ایس ایس پی مفخر عدیل اور ان کے دوست ایڈووکیٹ شہباز احمدتتلہ کے پرسرار طور پر اغوا ہونے کی اندارونی کہانی سامنے آگئی

ایس ایس پی مفخر عدیل اور ان کے دوست ایڈووکیٹ شہباز احمدتتلہ کے پرسرار طور پر ...
ایس ایس پی مفخر عدیل اور ان کے دوست ایڈووکیٹ شہباز احمدتتلہ کے پرسرار طور پر اغوا ہونے کی اندارونی کہانی سامنے آگئی

  



لاہور(یونس باٹھ)روز نامہ پاکستان نے ایس ایس پی مفخر عدیل اور ان کے دوست ایڈووکیٹ شہباز احمدتتلہ کے پرسرار طور پر اغوا ہونے کی اندارونی کہانی کا کھوج لگا لیا۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق 11اور12فروری کو ایڈووکیٹ شہبازاحمدتتلہ ایک”م“نامی ایم پی اے کے ساتھ اسی کی گاڑی پر موٹروے کے راستے اسلام آباد سے لاہور پہنچا، موٹروے سے واپسی پر شہباز احمدتتلہ نے ایس ایس پی مفخر عدیل سے موبائل فون پر بات کی کہ وہ انکے آفس کلمہ چوک میں پہنچیں، شہبازاحمدتتلہ”م“ نامی ایم پی اے کی رہائش گاہ ای ایم ای سوسائٹی گئے جہاں ایم پی اے اپنے گھر اتر گئے جبکہ شہباز احمدتتلہ ایم پی اے کی گاڑی پر ڈرائیور کے ساتھ اپنے آفس کلمہ چوک پہنچ گئے جہاں ایس ایس پی مفخر عدیل بھی پہنچ گئے۔

ایڈووکیٹ شہبازاحمدتتلہ اپنا موبائل فون اور پرس آفس میں چھوڑ کر مفخر عدیل کے ساتھ نکل گئے اور گاڑی میں بیٹھ کر مفخرعدیل سے ”گولی“ دینے کا کہا جس پر دونوں گاڑی میں بیٹھ کر فیصل ٹاو¿ن میں لئے کرائے کے گھر پہنچ گئے۔ مفخرعدیل نے لاپتہ ہونے سے قبل اپنے ایک اور دوست کو میسج کیا کہ وہ ایک مشن پر جا رہا ہے جس کی تفصیل وہ کسی کو نہیں بتا سکتا۔ ذرائع کے مطابق ایڈووکیٹ شہباز احمدتتلہ کے مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے اچھے تعلقات تھے جو وہ ایس ایس پی مفخر عدیل کی اہم سیٹوں پر تعیناتیوں کے لئے بھی استعمال کرتا تھا۔

دونوں اسلام آباد اور لاہور میں مختلف ”پارٹیاں“ کثرت سے اکٹھے اٹینڈ کرتے تھے۔ فیصل ٹائون گھر میں دونوں نے اکٹھے آخری پارٹی اٹینڈ کی جہاں منشیات کی مقدار کثرت سے استعمال کرنے کے بعد کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوگیا جس کے بعد دونوں منظر عام سے غائب ہو گئے۔ پولیس کی جانب سے دونوں کے موبائل فونز کی کال ہسٹری بھی حاصل کر لی گئی ہے مگر کوئی کامیابی نہ مل سکی جبکہ متعدد افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کئے گئے ہیں جبکہ حساس ادارے کی ٹیمیں بھی دونوں کا سراغ لگانے میں مصروف عمل ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور