تم کہاں کھو گئی ہو ؟

تم کہاں کھو گئی ہو ؟
تم کہاں کھو گئی ہو ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

’’کیا ہوا آپ اتنا تلملا کیوں رہے ہیں ؟ آتے ہی کمرے میں اودھم مچا رکھا ہے موڈ خواہ مخواہ ہی آف ہے ۔ کیا ہوا ؟ آفس میں سب خیریت تھی یا ڈانٹ کھائی ہے باس سے ؟ ‘‘ نیناں نے حمزہ کی شرٹ کھینچی ۔
’’اوفو ، یار میں تمھارے اتنے سارے سوالوں کا جواب اکیلا کیسے دے سکتا ہوں ؟ تم بیویوں کو بھی بس اینکر ہونا چاہیے ، سوال پر سوال ، سوال پر سوال کرتی جا رہی ہو ۔ پہلے جواب تو سن لو پھر اگلے سوالات کرتی رہنا ۔ ‘‘ حمزہ نے لال بھبھوکا چہرہ سہلاتے ہوئے کہا ۔ 
’’جی جی درست ، فرمائیے لیکن ایک ایک کر کے جواب دیں ، ساتھ ساتھ میں محب کی نیپی بھی تبدیل کر لوں ۔ ‘‘ نیناں نے معصومیت سے حمزہ کی طرف دیکھا ۔ 
’’جب میری بات غور سے سننی ہی نہیں ہے تو سوال ہی کیوں پوچھتی ہو یا تو محب کا کام کر لو یا میری بات سن لو ۔ ‘‘ حمزہ کا شکوہ بھی بجا تھا کہ وہ اسے نظرانداز کر رہی تھی ۔ 
’’تو کیا کروں آخر میں ؟ آپ نہیں بہلتے تو وہ تو پھر معصوم سا بچہ ہے اور یہ معصوم سا بچہ اللہ کی دین کے بعد آپ کا دیا ہوا تحفہ ہے اور مجھے بہت پیارا ہے ۔ ‘‘ نیناں محب کی نیپی بدلتے ہوئے حمزہ کی طرف دیکھنے لگی ۔ 
’’اوہو ویسے یہ آپ کے منہ پر کیا ہوا ہے کہیں غلطی سے میرا بلش آن تو نہیں لگا لیا ، وہ ایسا ہے کہ گال خوب لال ٹماٹر ہو رہے ہیں ۔ ‘‘
’’کمال ہے تمھیں ابھی تک مذاق کی سوجھ رہی ہے ، اتنی دیر سے میں یہی بتانا چاہ رہا ہوں کہ آج اچھا نہیں ہوا اور میرا بس چلے تو یہ ریڑھی والوں اور خاص طور پر گنا بیچنے والوں پرپابندی لگا دوں ۔ ‘‘ حمزہ نے محب کا گال سہلایا ۔ 
’’کیوں ان بے چارے معصوموں ، مظلوموں کا کیا قصور ؟ اب  وہ گنا بھی نہ بیچیں ، ٹھنڈا پلانا تو بنتا ہی ہے لیکن آپ کے اس سوجے ہوئے گال کا گنے کے رس سے کیا تعلق ؟ ‘‘ نیناں نے سنجیدگی اختیار کی 
’’گنے کے رس سے میرے گال کے گلابی ہونے کا تعلق یہ ہے کہ کامل صاحب ہمارے محلے دار جو پچھلی گلی میں رہتے ہیں, بس دفتر سے آج واپسی پر ان سے ٹاکرا ہو گیا ، اب میری قسمت خراب کہ بائیک خراب تھی تو لوکل ٹرانسپورٹ سے گیا تھا. انھوں نے کہا کہ بیٹھو ، لفٹ دے دیتا ہوں میں نے بہت انکار کیا تو کہنے لگے کہ میاں ایک ہی محلے میں تو جانا ہے اور پھر ہمسائیوں کے حقوق بھی بہت ہیں ۔ ان کی بائیک پر بیٹھا تو  پیاس ستانے لگی اور برا ہو برے وقت کا ، بس انھیں پیاس کا بتانے کی دیر تھی کہ جناب نے  مجھے گنے کے رس کی آْفر کر دی کہ یہیں راستے سے ٹھنڈا میٹھا گنے کا رس پی لیتے ہیں ۔

اب وہ تو پتہ نہیں کس دیس کے راجہ ہیں، وہ آرام سے گنے کی ریڑھی کے پاس جا رکے اور ایک بڑا گلاس بنوا کر پینے لگے ۔ میرا گلاس آ ہی رہا تھا تو میری نظر گنے کی مشین پر پڑی ، مشین اتنی گندگی سے اٹی پڑی جیسے صدیوں سے صفائی ہی نہ ہوئی ہو ۔ مرچ مصالحے کے مکسچراور لیموں پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے ۔ ڈسپوزبیل گلاس بھی عجیب سی گرد میں لتھڑے ہوئے ، میرا تو مانو جی ہی متلانے لگا ، سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں ، ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ گنے پر بیٹھی ایک بھڑ نے مجھے ہی نشانہ بنا لیا اور گال پر کاٹ کرچلتی بنی ۔ یہ حال ہے سب ۔ ‘‘ حمزہ نے تمام داستان کہہ سنائی ۔ 
’’اوہو ، یہ تو واقعی بہت برا ہوا ، کامل صاحب نے کیا کسی ڈاکٹر کو چیک نہیں کروایا ؟ لگتے تو کافی بھلے مانس ہیں وہ ۔ ‘‘ نیناں پریشانی سے بولی ۔ 
’’نہیں وہ تو مجھے قریبی کلینک لے گئے ،انجکشن بھی لگوایا ،اب کافی بہتر محسوس کر رہا ہوں ۔ کیا ہوا تم کیا سوچنے لگیں ؟ ‘‘ 
’’میں یہی سوچ رہی ہوں کہ لوگوں میں تن آسانی کی عادت کتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ لوگ گنے کا جوس پینے کے شوق میں ہر چیزپر سمجھوتہ کر رہے ہیں ، نہ صفائی کا خیال ، نہ کچھ بھی خالص پر، ان غریب دھندہ کرنے والوں کا کیا قصور ؟َ اصل قصور تو عوام کا ہے جو جانتے بوجھتے مکھی نگل رہے ہیں اور اف تک نہیں کر رہے ۔ ؟ ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں میں ؟ ‘‘ نیناں حمزہ کی تائید چاہ رہی تھی ۔ 
’’ہاں بالکل سو فیصد ، لیکن تم اس میں ایک جملے کا اضافہ کرنا بھول گئی ہو ، وہ یہ کہ انہی باشعور عوام کو گائوں کا تازہ گنا ملے اور دانتوں سے خود چھیل کر کھانا پڑے تو یہ سو سو نخرے کریں اور جب گنے باسی ہو کر مارکیٹ میں ہوں اور پھر یہی لوگ ٹھیلوں سے جوس پی کر بیمار ہو جائیں تو یاد آئے کہ فلاں جگہ سے یہ کھا پی لیا تھا ۔ میں ٹھیلے والوں کی مخالفت نہیں کر رہا لیکن ضرورت تو ان میں شعور بیدار کرنے کی ہے   کہ کس طرح صفائی ستھرائی رکھی جائے اور لوگوں کو بیماریوں سے بچایا جائے ۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم اس طرح بیمار ہونے لگے ہیں کہ اصلی نعمتوں کی ناقدری کر کے دو نمبری چیزوں کو اولیت اور اہمیت دینے لگے ہیں ۔ ؟ تم کہاں کھو گئی ہو ؟ ‘‘ حمزہ کی بات ٹھیک  تھی ۔
’’میں یہ سوچ رہی ہوں کہ آج جمعہ ہے، آگے آپ کے آفس سے دو چھٹیاں ہیں، چلیں آپ کے گائوں چلتے ہیں ۔ گنے اور تازہ سبزیاں کھا کر ہم بھی تھوڑی بہت جان بنا لیں گے ۔ ‘‘ نیناں نے اچانک سسرال جانے کا پلان بنا لیا تھ،ا حمزہ کی باتوں سے وہ بھی یہ سمجھ گئی تھی کہ وہ بھی تو کفران نعمت کر رہی تھی ۔

۔

نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -