دشتِ سخن کے رَہ نورد۔۔۔جناب عالی (1)

دشتِ سخن کے رَہ نورد۔۔۔جناب عالی (1)
 دشتِ سخن کے رَہ نورد۔۔۔جناب عالی (1)

  

جناب جمیل الدین عالی کو میں پختہ گو، شگفتہ فکر، رومانی شاعر کے طورپر جانتا، مانتا ہوں، وہ جدی پشتی نواب تھے، مُنہ میں چاندی کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے مگر پاکستان آمد کے بعد بہت سے دیگر مہاجرین کی طرح تنگ دستی ان پر بھی غالب رہی، ایک سو چھتیس روپے ماہوار کی کلرکی اور پھر شام کو ایک اخبار میں پچاس روپے ماہانہ کی جزوقتی یافت پر گزر اوقات۔ ہجرت کر کے آنے والے اکثر جوہر قابل اس دور کسمپرسی سے سرخروگزرے۔ اسی قبیل کے اکثر خانہ خرابوں کو مقامی لوگوں نے ’’پودینے کے باغات‘‘ چھوڑ آنے کی پھبتی پر بھی رکھا۔ بہرحال ہجرت کے بعد نواب زادہ مرزا جمیل الدین احمد خاں عالیؔ نے اللہ کے فضل وکرم اور اپنے زور بازواور حسنِ تدبر سے اسی پاکستان ، خصوصاً شہر کراچی میں وہ سب کچھ حاصل کیا جس کی عام آدمی تمنا ہی کرسکتا ہے۔ وہ پڑھے لکھے آئے تھے پاکستان آکر اپنے مستقل مستقر میں چھوٹی موٹی ملازمتوں پر اکتفا کرکے نہیں بیٹھے۔ سی ایس ایس کا امتحان دوسری کوششوں میں پاس کیا تو آئندہ زندگی میں کامیابی و کامرانی، اقتدار وافتخار اور دولتِ دنیا کی فراوانی کے درکھلتے ہی چلے گئے۔ ابتداء سے شعروشاعری کی للک تھی عالیؔ تخلص کے ساتھ مقام بھی عالی حاصل کیا۔ اگرچہ شروع میں اس قسم کی وقتی مایوسی نے بھی گھیرا :

کیوں بجھ گئے ہو آتشِ پنہاں کو کیا ہوا

عالیؔ تمہارے سوزِ دل وجاں کو کیا ہوا

جمیل الدین عالیؔ 20جنوری 1926ء کو نواب سراج الدین احمد خاں المعروف فرخ میرزا والئی ریاست لوہارو کے ہاں پیدا ہوئے۔ اس وقت ریاست لوہارو مشرقی پنجاب میں ہریانہ کا حصہ تھی۔ جمیل الدین خاں نے اینگلو عربک کالج دہلی سے صرف سولہ برس کی عمر میں 1942ء میں بی اے پاس کرلیا۔ پاکستان آکر جامعہ کراچی سے 1976ء میں ایل ایل بی بھی کیا۔ 1961ء میں یونیسکو فیلوشپ حاصل کی، 1978ء میں جنیوا سے کارپوریٹ پلاننگ انٹرنیشنل ایجوکیشن اینڈ انڈسٹریل انسٹی ٹیوٹ سے ڈپلومالیا۔ 1948ء میں وزارت تجارت میں کلرکی سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا اور 1965ء میں سرکاری ملازمت سے مستعفی ہوگئے۔ 1966ء میں نیشنل پریس ٹرسٹ سے بھی استعفا دے دیا اور 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوگئے جہاں سینئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ اور ممبر ایگزیکٹو بورڈ کے عہدوں تک پہنچے۔ نیشنل بینک میں سابق گورنر مغربی پاکستان اختر حسین کی طرح فیض رساں رہے اور خالد شمس الحسن کی طرح چن چن کر شعراء وادباء کو بینک میں برسرروزگار کرایا۔ ادبی جرائد ورسائل کی سرپرستی اشتہارات کی صورت میں کرتے رہے۔

جمیل الدین عالی دسمبر 1988ء میں بطور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوئزر پاکستان بینکنگ کونسل سے ریٹائر ہوئے۔ میں ستمبر 1966ء سے 1980ء تک مسلسل پندرہ برس لاہور کے فقید المثال ادبی ماہنامے ’’ادب لطیف‘‘ کا ایڈیٹر رہا۔ اس دوران میں متعدد بار اشتہارات کی شکل میں جناب خالد شمس الحسن اور جناب جمیل الدین عالی کا عملی تعاون مجھے حاصل رہا۔ 1975ء میں جب مَیں نے ادب لطیف کا چالیس سالہ نمبر نکالنے کا ڈول ڈالا تو حسبِ معمول اشتہارات کے حصول کے لئے مَیں نیشنل بینک میں جناب عالی سے ملا اور ان سے خصوصی شمارے کے لئے کلام کا طالب ہوا کہنے لگے ’’میاں تم جو یہ چالیس سالہ عظیم و ضخیم نمبر نکالنا چاہ رہے ہو اس کے لئے اشتہارات کے سہارے کی اشد ضرورت ہوگی، اگر میری غزل یا نظم لوگے تو پھر اسی شمارے میں اشتہار نہ لگ سکے گا اگر اشتہار درکار ہے تو کلام نہیں ملے گا‘‘۔ مَیں نے ایک لمحہ توقف کئے بغیر کہا، اشتہار کو رہنے دیجئے اپنا تازہ غیرمطبوعہ کلام عنایت فرمائیے ‘۔ چنانچہ انہوں نے بڑی ردوقدح کے بعد غزل دے دی جو ’’ادب لطیف‘‘ کے چالیس سالہ نمبر کی زینت بنی۔ نیشنل بینک کا اشتہار اس نمبر میں نہ چھپ سکا، عالی صاحب طبعاً نواب، کشادہ دست، عالی ظرف ، ہمدرد، سخی انسان تھے۔

انہوں نے میری وقتی قربانی کے صلے میں آئندہ جب تک میں ایڈیٹر رہا ’’ادب لطیف‘‘ کو نیشنل بینک کے اشتہار سے محروم نہ رکھا۔ان سے پہلے خالد شمس الحسن کا بھی یہی حسن سلوک رہا، جب بھی میں لاہور سے کراچی جاتا اور خالد صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل کرتا تو وہ اپنی مخصوص نشست سے اٹھ کر میرے پہلو میں صوفے پر آبیٹھتے۔ بہت عمدہ کافی پلاتے ساتھ ہی اپنے عظیم والد گرامی قدر، قائداعظم کے ساتھی مولوی شمس الحسن اور حضرت قائداعظم کی باتیں کرتے جاتے کہ دونوں ہی مسلم لیگ میں لازم وملزوم تھے۔ رخصت کی اجازت طلبی کے ساتھ ہی اشتہار معہ ریلیز آرڈر موجود ہوتا جو ان کے پی اے میرے سپرد کردیتے۔ جناب مشتاق احمد یوسفی کا برتاؤ بھی اسی طرح کا تھا۔ اب ایسے وضعدار ، ادب نواز، ادب پرور لوگ کہاں ہیں ؟ اللہ تعالیٰ لونگ لیجنڈ مشتاق احمد یوسفی صاحب کو صحت و سلامتی کے ساتھ عمر دراز عطا کرے، وہ بھی وضعداری میں اول تھے غالباً اس زمانے میں سٹینڈرڈ بینک کے سربراہ تھے۔ تپاک سے ملتے، اشاعت کے لئے تحریر تو کبھی ایک آدھ ہی دی تاہم میرے پندرہ سالہ دور ادارت میں ’’ادب لطیف‘‘ کو اشتہار سے ہمیشہ نوازا۔ حسب معمول ودستور بینک کی سربراہی کی کرسی سے اٹھ کر صوفہ پر آبیٹھتے، چائے، کافی کی پرتکلف تواضع کے بعد، وقت رخصت ارشاد فرماتے:’’ جاتے ہوئے ذرا این اے بخاری ایڈورٹائزنگ کمپنی میں نصرت بخاری صاحب سے ملتے جائیے گا ‘‘ ۔ میں جاتا تواشتہار معہ ریلیز آرڈر تیار ملتا کہ فون پر ان کو اطلاع دی جاچکی ہوتی تھی۔ ہائے کہاں سے لائیں اب ایسے لوگ ؟ تہذیبی روایت اوراپنے مخصوص معاشرتی رکھ رکھاؤ کے حامل یہ لوگ اب یادگار زمانہ ہی ہیں۔

