معاملہ عزتِ سادات کا ہے

معاملہ عزتِ سادات کا ہے
معاملہ عزتِ سادات کا ہے

  

کل شادی کی ایک تقریب میں سیاست، وکالت اور ادب سے تعلق رکھنے والے احباب کا ایک گروپ بیٹھا اس نکتے پر بحث میں الجھا ہوا تھا کہ سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد کی نشست سے سینٹ کا انتخاب لڑنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کی وجہ سے ان کی سیاسی ساکھ اور عزتِ سادات داؤ پر لگ گئی ہے۔ اس الیکشن میں اگر وہ ہار گئے تو گویا ان پر یہ ٹھپہ لگ جائے گا کہ اب وہ کوئی انتخاب بھی جیتنے کے قابل نہیں رہے۔ یاد رہے کہ وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوشی کے بعد سے وہ قومی اسمبلی میں دوبارہ نہیں پہنچ سکے، حتیٰ کہ ان کے بیٹے بھی انتخابات جیتنے میں بُری طرح ناکام رہے۔ اب انہوں نے سینیٹ انتخاب لڑنے کا آصف زرداری کی آشیرباد سے فیصلہ تو کر لیا  ہے، مگر یہ کوئی حلوہ نہیں جو انہیں پکا پکایا مل جائے گا۔ سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ اگر آصف زرداری واقعی انہیں سینیٹ میں لانے کے خواہشمند ہوتے تو مصطفےٰ نواز کھوکھر کی طرح انہیں سندھ کے کوٹے سے سینیٹ میں لاتے، مگر چونکہ آصف زرداری کی سیاست کو سمجھنا مشکل ہے اس لئے ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس چال کے ذریعے انہوں نے کس کس کو مات دی ہے یا دوسرے لفظوں میں اس سے قومی سیاست میں ہلچل مچانے کا کیا منصوبہ ہےّ

ملتان میں سید یوسف رضا گیلانی کو ان کے قریبی دوست  اور مریدین، مرشد کہتے ہیں۔ مرشد نے ملتان سے اپنا ووٹ اسلام آباد لے جا کر بہت بڑا رسک لیا ہے۔ اس سے پہلے وہ ملتان میں یہ رسک لے چکے ہیں کہ اپنی دیرینہ نشست کی بجائے ایک دوسری نشست سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا، مگر جن لوگوں نے جتوانے کے وعدے کئے تھے، وہ آخر وقت پر ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور وہ شکست کھا گئے۔ سید یوسف رضا گیلانی کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ ملتان کے سپوت ہیں۔ اس مٹی سے بنے ہیں اور اس کے لئے ہر قربانی دیں گے، تاہم اب اپنا ووٹ اسلام آباد سے جا کر انہوں نے اپنے حریفوں کو یہ کہنے کا موقع بھی دے دیا ہے کہ اقتدار کی خاطر مرشد جی کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

حتیٰ کہ یہ بے اصولی بھی کہ ملتان کی بجائے اسلام آباد سے سینیٹ کا انتخاب لڑیں۔ یہ رجحان ایک عرصے سے موجود ہے کہ وقت کے حکمران یا سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے قریبی ساتھیوں یا چہیتے رہنماؤں کو سینیٹ کا ٹکٹ ”گفٹ“ کرتے رہے ہیں، اس کے لئے آئین کی اس بنیادی روح کو بھی پامال کیا گیا، جو سینیٹ کے قواعد و ضوابط بنانے والوں کی منشا تھی۔ چاروں صوبوں کو یکساں اور وفاق کو علیحدہ نشستیں دینے کا مقصد یہ تھا کہ ان علاقوں سے لوگ منتخب ہوں اور ایوانِ بالا میں ان کی موثر نمائندگی ہو سکے۔ اگر اس بات کا خیال ہی نہیں رکھنا اور مخصوص شخصیات کو سینیٹ میں پہنچانے کے لئے اصولوں کو اِدھر اُدھر کرنا ہے تو پھر آئینی پابندیوں کی کیا ضرورت ہے، ووٹ تو کوئی بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل کرا سکتا ہے، مگر کیا کسی شخص کے ایک صوبے سے دوسرے صوبے یا وفاق میں جانے سے اس علاقے کی نمائندگی بھی وہاں منتقل ہوسکتی ہے۔ اس سوال کا کسی کے پاس جواب ہے تو سامنے لائے۔

