ہسپتالوں میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات ،ڈاکٹر عد م تحفظ کا شکار

ہسپتالوں میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات ،ڈاکٹر عد م تحفظ کا شکار

لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالوں میں لاکھوں روپے ماہانہ پر رکھے گئے سیکیورٹی اہلکار ڈاکٹروں اور عملہ کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں جس کے باعث ان ہسپتالوں ،ایمرجنسی وارڈوں سمیت دیگر مقامات پر ڈاکٹروں اور مریضوں اور ان کے لواحقین میں لڑائی جھگڑے معمول بن گئے ہیں اور آئے روز ان لڑائی جھگڑوں کے باعث ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو مجبورا کام بند کرنا پڑتا ہے جس کا خمیازہ غریب مریض بھگت رہے ہیں جس کا تازہ واقع 4روز قبل جناح ہسپتال میں پیش آیا ۔ عدم تحفظ کے باعث اس ہسپتال کی سرجیکل ایمرجنسی گزشتہ 4روز سے بند پڑی ہے جبکہ سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی ڈاکٹروں اور مریضوں کے لواحقین میں لڑائی کے باعث 7دفعہ بند ہوئی ۔بتایا گیا ہے کہ محکمہ صحت کی ہدایت پر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہرہسپتال میں انتظامیہ نے پرائیویٹ سیکیورٹی تعینات کررکھی ہے اور اس کے لئے سینکڑوں سیکیورٹی اہلکار ورک چارج بنیادوں پر رکھے گئے ہیں جبکہ بعض ہسپتالوں میں سیکیورٹی کے انتظامات پرائیویٹ کمپنیوں کو ماہانہ ٹھیکے پر دیئے گئے ہیں جس پر مجموعی طور پر ماہانہ 50سے 60لاکھ روپے خرچ کئے جارہے ہیں مگر سیکیورٹی اہلکاروں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ہسپتالوں کی انتظامیہ نے سیکیورٹی اہلکاروں کی اکثریت کو ذاتی پروٹوکول لینے یا پھر گیٹوں پر تعینات کررکھا ہے جس کے باعث ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور عملہ عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ایک ماہ کے دوران لاہور کے بڑے اور چھوٹے سرکاری ہسپتالوں میں 34مرتبہ بڑی لڑائیاں ہوئیں جس کے باعث ایمرجنسیاں اور وارڈیں ڈاکٹروں کو بند کرنا پڑیں ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہر ہسپتال میں ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پولیس چوکیاں قائم کی گئی ہیں مگر ان چوکیوں میں تعینات پولیس اہلکاربھی کچھ نہیں کر رہے۔گزشتہ دنوں جناح ہسپتال کی سرجیکل ایمرجنسی میں پولیس اور ہسپتال کی پرائیویٹ سکیورٹی کی موجودگی میں ایک نوجوان آیا جو زیر علاج قیدی کو فائرنگ کر کے قتل کرکے چلا گیا اور موقع پر موجود پولیس اور پرائیویٹ سیکیورٹی اہلکار تماشا دیکھتے رہ گئے جس کے باعث ہسپتال کی سرجیکل ایمرجنسی کے ڈاکٹروں نے کام چھوڑ دیا جو آج بھی بند ہے ،اس حوالے سے وائی ڈی اے کے مرکزی راہنما ڈاکٹر عامر بندیشہ کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں،نرسوں اور دیگر عملے کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے ،آئے روز ہسپتالوں میں دھنگے فساد ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں کو کوئی نہ کوئی تشدد کا نشانہ بنا کر آرام سے فرار ہوجاتا ہے ،ہرہسپتال کی انتظامیہ نے سینکڑوں اہلکار سیکیورٹی پر تعینات کررکھے ہیں جن پر لاکھوں روپے ماہانہ خرچہ آتا ہے جنہیں ذاتی کاموں پر لگارکھا ہے ،ڈاکٹروں کو کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے ان حالات میں ڈاکٹر فرائض سرانجام کیسے دیں ہسپتالوں کی انتظامیہ ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔اس حوالے سے سیکرٹری صحت نجم احمد شاہ کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ہر صورت تحفظ فراہم کریں گے ،اس کے لئے تمام ہسپتالوں سے سیکیورٹی انتظامات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں ۔ایس او پیز بنائے جارہے ہیں ،ہر ہسپتال کا ایم ایس ،ڈاکٹروں ، نرسوں ،پیرامیڈکل سٹاف اور دیگر عملے کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا پابند ہے ۔سی سی پی او لاہور کو خط لکھ رہے ہیں کہ وہ ہسپتالوں میں جوپولیس چوکیاں بنائی گئی ہیں وہاں نفری بڑھائیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1