دی ٹریبیون ایکسپریس کا ایک منفرد اعزاز!

دی ٹریبیون ایکسپریس کا ایک منفرد اعزاز!
دی ٹریبیون ایکسپریس کا ایک منفرد اعزاز!

  

ویسے تو ہر اخبار آج کل انٹرنیٹ پر آ رہا اور پڑھا جا رہا ہے۔ لیکن ہارڈ کاپی کی بات ہی کچھ اور ہے۔ میں بھی ایک عرصے سے باقی اردو انگلش اخباروں کے ساتھ”دی ٹریبیون ایکسپریس“ (The Tribune Express)بھی منگوا رہا ہوں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

ایک تو ڈان اور دی نیوز کے مقابلے میں یہ اخبار بڑی حد تک کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر غیر جانبدار صحافتی اقدار کا علمبردار ہے۔ دوسرے اس کے ادارتی صفحات میں جو کالم شائع ہوتے ہیں وہ دوسرے انگریزی اخباروں کے مقابلے میں زیادہ جاندار اور معلوماتی ہوتے ہیں۔

لکھنے والوں میں فوج کے سینئر آفیسر بھی ہیں جن کا تجربہ گوناگوں اور فوج کے علاوہ دوسرے سفارتی عہدوں پر کام کرنے کی وجہ ہے جن کی معلومات ہمہ جانبی اور ہمہ رنگ ہوتی ہیں۔ تیسرے ان کالم نگاروں میں زیادہ تعداد ان پاکستانیوں کی ہوتی ہے جو کئی برس سے دیار ہائے غیر میں مقیم ہیں، مختلف اور متعدد غیر ملکی یونیورسٹیوں میں پڑھانے کا تجربہ رکھتے ہیں اور چند در چند موضوعات پر ان کی پروفیشنل گرفت لائقِ توجہ ہے۔ اور چوتھی اور سب سے بڑی بات اس اخبار میں یہ ہے کہ اس میں ”دی نیویارک ٹائمز“ کا انٹرنیشنل ایڈیشن بھی شامل ہوتا ہے یعنی آپ ایک ٹکٹ میں دو مزے لیتے ہیں۔ 

دی نیویارک ٹائمز کا انٹرنیشنل ایڈیشن البتہ اتوار کے روز شائع نہیں ہوتا۔ ہفتے کو جو ایڈیشن شائع ہوتا ہے وہ عام ضخامت سے دگنا ہوتا ہے اور ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے کہ اس میں اتوارکی اشاعت بھی شامل ہے۔ 

لیکن کل اتوار (14فروری) کے ایکسپریس میں ایک نیا اضافہ ’سنڈے میگزین‘ کی صورت میں موجود تھا۔ قارئین کو ایک عرصے سے اس میگزین کی کمی محسوس ہو رہی تھی جو کل کی اشاعت نے پوری کر دی۔اس سنڈے میگزین کی ضخامت اگرچہ صرف 8صفحات کی ہے لیکن توقع ہے کہ آنے والے ایام میں یہ صفحات بڑھا دیئے جائیں گے۔ اس افتتاحی اشاعت میں جو مضامین شامل ہیں ان کا تعلق پانچ شعبوں سے ہے جن میں ……(1) اکانومی اور بزنس ……(2) کلچر اور سوسائٹی ……(3) سپورٹس……  (4) سائنس اور ٹیکنالوجی …… اور…… (5)لاء اور جسٹس شامل کئے گئے ہیں۔ لیکن اس کی آج کی کور سٹوری (Cover Story) دفاعی پیداوار کے ایک تازہ ترین پہلو (مسلح ڈرون) کے بارے میں ہے،جس کی شہ سرخی یہ لگائی گئی ہے: ”یہ مسلح ڈرون ایک مہلک مشین ہی نہیں، ایک مہلک پراپیگنڈا مشین بھی ہے“۔

……ظاہر ہے اس مضمون نے میرا دامنِ توجہ بھی کھینچا۔لیکن اس سے پہلے کہ ڈرون ٹیکنالوجی یا اس کی اہمیت یا مستقبل میں اس کے بے پایاں دفاعی امکانات کے سلسلے میں کچھ عرض کروں قارئین کو اس مشین کی ہلاکت انگیزی، اس کے پراپیگنڈے کی ہلاکت آفرینی اور مستقبل میں دفاعی افق پر اس کے چھا جانے کے امکانات کے علاوہ ایک ایسے پہلو سے بھی روشناس کرواؤں جو میرے لئے ذاتی طور پر حد درجہ کربناک ہے!