مرشد سائیں یعنی ملتانی مخدوم کے عزائم بہت اونچے ہیں وہ ابھی سے ارکانِ اسمبلی کو یقین دلا رہے ہیں کہ انہیں وہی پروٹوکول اور عزت دیں گے جو اسپیکر اور وزیر اعظم کی حیثیت سے دیتے رہے ہیں وہ اس بات کو بھی ماننے کے لئے تیار نہیں سینٹ کی ممبر شپ ان کے لئے ایک چھوٹا عہدہ ہے کیونکہ وہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں وہ اس کے لئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ دنیا میں ایوان ہائے بالا میں ہوتے ہی وہ لوگ ہیں جو ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہوں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے بہت قریبی ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ جب انہیں سینٹ کا الیکشن لڑنے کی پیش کش کی گئی تھی تو وہ راضی نہیں ہوئے تھے۔ تاہم جب انہیں یہ بھی یقین دلایا گیا کہ پی ڈی ایم کی طرف سے انہیں چیئرمین سینٹ کا امیدوار بنایا جائے گا تو وہ راضی ہو گئے۔

ایسا نہیں کہ سید یوسف رضا گیلانی کی انٹری حکومت کے لئے تشویش کا باعث نہیں ہے، تشویش کا باعث بھی ہے اور سید یوسف رضا گیلانی اگر سینٹر بن گئے تو حکومت کے لئے اپنا چیئرمین سینٹ لانا خاصا دشوار ہو جائے گا کیونکہ حکومت جو بھی امیدوار کھڑا کرے، وہ سیاسی قد کاٹھ اور سوجھ بوجھ کے لحاظ سے سید یوسف رضا گیلانی کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ کاغذات جمع کرانے کے بعد جب سید یوسف رضا گیلانی بڑے اطمینان سے پریس کانفرنس کر رہے تھے تو ایک صحافی نے ان سے جہانگیر ترین کے ساتھ اس معاملے میں کسی تعلق کے بارے میں پوچھا، گیلانی صاحب سردو گرم چشیدہ ہیں، انہوں نے کہا جہانگیر ترین میرے رشتہ دار ہیں تاہم سینٹ انتخابات کے حوالے سے ان کا کوئی رابطہ نہیں۔ ویسے تو سید یوسف رضا گیلانی کی رشتہ داریاں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں جو یقینا ان کے ہمیشہ کام آتی ہیں، البتہ جہانگیر ترین کے ساتھ ان کی رشتہ داری اگر سینٹ انتخابات کے حوالے سے متحرک ہو گئی تو ان کی جیت کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

پچھلے دو دنوں سے حکومتی وزراء اور مشیر یہ بیان دے رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) سید یوسف رضا گیلانی کو کبھی ووٹ نہیں دے گی۔ وزراء و مشیروں کے یہ بیانات در حقیقت ان کے خوف کو ظاہر کرتے ہیں کہ کہیں تحریک انصاف اسلام آباد کی نشست ہی نہ ہار جائے اور قومی اسمبلی میں حکومت کی اکثریت بارے سوالات اٹھ جائیں۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کے معاملے میں مسلم لیگ (ن) کوئی خفیہ چال چلے گی تو اس کا امکان بہت کم ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، خاص طور پر پی ڈی ایم کے ملتان جلسے کے موقع پر گیلانی خاندان نے جس طرح مریم نواز کی مہمانداری کی اور جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے پورا زور لگایا، پھر جس طرح سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی تقریر میں نوازشریف اور مریم نواز کا بار بار ذکر کیا  مریم نواز نے اپنی تقریر میں گیلانی خاندان کی جمہوریت سے کمٹ منٹ کو سراہا اور گیلانی کے بیٹوں کو اپنا بھائی کہا، وہ سب کچھ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کے نام پر مکمل اتفاق رائے ہو چکا ہے، جس کے بعد انہوں نے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرائے، پھر تائید کنندہ کے طور پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا سامنے آنا بھی ایک واضح اشارہ ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود یہ خدشہ موجود ہے کہ آخر وقت پر کہیں مرشد کے ساتھ کوئی ہاتھ نہ ہو جائے اور عزتِ سادات کا پر شکوہ محل زمین بوس ہو کر کہیں مرشد کی سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہی نہ کر دے۔

مزید :

رائے -کالم -