وائٹ ہاؤس نے کورونا کے آغاز سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ مسترد کردی

وائٹ ہاؤس نے کورونا کے آغاز سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ مسترد کردی

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) وائٹ ہاؤس نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی وہ رپورٹ مسترد کردی ہے جو اس کے نمائندوں نے ”کووڈ 19-“کی وباء پھوٹنے کے بارے میں چین جاکر مرتب کی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیون نے اس رپورٹ کے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اس وباء کے آغاز کے انتہائی ابتدائی دنوں کا مکمل ڈیٹا فراہم کرے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہیکہ ضروری ہے کہ تحقیقی رپورٹ ”چینی حکومت کی طرف سے تبدیل کئے بغیر“ پوری خود مختاری اور آزادی کے ساتھ مرتب کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ مسائل تھے جن کی بناء پر سابق ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی ادارہ صحت کو ترک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قبل ازیں جمعہ کے روز نیو یارک میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز جبریس نے واضح کیا ہے ”کووڈ 19-“ کی ابتداء کے بارے میں ان کے ادارے نے جو رپورٹ تیار کی ہے وہ حتمی نہیں ہے اور اگر واشنگٹن ابتدائی دنوں کے ڈیٹا کا خود جائزہ لینا چاہتا ہے تو وہ اس سلسلے میں تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال تھا کہ وائرس کے چین کی تجربہ گاہ سے فرار ہوکر پھیلنے کا امکان ہے جس کی چینی حکومت تردید کرتی رہتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے چین جاکر جو رپورٹ مرتب کی ہے اس میں چینی حکومت کے اسی موقف کی حمایت کی گئی ہے امریکی ایڈوائزر سلیون نے نوٹ کیا ہیکہ صدر جوبائیڈن نے اقتدار سنبھالتے ہی یقیناً عالمی ادارہ صحت کو ترک کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا تاہم اس کے باوجود ہمیں اس ادارے پر اعتبار اور اس کی ساکھ کا تحفظ کرنا ہے۔ صدر بائیڈن کے سیکیورٹی ایڈوائزر سلیون نے اپنے بیان میں مزید کہاہے کہ عالمی ادارہ صحت سے تعلق بحال کرنے کا یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھا جائے۔ ہمیں اس طریق کار پر شدید تشویش ہے جو ”کووڈ 19-“کی ابتداء معلوم کرنے کے لئے اختیارکیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا ہے کہ چینی حکومت نے وباء پھوٹنے کے ابتدائی دنوں کا ڈیٹا فراہم کرنے سے معذوری کا اظہار کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس

مزید :

صفحہ اول -