جامعہ کراچی: اسسٹنٹ پروفیسر پر تشدد کیخلاف اساتذہ کا احتجاج

      جامعہ کراچی: اسسٹنٹ پروفیسر پر تشدد کیخلاف اساتذہ کا احتجاج

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر پر آئی بی اے کے طلبا و گارڈز کے مبینہ تشدد کے خلاف اساتذہ نے آئی بی اے کے مرکزی دروازے کے سامنے احتجاج کیا جبکہ جامعہ کراچی میں تدریسی عمل معطل ہوگیا۔اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ آئی بی اے کی عمارت اور رقبے کو جامعہ کراچی کے حوالے کیا جائے اور نجی اداروں کی تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ استاد پر تشدد کرنے والے آئی بی اے کے طلبا کو بے دخل کیا جائے۔انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے کہاکہ آئی بی اے کا انتظامیہ اس واقعے پر فی الفور کارروائی کرے جبکہ استاد ڈاکٹر مصطفی حیدر پر تشدد کے واقعے میں ملوث طلبا کا آئی بی اے سے اخراج کیا جائے اور اس میں ملوث سیکیورٹی گارڈز کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں برطرف کیا جائے۔انجمن اساتذہ کے مطابق اس واقعے میں ملوث طلبا کی تصاویر پریس کو جاری کی جائیں اور یہ تصاویر جامعہ کراچی کے دروازوں پر آویزاں کی جائیں۔ ان تمام لوگوں کے جامعہ کراچی کی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔انجمن اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ جامعہ کراچی کی حدود میں سیکورٹی جامعہ کراچی کی ذمہ داری ہے لہذا آئندہ سے جامعہ کراچی کے داخلی دروازوں پر جامعہ کراچی کے علاہ کوئی گارڈ نہیں ہوگا۔اساتذہ کے مطابق ہفتے 13 فروری کی شام گاڑی کا سائرن بجانے پر آئی بی اے کے طالب علم سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر طالب علم نے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مصطفی حیدر کو تھپڑ مارا۔ اسکے بعد آئی بی اے کے گارڈز اور طلبا نے استاد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

مزید :

صفحہ آخر -