دبئی میں پاکستانی کاروباری نے اماراتی افسروں کو بھی ’پاکستانی رنگ‘ میں رنگ لیا، ایسا کام کرتے پکڑا گیا کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

دبئی میں پاکستانی کاروباری نے اماراتی افسروں کو بھی ’پاکستانی رنگ‘ میں رنگ ...
دبئی میں پاکستانی کاروباری نے اماراتی افسروں کو بھی ’پاکستانی رنگ‘ میں رنگ لیا، ایسا کام کرتے پکڑا گیا کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں سیکیورٹی حکام نے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریذیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز کے ایک افسر کو بھاری رشوت لے کر غیر قانونی ویزے پراسیس کرنے کے الزامات میں گرفتار کیا تو معلوم ہوا کہ اسے ایک پاکستانی بزنس مین نے جعلسازی پر لگا رکھا تھا۔

’خلیج ٹائمز‘ کے مطابق یہ افسر ایکسٹرنل سروس کے انٹری اینڈ ریذیڈنس پرمٹ سیکشن میں تعینات تھا۔ پبلک پراسیکیوشن کے مطابق 33 سالہ اماراتی افسر رشوت لے کر فیملی ریذیڈنس ویزا درخواستیں پراسیس کرتا تھا۔ ان درخواستوں میں بنیادی دستاویزات مثلاً لیبر یا میرج ، کنٹریکٹ وغیرہ نامکمل یا غائب ہوتے تھے، اور اسی طرح سپانسر کا شعبہ یا پیشہ نااہلی کی کیٹگری میں ہونے کے باوجود درخواستیں پراسیس کردی جاتی تھیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رشوت خور افسر بچوں کے ریذیڈنس ویزا کے لئے 300 درہم اور بڑوں کے لئے 500 درہم وصول کرتا تھا جبکہ ریذیڈنس ویزا پر مہر لگوانے یا اس کی تجدید کروانے کے لئے بھی 300 درہم وصول کرتا تھا۔

مزید جانئے: عرب شیخ سے شادی کا جھانسہ دے کر حیدر آبادی لڑکی کو ایک ایسے شخص کے گھر بھیج دیا کہ لڑکی کے ہوش اُڑگئے، پولیس حرکت میں

گرفتار کئے گئے افسر سے تفتیش پر معلوم ہو کہ اس نے ایک پاکستانی بزنس مین سے تقریباً 40 ہزار درہم وصول کئے تھے۔ اس افسر پر رشوت خوری اور جعلسازی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں جبکہ پاکستانی بزنس مین پر بھی رشوت پیش کرنے اور جعلسازی میں مدد دینے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ بزنس مین کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا تھا جب وہ رشوت خور افسر کو 2600 درہم اور سات نامکمل درخواستیں ریذیڈنس ویزا کی مہر لگوانے اور تجدید کروانے کے لئے دے چکا تھا۔

مزید : بین الاقوامی