اس کربناکی کو اگر مختصر ترین الفاظ میں بیان کر سکوں تو کہوں گا کہ: ”پاکستانی قوم ابھی ڈرون جیسی مہلک ایجاد سے فیض یاب ہونے کے لئے تیار نہیں“…… اس کی وجہ یہ نہیں کہ قوم انگریزی زبان سے ناآشنا ہے۔ ماشا اللہ سوسائٹی کا ایک بڑا طبقہ اچھی انگریزی جانتا، سمجھتا، پڑھتا اور بول لیتا ہے۔

مصیبت یہ ہے کہ دفاعی لغت کی ابجد سے بھی قوم کو کوئی لینا دینا نہیں۔ جی چاہتا تھا کہ اس کور (Cover) سٹوری کے اولین دوتین پیراگراف آپ کے سامنے رکھوں اور سوال کروں کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ یہ مفہوم اس وقت تک سمجھ میں نہیں سما سکتا جب تک آپ دفاعی تحریروں اور دفاعی پیداوار کی تازہ ترین اصطلاحوں سے واقف نہ ہوں۔ ہم اور ہمارا میڈیا چونکہ ہمیں دن رات سیاسی بکھیڑوں میں الجھائے رکھتا ہے اس لئے ملک کے دفاعی تقاضوں اور ان کو پورا کرنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی دفاعی پیش رفت ہماری نظروں سے غائب رہتی ہے…… یہ ہماری ایک بڑی بدنصیبی ہے…… اور دوسری بدنصیبی یہ سوال ہے کہ اردو زبان میں ان باریکیوں اور پیچیدگیوں کو کون سمجھے اور کون سمجھائے؟

جناب مجیب الرحمن شامی نے اس اخبار(پاکستان) کا کنٹرول جب 1999ء کے اوائل میں سنبھالا تو میں بھی ریٹائر ہونے کے بعد انہی ایام میں راولپنڈی سے لاہور شفٹ ہوا۔ شامی صاحب کی ایماء پر میں نے اس میں کالم نگاری شروع کی۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے دل و دماغ میں ملک و قوم کی دفاعی مصلحتوں اور تقاضوں کا سودا سمایا ہوا تھا (جو آج بھی ہوگا)۔ ان سے ملاقات میں یہ بھی طے ہوا کہ کالم کے علاوہ 8صفحات کا ایک ہفتہ واری میگزین ”دفاعی میگزین“ کے نام سے بھی شائع ہوا کرے گا۔ اس کے لئے انہوں نے میری مدد کے لئے ایک اور صاحب کو بھی متعین کر دیا۔ لیکن ڈیڑھ دو برس بعد مجھے کہا گیا کہ اس سلسلے کو ختم کر دوں اور اس کی جگہ ایک ہفتہ واری ایڈیشن ”دفاعی ایڈیشن“ کے نام سے ایڈٹ کیا کروں۔ لیکن کچھ عرصہ بعد اس کا انجام بھی وہی ہوا جو دفاعی ایڈیشن کا ہوا تھا۔ یعنی بات دفاعی میگزین سے سفر کرتے کرتے دفاعی ایڈیشن تک آئی اور پھر یہاں سے دفاعی کالم نگاری تک محدود ہو گئی (جو آج بھی ہے) میں نے ان سے یہ کبھی نہ پوچھا کہ میگزین اور ایڈیشن کو ختم کرنے کی و جہ کیا تھی لیکن بہت عرصہ بعد ایک ملاقات میں انہوں نے خود ہی انکشاف کیا کہ: ”میری انتہائی خواہش و کوشش کے باوجود چونکہ قارئین نے اس فیلڈ میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہ کیا اس لئے مجھے ازراہِ مجبوری اسے ختم کرنا پڑا۔“ …… یہ وہی بات ہے جو میرے درد و کرب کا باعث ہے۔

گزشتہ 20،22 برسوں میں اردو کے کسی اور روز نامے میں کسی بھی صاحبِ دل نے دفاعی امور پر قلم اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔ اس مدت میں اردو زبان کے کئی اخبارات نکلے (اور ان میں سے آج بھی کئی (زندہ و تابندہ ہیں) لیکن ان میں بھی میری نظر سے کوئی ایسی ریگولر تحریر نہیں گزری جو ملک کے دفاعی تقاضوں کی ترجمان ہو۔

میں جب یونیفارم میں تھا تو میری ذاتی کوششوں سے GHQ لیول پر ایک اردو  میگزین شائع ہونا شروع ہوا جس کا نام ”پاکستان آرمی جرنل اردو“ ہے۔ مجھے 12 برس تک (1985ء تا 1996ء) اس کی اعزازی ادارت کا شرف حاصل ہوا۔ میری ریٹائرمنٹ (دسمبر 1996ء میں) کے بعد میگزین سہ ماہی سے ششماہی ہوا اور آج بھی IGT&E برانچ سے شائع ہو رہا ہے لیکن اس کی داستان بھی ’درد ناک‘ ہے۔ اس کا وہ پروفیشنل معیار جو میں نے پیش نظر رکھا اور جس پر عمل کیا، آج عنقا ہے۔ اور اسی عشرے میں دو تین برس تک میری ہی کوششوں سے ایک اردو میگزین ”دفاعی ڈائجسٹ“ کے نام سے نکلتا رہا جس کی ادارت مرحومین جنرل امیر حمزہ اور میجر سعید ٹوانہ نے کی۔ میں چونکہ وردی میں تھا اس لئے اپنا نام نہیں دے سکتا تھا۔ کام دے سکتا تھا جو میں دیتا رہا لیکن تابہ کے؟……

قارئین کرام سے گزارش ہے کہ ان سطور کو میری خود ستائی تصور نہ کریں بلکہ یہ ایک طرح کی نوحہ گری ہے کہ جس قوم میں جہاد و شہادت کی ان گنت مثالیں موجود ہوں اور جس کی سات لاکھ فوج میں 100% آفیسرز/ سولجرز اردو زبان سے کماحقہ، آگاہ ہوں، اس میں کوئی ایک شخص /ادارہ بھی ایسا نہ ہو جو اردو زبان میں دفاعی امور پر بحث و مباحثہ کا تحریری ڈول ڈال سکے۔

من حیث القوم ہم تقلید کے ایسے خوگر ہیں کہ اردو زبان میں دفاع اور اقتصادیات جیسے موضوعات پر ایک بھی قابل ذکر ڈائجسٹ/ میگزین شائع نہیں کر سکتے۔ جہاں تک مجھے علم ہے انگریزی زبان میں ایک میگزین تو GHQ سے ”پاکستان آرمی جنرل (انگریزی)“ کے نام سے نکلتا ہے جو ”پاکستان آرمی جرنل (اردو)“ کی طرح سہ ماہی سے ششماہی بن چکا ہے اور دوسرا وہ رسالہ ہے جو ’ڈیفنس جرنل‘ کے نام سے (شاید) آج بھی کراچی سے نکل رہا ہے۔ اس کی ادارت پہلے بریگیڈیئر (ر) اے آر صدیقی کے پاس تھی جو بعد میں میجر (ر) سہگل کے پاس چلی گئی۔ یعنی اردو تو ایک طرف رہا، انگریزی میں بھی کوئی ایسا ہفت روزہ، ماہنامہ یا سالنامہ نہیں جو دفاعی امور سے متعلق موضوعات کو احاطہ کر سکے۔

ہمارے وزیر اعظم جب یہ کہتے ہیں کہ ملک میں ایسے ”مخیر حضرات“ کی کمی نہیں جو ٹیکس تو ادا نہیں کرتے لیکن رفاعی کاموں میں پانی کی طرح پیسہ بہانے سے دریغ نہیں کرتے تو یہی حال دفاع کا بھی ہے۔ کوئی خدا کا بندہ ایسا نہیں جو دفاعی امور پر کسی ایسے رسالے/ میگزین کی کفالت کر سکے جو ملک کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے…… دوسرے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھتا ہوں تو ان میں تحریروں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ انگریزی کے علاوہ، جرمن، فرانسیسی، روسی اور جاپانی زبانوں میں آج بھی درجنوں میگزین صرف اور صرف دفاع اور دفاعی پیداوار کو ورطہئ تحریر میں لا کر ملک کی دفاعی پیداواری برآمدات میں حصہ لے کر سرخرو ہوتے ہیں …… کیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر جناب فواد چودھری اس طرف توجہ فرمائیں گے؟……

دی ٹریبیون ایکسپریس میں آج جو سنڈے میگزین آغاز ہوا ہے اور اس میں دو تین صفحات پر جو ”کور سٹوری“ مسلح ڈرونوں کے بارے میں (با تصویر) شائع ہوئی ہے وہ ساری کی ساری غیر ملکی انگریزی مواد کی نقل نہیں تو تقریباً نقل ہے جو اگرچہ از بس غنیمت ہے لیکن تابہ کے؟ جن حضرات/ خواتین کو یہ حصہ (Segment) سونپا گیا ہے  ان سے گزارش کروں گا کہ غیر ملکی تحریروں سے خوشہ چینی ضرور کریں لیکن اپنے ہاں اس موضوع پر لکھنے والوں کو بھی تلاش کریں اور جھنجھوڑیں اور نیند کے ماتوں کو جگائیں …… شاید کوئی آنکھ کھل ہی جائے!!!

مزید :

رائے -کالم -