کورونا وائرس کے سامنے آنے والے ابتدائی کیسز کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کے سائنسدان نے حیران کن انکشاف کردیا

کورونا وائرس کے سامنے آنے والے ابتدائی کیسز کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کے ...
کورونا وائرس کے سامنے آنے والے ابتدائی کیسز کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کے سائنسدان نے حیران کن انکشاف کردیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کے پھیلاﺅ پر تحقیق کرنے کے لیے اقوا م متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم چین کے شہر ووہان میں موجود ہے جہاں سے وائرس پھیلا تھا۔ اب اس ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر پیٹر ایمبارک نے وائرس کے ابتدائی کیسز کے متعلق چشم کشا انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق پیٹر ایمبارک نے بتایا ہے کہ جب چینی حکومت نے دنیا کو کورونا وائرس کے متعلق بتایا، اس سے پہلے وائرس بڑے پیمانے پر پھیل چکا تھا اور کم از کم وائرس میں 13میوٹیشنز(وائرس کا اپنی جینیاتی ساخت میں تبدیلی لانا)بھی آ چکی تھیں۔گویا چینی حکومت کی طرف سے دنیا کو بہت تاخیر سے اس موذی وباءکے بارے میں بتایا گیا۔

پیٹر ایمبارک کا کہنا تھا کہ ”کورونا وائرس کے ابتدائی کیسزپر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کو وائرس کی 13مختلف اقسام لاحق ہوئیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ وائرس دسمبر 2019ءسے کافی عرصہ پہلے سے انسانوں میں پھیل رہا تھا، جب چینی حکومت کی طرف سے اس کے متعلق دنیا کو بتایا گیا۔ تاحال ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وائرس کہاں سے اور کیسے پھیلا؟ کیونکہ فی الوقت ہمارے پاس اس بات کے بھی کوئی شواہد نہیں ہیں کہ وائرس دسمبر 2019ءسے پہلے ووہان یا کسی اور جگہ پر پھیلا ہوا تھا۔اس کے لیے ہمیں مزید تحقیق کی ضرورت ہو گی۔ “

مزید :

تعلیم و صحت -کورونا وائرس -