سائیں ذرا سنبھل کے!

سائیں ذرا سنبھل کے!
سائیں ذرا سنبھل کے!

  

جب تک پاکستانی پارلیمینٹ کے ایوانِ بالا (سینٹ) کے انتخابات مکمل نہیں ہو جاتے تب تک سیاسی سوچ رکھنے والے افراد کی ہر محفل میں گفتگو اسی کے گرد گھومتی رہے گی۔ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ اس بار فرق صرف یہ ہے کہ اگر حکمران اتحاد کو متوقع نشستیں مل گئیں اور اس کو اکثریت حاصل ہو گئی تو قانون سازی کے حوالے سے مثبت تبدیلی ہو گی۔ حکومت کو قدرے آسانی ہو جائے گی تاہم آئینی ترمیم کے لئے وہ پھر بھی اپوزیشن کی محتاج ہو گی۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں اعداد و شمار کا ایسا گورکھ دھندا نہیں ہوتا جیسا سینٹ کے انتخابات میں  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات غیر متوقع نتائج سامنے آتے ہیں اس کی بڑی مثال ماضی میں کے پی کے سے پیپلزپارٹی کے دو سینٹروں کی کامیابی سے دی جاتی ہے حالانکہ ان کے صوبائی اسمبلی میں صرف چھ ارکان تھے جن کے ووٹوں سے ایک بھی سینٹر بننا مشکل تھا۔ اسی طرح گورنر پنجاب چودھری سرور کی بطور سینٹر کامیابی کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

ان کی پارٹی تحریک انصاف کے پاس مطلوبہ تعداد میں ایم پی اے نہیں تھے۔ اس وقت تک جتنے امیدوار سینٹ کے انتخابی میدان میں اتر چکے ہیں ان میں بہت سی نمایاں شخصیات شامل ہیں تاہم میڈیا کی جو توجہ سید یوسف رضا گیلانی نے حاصل کی ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ ابتدا میں جب یہ خبر سامنے آئی کہ سائیں یوسف رضا سینٹ کا الیکشن لڑنے جا رہے ہیں تو ان کے بیٹوں اور قریبی مشیروں نے اس کی سختی سے تردید کر دی۔ خود گیلانی صاحب نے بھی اس کو محض افواہ قرار دیا مگر پھر قیادت کے پر زور اصرار یا حکم پر وہ میدان میں اتر آئے اور ایسی شان سے اترے کہ کوئی دوسرا نہیں اترا۔ وہ خود وزیر اعظم رہ چکے ہیں جبکہ دو سابق وزرائے اعظم شاہد خاقان عباسی اور راجہ پرویز مشرف ان کے تجویز اور تائید کنندہ ہیں اور تینوں سابق وزرائے اعظم اکٹھے کاغذات جمع کرانے پہنچے۔ وہ اپوزیشن کے گیارہ جماعتی اتحاد تحریک جمہوریت پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار ہیں۔ ان کی امیدواری پر   وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اور سابق وزیر اعظم کو سینٹ کا الیکشن لڑنا زیب نہیں دیتا جبکہ وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا کہ یوسف رضا ہار جائیں گے انہیں مسلم لیگ (ن) ووٹ ہی نہیں دے گی۔

اس پر یوسف رضا نے اتنا ہی کہا کہ اعظم سواتی مسلم لیگ یا پی ڈی ایم کے ترجمان نہیں ہیں۔ یوسف رضا گیلانی خود اور ان کے آباؤ اجداد تقسیم ہند سے پہلے سے نسل در نسل سیاست کے کھلاڑی ہیں۔ ان کے والد سید علمدار حسین گیلانی ایوب دور میں وزیر رہے۔ یوسف رضا نے تعلیم کے مراحل طے کرنے کے بعد 1983ء میں سیاست میں قدم رکھا اور پہلے ہی معرکے میں موجودہ وفاقی وزیر سید فخر امام کو بلدیاتی الیکشن میں ہرا دیا اور خود چیئرمین ضلع کونسل ملتان بن گئے۔ 1985ء کے الیکشن میں رکن قومی اسمبلی بنے اور جونیجو کابینہ میں وفاقی وزیر بنائے گئے۔ تب وہ مسلم لیگی تھے پھر وہ پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے اور اس کی ٹکٹ پر 1988ء میں ملتان کے ایک حلقے سے میاں نوازشریف کو شکست دے کر ایم این اے بن گئے اور بے نظیر بھٹو کی حکومت میں وفاقی وزیر ریلوے بنا دیئے گئے۔ 1990ء اور 1993ء کے انتخابات میں بھی وہ ملتان سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور سپیکر قومی اسمبلی منتخب کر لئے گئے وہ پیپلزپارٹی کے مرکزی وائس چیئرمین تھے مگر سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوتے ہی غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کے لئے پیپلزپارٹی سے استعفا دیدیا اور اپوزیشن کے ارکان کے لئے حکومت سے بھی ٹکرا جاتے۔

ایک بار ملتان سے دو مسلم لیگی ارکان قومی اسمبلی حاجی محمد بوٹا مرحوم اور شیخ طاہر رشید مرحوم کو گرفتار کر لیا گیا تو گیلانی صاحب پر حکومتی دباؤ آیا کہ ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ  کئے جائیں مگر انہوں نے کہا کہ ان حلقوں کے عوام کو قومی اسمبلی میں حق نمائندگی سے محروم نہیں کیا جا سکتا چنانچہ انہوں نے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے۔ اس پر حکومت نے عملدرآمد نہ کیا تو یوسف رضا نے قومی اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرنے سے انکار کر دیا۔ اپنی پارٹی کی حکومت کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو پر واضح کر دیا کہ جب تک دونوں مسلم لیگی ارکان قومی اسمبلی کو جیل سے ایوان میں نہیں لایا جاتا اجلاس کی صدارت نہیں کریں گے۔ حکومت مجبور ہو گئی اور دونوں ارکان کو ایوان میں لایا گیا وہ 2008ء کے انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی کی بھاری اکثریت نے انہیں وزیر اعظم منتخب کر لیا۔ جب ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مرحلہ آیا تو اپوزیشن سمیت پورے ایوان نے ان کے حق میں ووٹ دیا یوں وہ متفقہ وزیر اعظم بن گئے وہ پیپلزپارٹی کی جانب سے وزیر اعظم منتخب ہوئے مگر مخالف پارٹی مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اسمبلی میں اکثریت مل گئی چنانچہ مسلم لیگ (ن) کے میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے

دونوں پارٹیوں میں شدید اور دیرینہ محاذ آرائی کے باوجود یوسف رضا گیلانی نے نہ صرف شہباز شریف کے حکومت بنانے میں کوئی رخنہ اندازی نہیں کی بلکہ اپنے پورے دور میں ان کے صوبائی معاملات میں کوئی مداخلت نہ کی اور مثالی ورکنگ ریلیشن شپ قائم کی۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں جتنی بار شرکت کی اور ہر معاملے کے مباحثے میں جتنا حصہ لیا اس کی مثال اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی نہیں ملی۔ اتنے بھرپور سیاسی ماضی کے حامل سید یوسف رضا گیلانی نے اگر سینٹ کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ پارلیمانی نظام کے لئے اچھا ہے کہ سابقہ اعلیٰ اور تجربہ کار شخصیات ایوان بالا کا حصہ بنیں اور قانون سازی کے سنجیدہ کام میں رہنمائی کریں۔ ایسے میں اعظم سواتی کا دعویٰ بے محل تو ہو سکتا ہے بے سبب نہیں۔ انہیں اندرون خانہ ہونے والی پخت ویز کا علم ہوگا۔ اللہ خیر کرے۔ سئیں گیلانی کی کامیاب سیاست کے مخملی سفر میں ناکامی کے ٹاٹ کا پیوند نہ لگ جائے سئیں ذرا سنبھل کے۔

مزید :

رائے -کالم -