لوگوں کی مدد کیلئے قائم کردہ ہیلپ لائن پر لڑکیاں فون کرکے پولیس اہلکاروں سے ایسی شرمناک بات کہنے لگیں کہ پولیس والے خود بھی شرمانے لگے

لوگوں کی مدد کیلئے قائم کردہ ہیلپ لائن پر لڑکیاں فون کرکے پولیس اہلکاروں سے ...
لوگوں کی مدد کیلئے قائم کردہ ہیلپ لائن پر لڑکیاں فون کرکے پولیس اہلکاروں سے ایسی شرمناک بات کہنے لگیں کہ پولیس والے خود بھی شرمانے لگے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) پولیس کی ہیلپ لائن 15پر بوگس کالز کی خبریں بھی ہم سنتے رہتے ہیں مگر بھارت کے شہر میرٹھ میں پولیس کی ہیلپ لائن 100اور101پر لڑکیوں نے کالز کرکے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے اظہار محبت کرنا، شادی کے پیغامات دینا اور حتٰی کہ فحش باتیں کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق میرٹھ میں اہلکاروں کو روزانہ سینکڑوں بوگس کالز موصول ہوتی ہیں جن میں انہیں”آئی لو یو، پلیز مجھ سے بات کرو اور مجھ سے شادی کرو گے؟“ جیسے فقرے سننے کو ملتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اہلکار سنجیو ملک کا کہنا ہے کہ ”ہمیں روزانہ تقریباً1ہزار کالز موصول ہوتی ہیں جن میں سے 90فیصد بوگس ہوتی ہیں۔ یہ بوگس کالز کچھ مخصوص نمبروں سے کی جاتی ہیں جو اب ہمیں زبانی یاد ہو چکے ہیں اور اب ہم ان نمبروں سے آنے والی کال ریسیو ہی نہیں کرتے۔ ان نمبروں سے خواتین ہمیں روزانہ کالز کرتی ہیں، جن میں سے کچھ ہمیں شادی کرنے کو کہتی ہیں اور کچھ دیگر فحش گفتگو کرتی ہیں۔ ہم نے اپنے سینئر حکام کو اس معاملے سے کئی بار آگاہ کیا ہے مگر تاحال انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

مزید جانئے: وہ ایک کام جس میں مردوں کی کارکردگی خواتین سے کہیں بہتر ہوتی ہے، ماہرین نے حیران کن انکشاف کر دیا

ایک اور اہلکار پردیپ کمار کا کہنا تھا کہ ”ان بوگس کالز کی وجہ سے اصلی کالز مس ہو جاتی ہیں اور ہمیں سینئرز سے ڈانٹ کھانی پڑتی ہے۔ ایک بار ایک آتشزدگی کے واقعے کی کال میں اس لیے موصول نہیں کر سکا تھا کہ ایک ایسی ہی خاتون کی کالز کی وجہ سے فون مصروف تھا۔ اس واقعے پر مجھے ایک دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ “پردیپ کا کہنا تھا کہ بیشتر بوگس کالز خواتین کی طرف سے کی جاتی ہیں لیکن بعض اوقات مردوں کی کالز بھی آ جاتی ہیں جو بدکلامی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ فون ملا کر اپنے کسی چھوٹے سے بچے کے کان سے لگا دیتے ہیں۔“میرٹھ رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اشوتوش کمار کا کہنا ہے کہ ”شہریوں کی طرف سے اہلکاروں کوفون پر ہراساں کرنا افسوسناک ہے۔ آئندہ جن نمبروں سے بھی بوگس کالز آئیں گی ان کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس