہ کہا گیا، اسی بیان کے حوالے سے فواد چودھری نے آرٹیکل 6کی بات کی،جس کے تحت واحد مقدمہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف بنا اور وہ دبئی میں تشریف فرما ہیں۔فواد چودھری اور حکومت اس سلسلے میں دوسرا موقف رکھتے ہیں،ان کے مطابق پیروی نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہوئی،لیکن اب مولانا کو دھرنے اور وعدے کی بناء پر کٹہرے میں لانا ضروری جانا جا رہا ہے کہ اب خود وزیراعظم عمران خان نے بھی کہہ دیا کہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف آرٹیکل6کے تحت کارروائی ہونا چاہئے کہ وہ بتائیں کہ وہ کس کے کہنے پر حکومت گرانے آئے تھے……؟

وزیراعظم عمران خان نے اپنی اس گفتگو کے دوران جب دوسری باتیں کیں تو انہوں نے خود ہی اشارے دیئے، وہ کہتے ہیں: ”مَیں نہ کرپٹ ہوں، اور نہ کرپشن کا حامی، مَیں اپنے گھر میں رہتا اور اپنی تنخواہ میں گذر کرتا ہوں، میرا اور میرے خاندان کا کوئی کاروبار نہیں، مَیں کام کرتا ہوں اور چھٹی بھی نہیں کرتا، فوج کی ایجنسیاں سب جانتی ہیں کہ کون کیا کرتاہے، اس لئے مجھے کوئی ڈر نہیں، حکومت اور فوج کے تعلقات بہت اچھے ہیں“ اگر ہر دو باتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو بات واضح بھی ہو جاتی ہے کہ وزیراعظم اور فواد چودھری کی آرٹیکل6 کے مقدمہ سے کیا مراد ہے۔ یوں کوئی اور کہے یا نہ کہے، ادھر سے ابہام پیدا کیا گیا۔ بہرحال اب قوم منتظر ہے کہ ہماری ملکی سیاست میں ایسا موڑ بھی آ ہی جائے کہ سیاسی رہنما بھی آرٹیکل6 کے تحت جواب دہ ہوں، یہ بات ہو رہی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے خواجہ آصف نے بھی کہا ہے کہ ایف آئی اے ان کے خلاف غداری کے الزام میں آرٹیکل6کے تحت تحقیقات کر رہی ہے، یہ سب اپنی جگہ لیکن قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر مملکت پارلیمانی امور کہتے ہیں: ”حکومت کسی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ نہیں بنا رہی،البتہ مولانا فضل الرحمن کو اپنے بیان کی وضاحت کرنا چاہئے“۔ اب یہ سب سامنے ہے تو فکر ہر کس ناقص والی بات ہے ہم بطور قوم غور کرنے پر مجبور ہیں کہ مجموعی طور پر ہم کدھر جا رہے ہیں؟

ہم ہمیشہ سے یہ بات کہتے چلے آ رہے ہیں کہ ملکی حالات(اندرونی+بیرونی) متقاضی ہیں کہ یہاں سیاسی استحکام پیدا ہو، جو کم از کم نکات پر قومی اتفاق رائے ہی سے ممکن ہے جس کا مظاہرہ قومی اسمبلی میں ہو چکا اور اب پارلیمینٹ کے حالیہ مشترکہ اجلاس کے موقع پر بھی ہوا، جب اپوزیشن نے بھی ترک صدر کی آمد کا بھرپور خیر مقدم کیا اور اجلاس میں شرکت کی،ان کے تین سال پہلے والے خطاب کی صورت نہ پیدا ہونے دی، جب تحریک انصاف نے بوجوہ بائیکاٹ کر دیا تھا۔بہرحال گذشتہ روز قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان اور اپوزیشن نے وزیراعظم کے بیان پر احتجاج بھی کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن تو اب پھر سے احتجاجی تحریک کا اعلان کر چکے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) مہنگائی پر احتجاج کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے طور پر احتجاج ہی کا اعلان کر دیا ہے اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھی تحریک چلانے جا رہے ہیں۔

ان حالات میں اس ماہ کا تیسرا عشرہ اور اگلا مہینہ(مارچ) ملک کے اندر سیاسی ہنگامہ آرائی دیکھنے جا رہا ہے اور اس کے لئے موضوع مہنگائی ہے،جو ہر شہری کو چھو چکی اور پوری قوم پریشان ہے، جبکہ کنٹرول لائن اور افغان سرحد پر اطمینان نہیں، اور اب ترک صدر کے دورے سے خوشی اور اطمینان کے بعد تشویش کی اطلاع ہے کہ سعودی حکومت نے مملکت میں مقیم پاکستانیوں کوگرفتار کرنا شروع کر دیا ہے، جس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی۔ چین میں کرونا وائرس کی وبا اور وہاں پھنسے پاکستانیوں کے لواحقین پہلے ہی تشویش میں مبتلا ہیں کہ اب یہ خبر آ گئی ہے، شہریوں نے حکومت سے صورتِ حال کو سنبھالنے کا مطالبہ کیا ہے……بات طویل اور دلائل بھی بہت ہیں،لیکن وزیراعظم عمران خان کے ٹھوس لہجے اور گفتگو سے یہ اندازہ ہوا ہے کہ وہ کسی سیاسی مخالف سے بات کرنے کے روا دار نہیں اور ان کے اندر لچک نہیں ہے،سیاست میں بہرحال ایسا نہیں ہوتا اور یہ ناممکن ہے کہ آپ کے تمام سیاسی مخالف اور جماعتیں ختم ہو جائیں اور صرف آپ اور آپ کے اتحادی ہی رہ جائیں، جن کے آپ تحفظات بھی دور کر دیتے ہیں،اور یہ سب آپ کی نظر میں دیانت اور امانت میں یکتا ہیں کہ آپ نے تو تحقیقات والی رپورٹ واپس بھیج کر بھی کہہ دیا کہ گندم،چینی والے معاملہ میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کا کوئی کردار نہیں۔بہرحال جو بھی ہے، سب سامنے ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انتظامی اقدامات سے سیاسی جماعتوں کا وجود ختم نہیں ہوتا۔

مزید :

رائے -کالم -