پشاور، قائمہ کمیٹی برائے کھیل وثقافت اور امور نوجوانان کا اجلاس 

پشاور، قائمہ کمیٹی برائے کھیل وثقافت اور امور نوجوانان کا اجلاس 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل، ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ، امور نوجونان اور عجائب گھر کا اجلاس بروز پیر اسمبلی کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔کمیٹی کے چیئرمین و ممبر صوبائی اسمبلی محمد ادریس نے اجلاس کی صدارت کی۔اراکین صوبائیِ اسمبلی محمد فہیم، زبیر خان، ھدایت الرحمان، سردار حسین بابک، سردار خان، سمیہ بی بی، مومینہ باسط، ساجدہ حنیف، صوبیہ شاھد اور سمیرہ شمس کے علاوہ سیکرٹری سپورٹس اینڈ کلچر عابد مجید اور دیگر متعلقہ انتظامی افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ااس موقع پر مذکورہ محکموں کے جاری کردہ منصوبوں، نئے اہداف و درپیش مسائل کے بارے شرکاءِ اجلاس کو تفصیلات سے اگاہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران کرک، کوہاٹ، رستم مردان، سوات، ضلع ٹانک، لکی مروت، چترال اور پیر سباق نوشہرہ میں سپورٹس کملیکس تعمیر کرانے سمیت قبائلی اضلاع میں 30 کثیرالمقاصد کھیل کے مراکز کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے ت تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔اجلاس میں ارباب نیاز سٹیڈیم پشاور کی مزید بہتری و فعالیت، حیات آباد سپورٹس کمپلیکس اور قیوم سٹیڈیم پشاور کی اپگریڈیشن سمیت خیبر پختونخوا کے57 مختلف مقامات پر کھیل کے میدان بنانے جبکہ خواتین کیلئے 7 جمنازیم  سنٹرز تعمیر کرنے کیساتھ ساتھ صوبہ بھر میں 1000 سپورٹس فیسیلیٹیشنز سنٹرز کے قیام بارے بھی تفصیلی بحث ہوئی ِ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مردان، تخت سلیمانی اور شیخ بدین ڈیرہ اسمعیل خان، گرم چشمہ چترال اور ضلع کرم کے چپری اور شلاوزان میں سیاحتی ریزورٹ کی تعمیرات پر بات چیت سمیت محکمہ ثقافت کے جاری و نئی شروع ہونے والے منصوبے بھی زیر بحث آئے۔اجلاس میں محکمہ امورِ نوجوانان کے حوالے سے جوان مراکز تعمیر کروانے، سمال سکیل ایکٹیوٹیز اینڈ سپانسرشپ منصوبوں کے علاوہ ضم شدہ  قبائلی اضلاع میں نوجوانوں کی بحالی و ترقی کے منصوبوں سمیت ان کیلئے سود سے پاک قرضہ جات دلوانے کے پروگرامز پر بھی بحث ہوئی۔اجلاس کے موقع پر محکمہ اثار قدیمہ اور عجائب گھر کے جاری ونئے شروع ہونے والے منصوبوں کے بارے بریفنگ پر شرکا ء اجلاس نے اطمنان کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں و امور بارے میں اسمبلی فلور پر اٹھائے گئے سوالات و تحفظات کی روشنی میں بھی تفصیلی بحث کی۔ جس پر انتظامی افسران نے کمیٹی ممبران کے سوالات و موقف بارے میں ان کو اعتماد میں لیا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -