وزیر بے محکمہ اور افسر بکار خاص

وزیر بے محکمہ اور افسر بکار خاص
وزیر بے محکمہ اور افسر بکار خاص

  

ایک صاحب ہوا کرتے تھے خورشید حسن میر، راولپنڈی سے تعلق رکھتے تھے، پیپلز پارٹی کے بانی رکن تھے اور مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل بھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں وفاقی کابینہ میں بھی شامل کیا، مگر انہیں کوئی محکمہ نہ دیا گیا، ان کی شہرت یہی تھی کہ وزیر بے محکمہ ہیں، اسے وہ شدت سے محسوس کرتے تھے اور اعزاز کی بجائے عدم اعزاز سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ بے محکمہ وزیر کے ساتھ کسی کارکن یا ووٹر کو کوئی کام نہیں پڑسکتا، پڑ بھی جائے تو وہ کر نہیں سکتا۔ تعلیم کا وزیر، تعلیم کے بارے میں، بجلی و پانی کا وزیر بجلی و پانی سے متعلق اور ریلوے کا وزیر ریلوے کے حوالے سے کسی کا کوئی کام کروا سکتا ہے، مگر وزیر بے محکمہ تو بیچارہ نہ خود کسی کام کا ہوتا ہے، نہ کسی کا کوئی کام کروا سکتا ہے۔ کسی کو اس سے کام نہیں پڑتا، اس لئے کوئی اسے ملنے بھی نہیں آتا، وہ انتظار میں رہتا ہے کہ کوئی ملنے تو آئے۔

اسی بیچارگی نے سندھ کے حالیہ وزیر بے محکمہ میر ہزار خان بجارانی کو پریشان کر رکھا تھا،جس سے چھٹکارہ پانے کے لئے انہوں چند روز پہلے کابینہ سے استعفا دے دیا۔ میر ہزار خان بجارانی پیپلز پارٹی کے بڑے سینئر رہنما ہیں، ان کا بے محکمہ، بلکہ بے اختیار ہونے کو محسوس کرنا فطری سی بات تھی۔ وہ وفاقی وزیر اور بینظیر بھٹو کے بڑے قابل اعتماد ساتھی رہے ہیں۔ صوبائی وزیر ہونا ان کے رتبے سے کم کی بات ہے، وہ صوبائی وزارت نہ ہی قبول کرتے تو اچھا ہوتا۔ ’’عزت سادات‘‘ تو بچی رہتی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات درست نہ ہو، لیکن عام طور پر سمجھا یہ جاتا ہے کہ وزیر بے محکمہ کو کابینہ میں شامل کرنا پارٹی کی کوئی مجبوری ہوتی ہے اور انہیں بے محکمہ رکھنے کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ محکموں کی تقسیم کے حوالے سے کابینہ میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں بنتی۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے کبھی بڑے سینئر کرکٹر کو قومی ٹیم میں شامل نہیں کیا جاتا، ایسے موقع پر بھی بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ ٹیم میں اس کی جگہ نہیں بنتی۔ بعض کرکٹرز کو ٹیم سے باہر رکھنے کے لئے کبھی انہیں جبری آرام بھی کروایا جاتا ہے تاکہ اس کی جگہ کسی دوسرے کھلاڑی کو موقع دیا جائے، جسے ابھی تک زیادہ میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ بعض کھلاڑی اس جبری آرام سے اتفاق نہیں کرتے،بلکہ احتجاج کرتے ہیں۔

بات میر ہزار خان بجارانی کی ہو رہی تھی، وہ بھی پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں شامل ہیں، ان کا تعلق سندھ کے علاقے کشمور سے ہے، مگر رہتے ڈیفنس کراچی میں ہیں۔ وہ دو مرتبہ 1974ء اور 1977ء میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، پھر انہیں پارٹی نے 1997ء، 2002 اور 2008ء میں قومی اسمبلی کے لئے ٹکٹ دئیے اور وہ تینوں مرتبہ انتخاب جیت گئے، اس عرصے میں 1988ء میں پارٹی نے انہیں سینٹ میں بھی بھیجا۔ وہ مختلف مواقع پر دفاع، صحت، ہاؤسنگ، تعلیم، صنعت اور صوبائی رابطے کے وفاقی وزیر بھی رہے۔ اس سب کچھ سے معلوم ہوتا ہے کہ میر ہزار خان بجارانی کا پیپلز پارٹی میں کیا مقام تھا اور ان کا سیاسی کردار کتنا بھرپور تھا، مگر 2013ء کے عام انتخابات میں پارٹی نے ان کے بیٹے کو قومی اسمبلی میں بھیج دیا اور انہیں صوبائی اسمبلی میں رکھا۔

امکان تو یہی ہے کہ میر ہزار خان بجارانی کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ انہیں اعتماد میں لے کر کیا گیا ہوگا اور سندھ کابینہ میں لینے کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا گیا ہوگا، مگر بے محکمہ رکھا جانا انہیں پسند نہ آیا، کیونکہ وہ اپنے وسیع وزارتی تجربے کی بنیاد پر کوئی بھی وزارت دوسروں سے بہتر چلا سکتے تھے۔ وہ لاء گریجوایٹ ہیں، مگر ان سے اس شعبے میں کبھی کوئی کام نہیں لیا گیا۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے کہ انجینئر کو وزارت تجارت، ڈاکٹر کو وزارت قدرتی وسائل (تیل اور گیس) اور پروفیسر کو پیداوار کی وزارت دے دی جاتی ہے۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ سیاستدان ہر فن مولا ہوتا ہے، ہر محکمہ چلا سکتا ہے، اسی وجہ سے ایف اے تعلیم والے لوگ گورنر بھی بن سکتے ہیں اور پی ایچ ڈی وائس چانسلر کے سربراہ، چانسلر یعنی ان کے افسر ہوسکتے ہیں، اسی طرح بلدیاتی اداروں کے بہت کم پڑھے لکھے ارکان بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ افسروں کے افسر بنتے ہیں۔ گویا جنگ اور محبت کی طرح سیاست میں بھی سب چلتا ہے۔ جنگ، محبت اور سیاست ایسے معاملات ہیں جن میں بہت سے اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے، ترتیب اور سلیقے کے بغیر جنگ لڑی جاسکتی ہے، نہ محبت چلائی جاسکتی ہے، ان میں سب نہیں چلتا، سیاست میں بھی سب نہیں چلتا، اگر چلتا ہے تو پھر ملک نہیں چلتا، سیاست دان ہی چلتے ہیں۔

جس طرح وزیر بے محکمہ ہونا کوئی اعزاز کی بات نہیں، اسی طرح کا معاملہ کسی بیوروکریٹ کے افسر بکار خاص ہونے کا ہے۔ انگریزی میں اسے آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی کہا جاتا ہے جس سے بعض لوگ تاثر لیتے ہیں کہ یہ کوئی سپیشل افسر ہے جو اپنے پائے کے دیگر افسروں سے بڑھ کر خصوصی طور پر کوئی فریضہ سرانجام دیتا ہے، اس کے برعکس بیورو کریسی کے کل پرزے سمجھتے ہیں کہ جس کسی کو افسر بکار خاص بنایا جاتا ہے، وہ کام سے گیا۔ کسی کو افسر بکار خاص عام طور پر اصل منصب پر اس کی کارکردگی ٹھیک نہ ہونے یا اس سے کوئی غلطی سرزد ہونے پر بنایا جاتا ہے۔ یہ غلطی اپنے سے بڑے افسر کی عدم خوشامد کرنا یا اس کی خوشنودی حاصل نہ کرنا بھی ہوسکتی ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ ہر افسر کو اپنے ماتحت کے طور پر قابل اور محنتی فرد کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اعلیٰ افسر اپنے کام کا بوجھ بھی اس پر ڈال سکے، اگر اب اس سے مختلف پیمانے قائم ہوچکے ہیں تو یہ ایک الگ بات ہے۔جس طرح افسر مختلف زمروں اور مزاجوں کے ہوتے ہیں، اسی طرح کارکنوں کے بھی دو اہم درجے ہوتے ہیں، ایک کام کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے اور دوسرا نہیں ہوتا۔ پہلے زمرے کے کارکن کو زیادہ کام دیں تو اس نے اسے تھوڑے وقت میں مکمل کرلیا ہوتا ہے اور کام کی خواہش نہ رکھنے والے کو دیا جائے تو اس نے اسے تھوڑا کام زیادہ وقت میں بھی نہیں کیا ہوتا۔ کام کرنا اعزاز کی بات ہے اور نہ کرنا عدم اعزاز کی۔ اسی وجہ سے یہ سوچنا بہت اہمیت رکھتا ہے کہ ہم کام کرنے کی خواہش رکھنے والے بننا چاہتے ہیں یا کام نہ کرنے کی خواہش رکھنے والے؟

مزید :

کالم -