شاہینوں نے ٹی 20 سیریز بھی جیت لی

شاہینوں نے ٹی 20 سیریز بھی جیت لی

  

پاکستان کرکٹ ٹیم نے تیسرا ٹی 20 میچ چار وکٹوں سے جیت کر سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی اور جنوبی افریقہ کو اپنے وطن میں ہرا کر یہ اعزاز بھی حاصل کیا کہ ٹی 20 (ٹورنامنٹ) کے سو میچ جیتنے والی پہلی ٹیم بن گئی، اس سیریز میں بھی رضوان نے ذمہ دارانہ کھیل کھیلا اور انہیں تینوں میچوں کی کارکردگی کے حوالے سے مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ کپتان بابر اعظم دونوں ٹورنامنٹوں میں آؤٹ فارم نظر آئے، تاہم یہ بہتر ہوا کہ اس میچ میں انہوں نے بھی 45 سکور کر کے جیت میں حصہ ڈالا آخری میچ دلچسپی کا حامل تھا کہ جنوبی افریقہ کے کھلاڑی جلدی جلدی آؤٹ ہوتے چلے گئے لیکن ڈیوڈ ملر نے اچھا اور جارحانہ کھیل پیش کر کے ٹیم کا سکور 164 تک پہنچا دیا، یوں وہ دفاع کرنے کے اہل ہو گئے پاکستان کی ٹیم اپنی باری پر ابتدا میں اچھا کھیل پیش نہ کر سکی۔ اوپنر حیدر علی بھی جلد آؤٹ ہو گئے فہیم اشرف، طلعت اور آصف علی بھی جم نہ سکے اور ایسا احساس ہونے لگا کہ اب ٹیم ہار جائے گی رضوان اور بابر اعظم کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کے باوجود میچ ہاتھ سے جاتا نظر آ رہا تھا لیکن محمد نواز اور حسن علی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور 18 ویں اوور ہی میں فتح ممکن بنا دی، اس میچ میں ایک اور نوجوان لیگ سپنر زاہد نے اپنے پہلے ہی میچ میں اپنا قد بڑھا لیاکہ انہوں نے اچھی باؤلنگ کر کے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔پاکستان کی ٹیم نے مدت بعد ہوم سیریز جیتی ہیں اور اب کرتا دھرتا چاہتے ہیں کہ ورلڈ کپ کے لئے بھرپور تیاری کی جائے۔ یہ فیصلہ اور توقع درست ہے تاہم موجودہ میچ اور سیریز میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ طلعت اور آصف علی کو کس بناء پر چانس دیا جاتا ہے اس میچ میں دونوں ہی سکور نہ کر سکے اور ان کو تنقید کا سامنا ہے۔ شائقین پوچھتے ہیں۔ اہم ٹورنامنٹ میں یہ حضرات کچھ بھی نہیں کر پا رہے اور پھر بھی بار بار موقع دیا جا رہا ہے کہ ہم ورلڈ کپ کی تیاریاں کر رہے ہیں، محمد حفیظ اور شعیب ملک کو شامل نہ کر کے ان کھلاڑیوں سے کیا حاصل ہوا ہے، بہر حال جیت مبارک ہو توقع ہے کہ بورڈ اب درست فیصلے کرے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -