سی سی پی او پشاور عباس احسن  کا ضلع خیبر کا خصوصی دورہ

سی سی پی او پشاور عباس احسن  کا ضلع خیبر کا خصوصی دورہ

  

پشاور (کرائم رپورٹر) کپیٹل سٹی پولیس آفیسر عباس احسن نے گزشتہ روز ضلع خیبر کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈی پی او ضلع خیبر ڈاکٹر محمد اقبال اور دیگر اداروں کے افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سی سی پی او عباس احسن نے خصوصی دورہ کے دوران لنڈیکوتل،مچنی، خیبررائفلز آفیسر میس اورتورخم بارڈر میں تمام تر سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا، اس موقع پر ڈی پی او خیبر ڈاکٹر محمد اقبال نے سی سی پی او کو لنڈی کوتل اور تورخم کی باریخی مقامات کے حوالے سے اگاہ کیا۔تورخم بارڈر خیبر رائفلز کی آمد پر سی سی پی او عباس احسن نے ایف سی آفسران کیساتھ ملاقات کی ہے جس کے دوران مختلف اداروں کی کارکردگی،آمد و رفت، دونوں طرفہ باہمی تعلقات اور سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے سی سی پی او عباس احسن کو تفصیلی بریفنگ دی۔ بعد ازاں سی سی پی او نے لنڈی کوتل تھانے کا دورہ کے دوران ریکارڈ،بلڈنگ کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس افسران و اہلکاروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد تیزی کے ساتھ پولیس نظام و دفاتر کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ قبائلی عوام کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔انہوں نے علاقہ کے رسم و رواج کا خیال رکھنے کیساتھ ساتھ شہریوں کیساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی بھی ہدایت کی۔  دورے کے دوران ڈی پی او خیبر ڈاکٹر محمد اقبال نے سی سی پی او عباس احسن کو ضلع خیبر کے عوام کی رسم و رواج اور ان کی تحفظ کیلئے عملی طور پر اٹھائیں گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ سی سی پی او نے پولیس افسران و اہلکاروں کو علاقہ کی رسم و رواج کا خیال رکھنے کی بھی سختی سے تاکید کی اور کہا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں اصلاحات کا عمل لائق تحسین ہے جس سے علاقہ میں ترقی کے ایک نئے دورکا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس پوری طرح مستعد ہے اورامن و امان کے قیام کی خاطر تمام وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔سی سی پی اوعباس احسن نے سیکیورٹی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس حقیقی معنوں میں خادم ہے جو عوام کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر تمام تر توانائیاں بروئے کار لا رہی ہے۔ بعد ازاں سی سی پی او نے لنڈی کوتل،بیگیاڑی مچنی کے مختلف علاقوں اور شاہ کس روڈ کا دورہ کرتے ہوئے سیکیورٹی انتظامات کا ازخود جائزہ لیا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -