مچھروں کے ذریعے تیزی سے پھیلتی وہ نئی خطرناک ترین بیماری جس کا کوئی علاج نہیں!

مچھروں کے ذریعے تیزی سے پھیلتی وہ نئی خطرناک ترین بیماری جس کا کوئی علاج نہیں!
مچھروں کے ذریعے تیزی سے پھیلتی وہ نئی خطرناک ترین بیماری جس کا کوئی علاج نہیں!

  

نیویار ک(نیوز ڈیسک) خطرناک بیماری ڈینگی سے ابھی دنیا کی جان نہیں چھوٹی تھی کہ مچھروں ہی کے زریعے پھیلنے والی ایک اور افتاد نے حملہ کردیا ہے، جس کی کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی علاج۔

’این بی سی نیوز‘ کے مطابق مچھر کے ذریعے پھیلنے والے زیکا وائرس (Zika Virus) نے امریکی سائنسدانوں کو اس قدر پریشان کردیا ہے کہ وہ حکومت کو تجویز دے رہے ہیں کہ امریکی شہریوں کو لاطینی امریکا اور کریبین خطوں کے ممالک کا سفر کرنے سے پہلے وارننگ جاری جائے کہ وہ اس بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ یہ وائرس زیادہ تر گرم مرطوب علاقوں میں پایا جاتا ہے اور اس وقت لاطینی امریکا کے کچھ ممالک، خصوصاً برازیل اس کے نشانے پر ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے متعلق ابھی بہت کم معلومات دستیاب ہیں البتہ یہ معلوم ہے کہ یہ مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے اور اس کی وجہ سے بچوں میں مائیکرو سیفلی (microcephaly) نامی بیماری پیدا ہورہی ہے۔ جن حاملہ خواتین میں یہ وائرس منتقل ہوجائے ان کے پیٹ میں موجود بچے کے دماغ کی نشوونما شدید متاثر ہوتی ہے، بچے کا دماغ اور سر بہت چھوٹا رہ جاتا ہے، اور اسی مسئلے کو مائیکروسیفلی کا نام دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت اس قدر شدید ہوسکتی ہے کہ بچے کی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

مزید جانئے: 6 سالہ بچے کی آنکھوں میں شدید خارش، ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو ایسی وجہ سامنے آگئی کہ جان کر رونگٹے کھڑے ہوجائیں

امریکی ماہر ڈاکٹر لائل پیٹرسن کا کہنا ہے کہ زیکا وائرس سے ڈینگی جیسی علامات پیداہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے بخار، سردرد، جلد اور آنکھوں کا لال ہونااور پٹھوں کی درد جیسے مسائل نظر آتے ہیں۔ اس وائرس کی وجہ سے بچوں میں قبل از پیدائش ہی دماغی کمزوری، دل کی بیماری اور دیگر مسائل ہی پیدا ہوسکتے ہیں۔

برازیل میں مائیکرو سیفلی کی بیماری سے ہلاک ہونے والے دو بچوں کے معائنے سے معلوم ہوا کہ ان کے دماغ میں زیکا وائرس موجود تھا اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ ان بچوں کی ہلاکت زیکا وائرس کی وجہ سے ہی ہوئی۔ زیکا وائرس کی تشخیص ”پی سی آر“ نامی ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے جو کہ ایک نسبتاً طویل اور مہنگا ٹیسٹ ہے اور ہر جگہ میسر بھی نہیں۔ ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد خاصی زیادہ ہوسکتی ہے لیکن تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے ابھی اس خطرناک بیماری کے پھیلاﺅ کا اصل حجم سامنے نہیں آیا۔ ماہرین زیکا وائرس کو خاموشی سے پھیلتی ہوئی نئی عالمی وباءقرار دے رہے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس