سی پیک اور چینی قرضوں کے خلاف پروپیگنڈہ بے نقاب

سی پیک اور چینی قرضوں کے خلاف پروپیگنڈہ بے نقاب

  

امریکی میگزین ”دی اٹلانٹک“ نے چینی قرضوں کے جال کے نعرے کو افسانہ اور پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔ عالمی سازشوں اور مشکلات کے باوجود سی پیک نئی قوت، کامیابیوں اور سرمایہ کاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ میگزین نے لکھا ہے گزشتہ برس حقائق چھپانے اور ابہام پیدا کرنے کے لئے افواہوں کی گرد اڑائی گئی قرضوں کے جال، سی پیک کی رفتار اور چینی سرمایہ کاروں کی واپسی جیسی گمراہ کن اطلاعات پھیلانے کی مذموم کوششیں کی گئیں۔ قرضوں کے جال کے نعرے کا مقصد سرمایہ کاری کا راستہ روکنا تھا اور اسے سب سے پہلے سری لنکا میں استعمال کیا گیا۔ سری لنکن انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کی پروفیسر سیسراجیا سوریا کے مطابق ان کے ملک کے قرضوں میں چین کا حصہ 10فیصد ہے مزید براں اس 10فیصد قرض میں سے 60فیصد سے زیادہ محض 2فیصد سود پر ہے انہوں نے مزید لکھا کہ یہ افسانہ ہے کہ سری لنکا کو اپنی ایک بندرگاہ چین کے حوالے کرنا پڑی۔محض کہانی گھڑی گئی کہ واجبات کی عدم ادائیگی پر چینی قرضوں نے لنکن بندرگاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔جھوٹی اطلاعات کو پاکستان کے قرضوں، مالی بحران اور اس کے غیر محفوظ زرمبادلہ کے ذخائر کی تشہیر کرکے خوف پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا  رہا ہے۔ سی پیک کو بدنام کرنے کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ میگزین میں کہا گیا کہ چینی بینک موجودہ قرضوں کی شرائط کی تنظیم نو پر راضی ہیں انہوں نے کسی ملک سے کبھی کوئی اثاثہ حاصل نہیں کیا۔ امریکہ کے ایک اور روزنامے میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان متعدد عالمی اداروں کا مقروض ہے لیکن پروپیگنڈہ مہم کی توجہ چینی سرمایہ کاری پر مرکوز تھی۔

جب سے سی پیک کا آغاز ہوا ہے اس کے خلاف عالمی پروپیگنڈے کی ایک بھرپور مہم تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ تو براہ راست اس کے خلاف بیان جاری کر چکے تھے اور اندر خانے یہ کوششیں بھی کی جا رہی تھیں کہ کسی نہ کسی طرح سی پیک پر کام رکوا دیا جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کام کی رفتار سست کرا دی جائے۔ جب پاکستان نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا تو یہ پروپیگنڈہ بھی کیا گیا کہ یہ قرضہ چینی قرضہ واپس کرنے کے لئے استعمال کئے جانے کا خدشہ ہے، چنانچہ بیان داغ دیا گیا کہ یہ چینی قرضہ واپس کرنے کے لئے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔ حالانکہ دلچسپ بات یہ تھی کہ جب آئی ایم ایف سے قرضے کی بات چیت چل رہی تھی اس وقت تک ابھی چینی قرضے کی واپسی کا عمل شروع بھی نہیں ہوا تھا پھر یہ پروپیگنڈہ بھی کیا گیا کہ چینی قرضے بھاری شرح سود پر لئے جا رہے ہیں اس کی خود چینی حکومت نے تردید کی اور تفصیل کے ساتھ بتایا کہ کن قرضوں پر شرح سود کیا ہے اور سی پیک پر چینی سرمایہ کاری کتنی ہے اور بینکوں کا قرض کتنا، پھریہ پروپیگنڈہ بھی کیا گیا کہ ملتان کا میٹرو بس منصوبہ مکمل کرنے والی کمپنی نے رشوت دی اس الزام کی بھی چینی حکام نے تردید کر دی اور اس الزام تراشی میں ملوث چینی کمپنی کے ملازموں کے خلاف کارروائی بھی کی۔ یہ چند مثالیں ہم نے اس لئے پیش کی ہیں کہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان کس حد تک اٹھایا گیا اور سی پیک کی تعمیر رکوانے کے لئے کیا کیا جتن کئے گئے۔ سرمایہ کاری اور قرضوں کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ تو رہا اپنی جگہ، سی پیک کے منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئروں اور ماہرین کو اغوا تک کیا گیا۔ بلوچستان میں سات سندھی مزدوروں کو قتل کر دیا گیا جو سندھ سے مزدوری کے لئے بلوچستان آئے ہوئے تھے۔ ایسے واقعات کے بعد پاکستان کو سیکیورٹی بھی سخت کرنا پڑی۔ تشدد کی ان وارداتوں میں بھارت کا ہاتھ صاف طور پر نظر آتا ہے جس نے سی پیک کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان اٹھانے میں ہر طرح کی معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی بھی کی کہ چینی انجینئر خوفزدہ ہو کر واپس چلے جائیں۔ ریلوے کا ایم ایل منصوبہ اگر سست روی کا شکار ہے تو اس کے پس منظر میں بھی منفی پروپیگنڈہ کار فرما دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی میگزین نے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان کئی عالمی اداروں کا مقروض ہے ان قرضوں کے بارے میں تو کبھی کسی نے پروپیگنڈہ نہیں کیا کہ یہ کن شرائط اور کس شرح سود پر لئے گئے لیکن چینی قرضوں کے بارے میں خصوصی طور پر یہ مہم چلائی گئی کہ یہ بہت زیادہ شرح سود پر لئے گئے ہیں اور پاکستان اتنے مہنگے قرضے واپس نہیں کر سکے گا تو چینی کمپنیاں اس کے اثاثوں پر قبضہ کر لیں گی، چین کو ”نئی ایسٹ انڈیا کمپنی“ کہنے والے بھی پاکستان کے اندر موجود ہیں اور ایسے بھی ہیں جن کے ذہنِ رسا نے یہ تجویز دی کہ سی پیک کے منصوبے کچھ عرصے کے لئے منجمد کر دیئے جائیں۔ حالانکہ بجلی پیدا کرنے کے جو منصوبے تیز رفتاری کے ساتھ مکمل ہوئے انہی کی وجہ سے انرجی کا بحران ختم ہوا اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوا ان منصوبوں کے بارے میں بھی پروپیگنڈہ کیا گیا۔ چینی حکومت اور سی پیک اتھارٹی کی بار بار کی وضاحتوں کے باوجود یہ طوفان تھم نہیں سکا لیکن امریکی میگزین نے  معاملے سے پردہ اس طرح اٹھا دیا ہے کہ سارے حجاب ہی اٹھ گئے ہیں، سری لنکا کی بندرگاہ قبضے میں لینے کا افسانہ بھی بے نقاب ہو گیا ہے جس کی مثالیں دی جاتی تھیں اور خود سری لنکن دانشور نے لکھ دیا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ یہ افسانہ تراشنے کا مقصد پاکستان کو ڈرانا تھا اور اس کے پس منظر میں یہ منصوبہ کار فرما تھا کہ کسی نہ کسی طرح سی پیک پر کام رک جائے یا سست روی کا شکار ہو جائے۔ اگرچہ عالمی اخبارات و جرائد میں ایسے مضامین اب بھی شائع ہو رہے ہیں جن کا مقصد سی پیک کو نشانہ بنانا ہے اور پاکستان کا سوشل میڈیا بھی ان مضامین کی بنا پر پروپیگنڈے میں شریک ہو جاتا ہے تاہم  ”دی اٹلانٹک“ نے جس طرح سارے منصوبے سے پردہ اٹھایا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ اب بھی یہ طوفان پوری طرح تھم تو نہیں جائے گا لیکن پروپیگنڈے کے پیچھے جو عزائم کارفرما تھے۔وہ ضرور بے نقاب ہو جاتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -