کراچی میں پی ایس 88 ملیرپر ضمنی انتخاب آج ہوگا

  کراچی میں پی ایس 88 ملیرپر ضمنی انتخاب آج ہوگا

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں پی ایس 88پر ضمنی انتخاب آج(منگل) ہوگا، ضمنی انتخاب کے لیے 106 پولنگ اسٹیشن اور 410 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں،حلقے میں 33 پولنگ اسٹیشنز کو کو انتہائی حساس اور 36کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر غلام مرتضی بلوچ کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس 88 پر ضمنی انتخاب آج(منگل)16فروری کو ہوگا۔ اس ضمنی انتخاب میں 20 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ جن میں پیپلز پارٹی کے محمد یوسف بلوچ، تحریک انصاف کے جان شیر جونیجو، ایم کیو ایم پاکستان کے ساجد احمد اور ٹی ایل پی کے سید کاشف علی شاہ شامل ہیں جبکہ جمیلہ بانو، رانا خورشید، رحمن ڈنو مہسر، ریحان منصور، زین العابدین، سید ابوالحسن، سید عطا محمد، شیزان، عاصم اقبال، عبدالوحید بلوچ، منصور خان، منظور حسن، ناظم جمال خان آفریدی، یاسر علی جونیجو، ابوبکر میمن اور ارشد علی آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے کے مجموعی ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 48 ہزار 465 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 83 ہزار 315 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 65 ہزار 150 ہے۔ ضمنی انتخاب کے لیے 106 پولنگ اسٹیشن اور 410 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ انتخابی عمل کے لیے پولنگ میٹریل پیرکوحفاظتی انتظامات میں تقسیم کردیاگیاہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخاب میں رینجرز کو پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات کیا گیا ہے۔ امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی حلقے میں تعینات ہوگی۔ پی ایس 88 ملیر کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان کی صدارت میں ایک اجلاس بھی ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر ندیم حیدر، ملیر کی ضلعی انتظامیہ، پولیس اور رینجرز  کے افسران نے شرکت کی۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر پی ایس 88 ندیم حیدر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں 16 فروری کے انتخابات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، رینجرز اور پولیس نے سیکورٹی انتظامات کرلیے ہیں، اس حلقے میں 33 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 36 پولنگ اسٹیشنز  کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ضلع میں ایمرجنسی ڈکلیئر کی گئی ہے اور اسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ عام انتخابات میں اس حلقے پر پیپلز پارٹی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی، نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے دوسری، تحریک لبیک تیسری، ایم کیو ایم چوتھی، مسلم لیگ (ن) پانچویں، ایم ایم اے چھٹی اور جی ڈی اے نے ساتویں پوزیشن حاصل کی تھی۔

مزید :

صفحہ آخر -