فیصل واوڈا کو دراصل سینیٹر بنانے کی کوششیں کیوں کی جارہی ہیں ؟تحریک انصاف کے سینئر رہنما نے انکشاف کر دیا 

فیصل واوڈا کو دراصل سینیٹر بنانے کی کوششیں کیوں کی جارہی ہیں ؟تحریک انصاف کے ...
فیصل واوڈا کو دراصل سینیٹر بنانے کی کوششیں کیوں کی جارہی ہیں ؟تحریک انصاف کے سینئر رہنما نے انکشاف کر دیا 

  

کراچی (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ دہری شہریت کیس کا فیصلہ فیصل واوڈا کیخلاف آسکتاہے اوراسی لئے فیصل واوڈا نے سینیٹ کی رکنیت لینے کو ترجیح دی ہے۔

مقامی اخبار جنگ نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسد عمر نے فیصل واوڈا کو سینیٹر کا ٹکٹ دینے سے متعلق معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا سندھ کا فیصل واوڈا کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے پرا عتراض سمجھ میں آنے والا ہے، صاف بات ہے ایک ایم این اے کو سینیٹ کا ٹکٹ کیوں دیا جارہا ہے، فیصل واوڈا کی ترجیح ہے انہیں سینیٹ میں منتقل کردیا جائے یہ بھی سمجھ میں آنے والی بات ہے کیونکہ دہری شہریت کیس کا فیصلہ فیصل واوڈا کیخلاف آسکتاہے، فیصل واوڈا سینئر لیڈر اور وفاقی وزیر ہیں اس لئے ان کی ترجیح پر انہیں سینیٹ کا الیکشن لڑایا جارہا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ دہری شہریت کیس میں فیصلہ فیصل واوڈا کیخلاف آیا تو دوبارہ الیکشن ہوگا ،فیصل واوڈا کے پاس الیکشن میں دوبارہ حصہ لینے کا حق ہوگا، پی ڈی ایم کی سینیٹ میں اکثریت کم ہونے جارہی ہے، اپوزیشن یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے مشترکہ امیدوار بنا کر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، اس کے بعد اپوزیشن کی نظر چیئرمین سینیٹ کی سیٹ پر بھی ہوگی۔ 

اسد عمر نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے،پہلی بار بلوچستان سے کوئی چیئرمین سینیٹ بنا ہے، اگلا چیئرمین سینیٹ بھی صادق سنجرانی کو ہی ہونا چاہئے، ہم ایک سے زائد مرتبہ اپوزیشن کو سرپرائز دے چکے ہیں، اپوزیشن پتا نہیں کیوں شفاف الیکشن کیلئے اوپن بیلٹ کیوں نہیں مان رہی، امید ہے سپریم کورٹ اوپن بیلٹ پر ایسا فیصلہ دے گی جس کے بعد یہ سوال ختم ہوجائے گا کہ کون کس کو سرپرائز دے گا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ اگر پہلے 5لوگ بکتے تھے اب ہوسکتا ہے اوپن بیلٹ کی وجہ سے 2لوگ بکیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -