ایک گناہِ کبیرہ؟

    ایک گناہِ کبیرہ؟
    ایک گناہِ کبیرہ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  آج کا پاکستان جنگ و جدال اور سیاسیات کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ جنگ کے موضوع پر پاکستان کی پبلک کو کچھ زیادہ آگہی حاصل نہیں۔ اس عدم آگہی کی تاریخ بہت پرانی ہے جس میں ہمارا جغرافیہ ایک بڑے اور فیصلہ کن عنصر کی صورت میں ہمارے سامنے ایک کھلی کتاب کی صورت میں موجود ہے۔

برصغیر میں مسلمانوں کا دور محمد بن قاسم کے حملے سے شروع ہوتا ہے۔ یہ حملہ 711ء میں دیبل (کراچی کا ایک نواحی مقام) پر کیا گیا تھا۔ اس حملے سے پہلے ہندوستان میں ہندو اور بدھ خاندانوں کی حکمرانی رہی۔ ان دونوں خاندانوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ چندرگپت موریہ، چندرگپت بکر ماجیت، اشوک، ہرش وغیرہ کا سلسلہ پرتھوی راج تک (1190ء) چلتا ہے۔ ان دونوں خاندانوں نے (ہندو اور بدھ مت کے پیروکار) برصغیر کی زمینی یا سمندری سرحدوں سے باہر نکل کر کسی بھی دوسرے ملک پر حملہ نہیں کیا۔ یہ لوگ بس  آپس میں ہی لڑتے مرتے رہے۔ رامائن اور مہا بھارت کے ناموں سے ہم سب واقف ہیں۔ ان کتب میں کورووں اور پانڈووں کی جنگوں کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن یہ جنگیں بھی صرف داخلی محاذوں پر لڑی گئیں۔ کسی سورمے نے ہندوستان سے باہر نکل کر کسی دوسرے ہمسایہ ملک پر کبھی چڑھائی نہ کی۔

ہندوستان کے نقشے پر نگاہ ڈالیں …… اس کے شمال میں کوہ ہمالہ، کوہ قراقرم اور  کوہ ہندوکش آج بھی موجود ہیں۔ ان کو پار کرنا ممکن نہ تھا لیکن مشرق میں برما سے لے کر مشرق بعید کے سارے ممالک بھی تو تھے۔ اس طرح شمال میں چترال سے اوپر سطح مرتفع پامیر کو عبور کرکے روس تک نکلا جا سکتا تھا۔ آخر چنگیز اور ہلاکو بھی تو انہی علاقوں سے آکر ایران اور ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے اور سکندر یونانی بھی (323ق م) میں اگر دیر، باجوڑ، ہری پور، راولپنڈی اور جہلم تک آیا تھا تو ہندوستان کے سورمے، انہی راستوں کو استعمال کرکے ایران اور افغانستان اور یورپ کی طرف کیوں نہ گئے؟

محمد بن قاسم کے بعد محمود غزنوی 990ء کے لگ بھگ درۂ خیبر کو عبور کرکے پشاور کو کراس کرتا اور دریائے سندھ اور راوی کو عبور کرتالاہور میں جے پال اور آنند پال کی افواج پر حملہ آور ہوا تھا…… یہ بیان طویل ہو جائے گا…… لیکن غزنوی کے بعد غوری، پھر سلاطین اور پھر مغل اگر ہندوستان پر حملہ آور ہو کر ”لوٹ مار“ مچاتے رہے تو یہ لوٹ مار ہندوستان کے ہندوؤں نے انہی راستوں کو عبور کرکے افغانستان وغیرہ کے خلاف کیوں نہ مچائی؟ ان حملہ آوروں نے جہلم تک ترک تازیاں کیں (سکندراعظم) اور پھر پشاور، لاہور، وسطی ہندوستان کو روندتے ہوئے سومنات تک چلے گئے۔(محمود کا آخری حملہ 1025ء میں)۔

میرا سوال یہ ہے کہ ان بیرونی حملہ آوروں نے درۂ خیبر سے نکل کر اگر پشاور، لاہور اور دلّی کو تاراج کیا تو کیا پشاور اور لاہور میں کوئی ایسا بندۂ خدا نہ تھا جو ان شمشیر بدست گھڑ سواروں کو روکتا؟…… اگر آپ اجازت دیں تو کہوں گا کہ پشاور سے دہلی تک کے لوگ اگر درجنوں بیرونی حملہ آوروں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے رہے تو ان علاقوں کے باسیوں کی ہمت اور حمیت کی جیومیٹری کہاں تھی اور الجبرا کدھر تھا؟…… یہ سارے علاقے (پشاور تا واہگہ) آج پاکستان کا حصہ ہیں۔ کیا یہ وہی علاقے نہیں کہ جن پر ایک سکھ جنگجو (رنجیت سنگھ) نے 40 سال تک تک اپنی شمشیرزنی کے ”طفیل“ بڑے دھڑلے سے حکومت کی؟…… رنجیت سنگھ کے دور کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ یاد کریں کہ اس نے کس مسلم خاندان کو لاہور میں شکست دی اور پھر پشاور اور درۂ خیبر کو روندتا ہوا، کابل تک چلا گیا؟…… تاریخ میں رنجیت سنگھ وہ واحد حکمران ہے جس نے ہندوستان کی سرحد سے باہر نکل کر افغانستان اور کشمیر کو مطیع فرمان بنایا۔ اگر انگریز 1846ء میں رنجیت کے نااہل جانشینوں کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ نہ کرتے تو یہاں کی بادشاہی مسجد نجانے کتنے برس مزید سکھوں کا اسلحہ ڈپو بنی رہتی۔ آج کے پی اور پنجاب کے پاکستانی باسی، انگریزوں کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے مسلمانانِ پنجاب و سرحد کو سکھوں کے جور و استبداد سے رہائی دلوائی۔ یہ اس خطے کا ایک شرمناک باب ہے۔

انگریزوں نے 1846ء سے 1947ء تک کے 100برسوں میں باقی ہندوستان کے علاوہ آج کے پاکستان میں جو ریلیں، سڑکیں، سکول، ہسپتال، ڈاک خانے، ہوائی اڈے اور دوسرے ریاستی اداروں کے علاوہ ایک جدید فوج کے قیام میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی جو مدد کی اس کے لئے یہ دونوں اقوام ان کی ہمیشہ احسان مند رہیں گی۔

یہ تمہیدی سطور خاصی طویل ہو گئیں۔ میں قارئین کرام کی خدمت میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اگست 1947ء میں انگریز کی ”رخصتی“ کے بعد ہم پاکستانیوں نے اپنی غالب آبادی کو جنگ و جدال کا وہ سبق کیوں نہ پڑھایا جو دنیا کی جدید اقوام نے پڑھ کر تعمیر و ترقی کی منزلیں طے کی تھیں؟ آج کی پاکستانی فوج کا ورثہ، برطانوی پس منظر کا حاصل ہے۔ گزشتہ 76برس میں پاک فوج نے خاصی ترقی کی، چار جنگیں لڑیں، جوہری استعداد حاصل کی، میزائل سازی کے مراحل طے کئے اور جدید ڈرونوں کی پروڈکشن کے علاوہ ائر فورس اور نیوی سے متعلق اسلحہ جات اور لاجسٹک سسٹم وغیرہ پر جو قدرت حاصل کی یا ان کے پروفیشنل موضوعات پر جو تھیوریٹیکل اور پریکٹیکل کامیابیاں حاصل کیں، ان کے بارے میں آج کا سویلین قاری کتنا کچھ جانتا ہے؟…… کیا اس موضوع پر ہم نے کبھی غور کیا کہ عسکری اور سویلین میدانوں میں آج جو دوریاں پاکستان میں پائی جاتی ہیں، وہ دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ / جوہری ملکوں میں دیکھنے کو نہیں ملتیں؟ ہم غیر عسکری میدانوں کے تو شہسوار ہیں لیکن عسکری فیلڈز کو اپنی افواج کے سپرد کر رکھا ہے۔ ہمارا میڈیا جنگ و جدال کے عالمی ارتقائی ادوار پر صم’‘ بکم’‘ رہتا ہے۔ ہاں البتہ سیاسیات کے میدان ہو تو دن رات اور صبح و شام نقارے پیٹتا رہتا ہے۔

ہمارے میڈیا کے مالکان، پروڈیوسرز، اینکرزاور دوسرے کارکنان، ملٹری ہسٹری سے بیگانہ ء محض ہیں۔ 25کروڑ کی آبادی میں بارہ کروڑ تو جسمانی اعتبار سے بالغ ہوں گے، ان میں اگر چھ کروڑ خواتین ہوں تو باقی چھ کروڑ تو عاقل اور بالغ مرد ہیں لیکن ان مردوں میں صرف چھ لاکھ فوج میں ہیں۔ آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ان میں عددی تناسب کا حجم کیا ہوگا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بلاشبہ یہی حجم ہوگا لیکن جہاں ہمارا غیر عسکری طبقہ سیاست کا پی ایچ ڈی ہے، وہاں عسکری امور و معاملات کی فیلڈز کو جاننے اور برتنے والا طبقہ جنگ و جدال کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ دوسرے ملکوں کا حال یہ نہیں۔ وہاں غیر عسکری اور عسکری معاملات و امور کے مابین بُعدالمشرقین نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہم فوج کو مطعوں کرنے میں بہت ساری حدود پار کر جاتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ فوج کی محدودات (Limitations) کیا ہیں۔ میں فوج کا دفاع نہیں کر رہا۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ جنگ و جدال اور سیاسیات کے موضوعات کے درمیان ہمارے ہاں جو دوریاں موجود ہیں، ان کا احاطہ کرنا اور پھر ان کو دور کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے۔ یہ کام آسان نہیں۔اس میں فوج کو بحیثیت ادارہ ایک بڑا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمارے تعلیمی اور تدریسی سویلین اداروں کو تاریخِ جنگ سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔انگریز جب 1947ء میں ہمیں چھوڑ کر واپس گیا تو اس موضوع پر کسی تھنک ٹینک نے کھل کر بات نہیں کی۔ یہ مسئلہ زیرِ بحث لانا از بس ضروری ہے۔ فوج کے قومی کردار کے حسن و قبح پر ایک متوازن رائے زنی کے لئے ایک مسلسل بحث و مباحثے کا آغاز کرنا ہوگا اور اس کے لئے جن امور کی تکنیکی، نظری اور عملی ضرورت ہے اس کی طرف توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

من حیث القوم آج اس پہلو کو نظر انداز کرنا میرے نزدیک گناہِ کبیرہ ہے!

مزید :

رائے -کالم -