کیونکہ ”سکون صرف قبر میں ہے“

کیونکہ ”سکون صرف قبر میں ہے“
کیونکہ ”سکون صرف قبر میں ہے“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تمام ٹی وی چینلوں پر (ماسوائے حکومتی چینل کے) 24 گھنٹے "بریکنگ نیوز" چلتی رہتی ہیں۔کبھی سیلاب کی تباہ کاریاں، کبھی کرکٹ میں میچ فکسنگ، کبھی خود کش بم دھماکے، کبھی حکومت ٹوٹنے کی افواہیں، کبھی ٹڈی دل کی بھرمار،کبھی بجلی کا بحران تو کبھی پٹرول اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ وغیرہ۔ بہت ہی بدنصیب ملک کے بدنصیب باسی ہیں ہم،کیوں نہ ہوں، ہمارے لچھن ہیں ہی کچھ ایسے…… کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کئی پیغمبروں کی قومیں تو صرف ایک گناہ یا برائی کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں …… مثلاًحضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کم تولنے پر، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم حکم عدولی کرنے پر اور حضرت لوط کی قوم ہم جنس پرستی جیسے گھٹاؤنے جرم کے نام پر اور ایک ہم ہیں کہ وہ کون سی قبیح برائی ہے جو نہ صرف یہ کہ ہم میں من حیث القوم موجود نہیں، بلکہ عروج پر ہے اور کھلم کھلا، بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر ہورہی ہے۔ مثلاً قتل،رشوت،زنا،ذخیرہ اندوزی، اغوا برائے تاوان، جھوٹ اور خیانت وغیرہ …… پھر بھی ہم اللہ سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم پر رحمت نچھاور کرے گا۔یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک نوکر قدم قدم پر اپنے مالک کی حکم عدولی کرے ،پھر اس سے یہ امید رکھے کہ اس کا مالک اس کی ماہانہ تنخواہ میں اضافہ کرے گا یا اسے مراعات سے نوازے گا۔


مندرجہ بالا برائیاں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے زمرے میں آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ میں شاید اپنے حقوق تو معاف کر دوں،مگر حقوق العباد معاف نہیں کروں گا۔ غیر مسلم ممالک میں حقوق اللہ کی پامالی تو ظاہری بات ہے،مگر وہ قومیں حقوق العباد کو حقوق اللہ سے بھی زیادہ کا درجہ دیتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان پر ہمارے مقابلے میں اللہ کی رحمتیں زیادہ برس رہی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ہی کی پامالی کے مرتکب ہو رہے ہیں، پھر بھی اس سے رحمت کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔شاید یہ مثال میرا نقطہء نظر قارئین تک پہنچانے میں مدد گار ثابت ہو کہ حضرت موسیٰ(علیہ السلام) کی قوم سخت قحط کا شکار ہو گئی،جب حالات برداشت سے باہر ہوگئے تو آپ کی قوم نے آپ سے اللہ کی مدد کی درخواست کی۔موسیٰ(علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی کہ اللہ فصلیں اجڑ گئیں، مویشی ہلاک ہوگئے،اب تو فاقوں اور بھوک سے بچے بھی ہلاک ہونا شروع ہوگئے ہیں، اپنا فضل فرما اور باران رحمت برسا، اللہ نے فرمایا اے موسیٰ تیری قوم میں ایک ایسا بدکار شخص موجود ہے جس کی بداعمالیوں کی وجہ سے یہ عذاب تیری قوم پر نازل ہوا ہے، جب تک یہ شخص تیری قوم سے نہیں نکلے گا، میری رحمت نہیں برسے گی۔


حضرت موسیٰ(علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اکٹھا کیا اور اللہ کا فرمان سنایا کہ وہ شخص فوری طور پر باہر نکل جائے اور اپنی قوم کی مزید تباہی کا باعث نہ بنے قریب ہی موجود بدکار شخص نے جب یہ سنا تو اس کے ہوش اڑ گئے، وہ بدکار سوچنے لگا کہ میرے ماں باپ،میری اولاد، میرے پڑوسی اور میرے دوست احباب جو مجھے نہایت پارسا سمجھتے ہیں، انہیں جب علم ہوگا کہ یہ عذاب میری بداعمالیوں کی وجہ سے نازل ہوا ہے تو وہ کیا سوچیں گے؟ اس عالم میں اس شخص نے اللہ سے گڑگڑا کر معافی کی درخواست کی، اسی اثنا میں بارش برسنا شروع ہوگئی۔ حضرت موسیٰ نے بعد میں دبے لفظوں میں اللہ سے شکوہ کیا کہ ابھی تو مَیں قوم کو آپ کا پیغام پہنچا ہی رہا تھا کہ آپ نے بارش برسادی۔ اللہ نے فرمایا: ”اے موسیٰ تو نے اس شخص کا گڑ گڑانا اور اظہار ندامت نہیں دیکھا۔ اس سے میری رحمت جوش میں آگئی اور مَیں نے بارش برسادی۔ حضرت موسیٰ نے اللہ سے اس شخص کی شناخت دریافت کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ جب وہ شخص میرا نہیں تھا تو مَیں نے اس وقت بھی اس کا عیب ظاہر نہیں ہونے دیا اور جبکہ اب وہ میرا ہو چکا ہے تو مَیں کیسے اس کا نام ظاہر کردوں؟……حضرت موسیٰ نے پھر پوچھا کہ اے مالک تیرے عذاب کی نشانیاں کیا ہیں۔


اللہ نے فرمایا تین نشانیاں ہیں،
1- پہلی یہ کہ جب تم کو بارش کی شدید ضرورت ہوتی ہے تو مَیں بارش روک لیتا ہوں۔
2- دوسری جب تمہیں بارش کی ضرورت نہیں ہوتی تو مَیں بے تحاشہ مینہ برسا دیتا ہوں۔
3- اور تیسری یہ کہ تمہارے اوپر نااہل حکمران مسلط کر دیتا ہوں۔
اور شاید آج کل ہم پر تینوں عذاب مسلط ہیں،بالخصوص تیسرا عذاب کہ ہم پر نا اہل حکمران مسلط ہیں،جن کا کام سوائے اس کے کہ عوام کو یقین دلایا جائے ”سکون صرف قبر میں ہے“ کے سوا کچھ اور نہیں۔یہ ”سبز باغ“ نہیں تو اور کیا ہے؟ غالب امکان ہے کہ موجودہ حکومت کے مخالفین اس تحریر سے اتفاق کریں گے اور لطف اندوز ہوں، مگر مَیں معذرت کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس میں موجودہ حکومت کا کوئی قصور نہیں ……!یہ صرف اور صرف آپ کی اور ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہے،کہ یہ حکومت ہم پر نازل کی گئی ہے،لیکن کاش اللہ اس نااہل حکومت کا عرصہء حکمرانی بھی بتا دیتا کیونکہ قوم کو اسے بھگتتے ہوئے پہلے ہی ڈیڑھ سال کا عرصہ تو ہو چلا ہے۔
ذرا سمجھنے کی بات ہے،کسی نے بھی کیا خوب کہا ہے:
نئے کردار آتے جا رہے ہیں
مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے

مزید :

رائے -کالم -