جناب جمیل الدین عالی نے صدرایوب خان کے حشر خیز دور 1959ء میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے قیام میں بنیادی کردار اداکیا۔ وہ 1959ء سے 1967ء تک مرکزی رکن اور 1967ء تا 1970ء سیکرٹری جنرل پاکستان رائٹرز گلڈرہے۔ انہی کے دور میں پہلی بار میں نے بھی مغربی پاکستان رائٹرز گلڈ کی ایگزیکٹو باڈی کے لئے ممبری کا آزادانہ طور پر الیکشن لڑا۔ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا اور پھر آج تک کوئی الیکشن نہیں ہارا اور بالآخر سیکرٹری جنرل کے عہدے تک پہنچا۔ ہر موقع پر سب سے پہلے عالی صاحب نے مبارک باد دی۔ گزشتہ پچاس برس کے دوران ایک بار ایسا ہوا کہ میں نے محمد طفیل (مدیر نقوش) کے پینل میں شامل ہوکر مرکزی سیٹ کے لئے الیکشن لڑا۔ مرکز کی دوسیٹوں کے لئے دوسرے امیدوار خود محمد طفیل تھے۔ ہمارا سارا پینل سوائے میرے جیت گیا دوسرے پینل سے صرف قتیل شفائی مرکزی سیٹ جیت سکے۔ سیکرٹری جنرل کے انتخاب میں محمد طفیل جیت گئے، اور ان کی مرکزی سیٹ خالی ہوگئی سب سے زیادہ ووٹوں کی وجہ سے مجھے ’’آپٹ‘‘ کرلیا گیا یوں میں مرکزی رکن منتخب ہو گیا۔ کراچی میں الیکشن کا یہ عمل زیر نگرانی ممتاز افسانہ نگار غلام عباس (الیکشن کمشنر ) ہوا میری ہار پر محمد طفیل مجھ سے زیادہ دل گرفتہ تھے۔ ہم دونوں کو جناب عالی اپنے ہمراہ لے کر پی سی ہوٹل گئے، عمدہ کھانا کھلایا پھر گھر لے گئے جہاں ہمارے قیام کا بہترین انتظام تھا۔ یوں عالی صاحب نے ہم دونوں دل شکستوں ، دل گرفتوں کی دلجوئی کی۔ اس روز کھلا کہ بحیثیت انسان عالی صاحب کتنے وسیع الظرف ہیں اگرچہ ان کی ہمدردیاں اور عملی تعاون قتیل شفائی گروپ کے ساتھ تھا لیکن انہوں نے کراچی میں ہماری مہمان نوازی کو مقدم جانا۔ یہ بات بہت سے قارئین کے لئے انکشاف ہی ہوگی کہ عالی صاحب کبھی مائل دہلوی بھی ہوا کرتے تھے، مگر یہی تخلص ان کے رشتے کے چچا جناب سائل دہلوی کے استاد بھائی کا بھی تھا جو جے پور میں زیادہ مقیم رہے اسی لئے تذکرہ شعرائے جے پور میں سرور تونسوی (مدیر ’’شان ہند‘‘ دہلی) نے انہیں مائل دہلوی کے بجائے مائل جے پوری بنادیا ہے انہی مائل جے پوری (دراصل مائل دہلوی) کاایک ناقابل فراموش شعر ہے :

یہ کہہ کے چھیڑتے ہیں جوانانِ مے کدہ

مائل تمہیں سلام کہا ہے بہار نے

اور عالی صاحب کے چچا کا جوابھی میں نے اوپر ذکر کیا تو وہ دراصل نواب سراج الدین احمد خاں سائل دہلوی تھے۔ ان کے بھی دوشعر ملاحظہ ہوں :

تیغ نہ تھی،ادا نہ تھی، نیت قتل کیوں پھری

مَیں نے یہ کب کہا کہ یوں،مَیں نے نہیں کہا کہ یوں

اور:

اس خطر سے سارے پیراہن کی کردیں دھجیاں

اشکِ خوں دامن پہ میرے داغِ رسوائی نہ ہو

(جاری ہے)

جمیل الدین عالی کے تخلص کے حوالے سے ممتاز لیجنڈ افسانہ نگار، کالم نویس جناب انتظار حسین نے روزنامہ ’’مشرق ‘‘ لاہور میں اپنے کالم ’’ملاقاتیں‘‘ میں ایک بار لکھا تھا : ’’عالی نے ایسے خاندان میں آنکھ کھولی اور کیا کیا شوق دیکھے؟۔ شطرنج، پچیسی ، گھوڑسواری، پتنگ بازی شاعری مگر ابھی بارہ برس کا سن تھا کہ یتیمی کا داغ لگ گیا، پھر باقی شوق کیسے پنپتے؟۔یتیم بچے کے لئے خالی شاعری رہ گئی!۔ سائل جیسا شاعر بیٹھا تھا، دور کے رشتے میں چچا ہوتے تھے ان سے ہی متاثر ہوکر جمیل الدین نے پہلے اپنا تخلص مائل رکھا مگر چچا ضمیرالدین خان نے عالی سے کہا کہ دادا کا تخلص رکھ لو۔ دادا علاؤالدین خاں علائی کے لئے غالب نے تین تخلص تجویز کئے تھے علائی۔ عالی۔ نسبی دادا کے چھوڑے ہوئے تخلصوں میں سے جمیل الدین مائل نے اپنے لئے عالی تخلص چن لیا۔ پھر وہ جمیل الدین مائل سے جمیل الدین عالی بن گئے ‘‘۔ اور اب ملاحظہ ہو سابق مائل دہلوی یعنی جمیل الدین عالی کی ابتدائی غزل کا ایک شعر :

تجھ میں کیا بات ہے جو مجھ میں نہیں ہے ظالم

ہاں مگر تیرے لئے میرا پریشاں ہونا

جمیل الدین عالی ایک سچے پکے پاکستانی شاعر تھے پاکستان اور پاکستانیت ان کی پہچان تھی۔ ایوب خان کے دور میں انہوں نے ادیبوں، شاعروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک طرح سے ٹریڈ یونین پاکستان رائٹرز گلڈ بنوائی۔ قدرت اللہ شہاب کرتا دھرتا تھے تو یہ پھبتی بھی انہیں ہی سننی پڑی:

جب کہیں انقلاب ہوتا ہے

قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے

اس دور میں صدرایوب خاں نے کہا تھا کہ ’’مغربی اور مشرقی پاکستان کو ایک دوسرے سے ملائے رکھنے میں پی آئی اے اور پاکستان رائٹرز گلڈ نے اہم کردار ادا کیا، اور اس اہم کردار میں بلاشبہ جمیل الدین عالی کا خون جگر شامل تھا۔ جمیل الدین عالی نے بڑی کامیابی کے ساتھ پاکستان رائٹرز گلڈ کو چلایا، گلڈ کے پلیٹ فارم سے انہوں نے شاعروں ادیبوں کے لئے کاپی رائٹ ایکٹ بھی منظور کروایا ۔

بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق کے اردو کالج اور اردو یونیورسٹی بنانے کے خواب عملی تعبیر دینے میں اپنا پورا پورا حصہ ڈالا۔ اردو یونیورسٹی کے لئے قبضہ گروپ سے خطیر مالیت کی زمین واگزار کرائی۔ وہ متعدد ادبی و ثقافتی انجمنوں کے رکن رہے۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے معتمد کے طورپر سینکڑوں کتابوں کے تعارف لکھے ان میں سے ایک سو پچاس کے لگ بھگ ’’حرفے چند‘‘ کے عنوان سے ایک کتابی شکل میں چھپے۔ ان کی شعری تصانیف ’’غزلیں، دوہے، گیت، جیوے جیوے پاکستان‘‘۔’’لاحاصل، دوہے، اور دیگر کتابوں میں دینا مرے آگے، (سفرنامہ) تماشا مرے آگے (سفر نامہ) صداکرچلے (کالم) دعا کر چلے ( کالم ) اور ’’اے مرے دشتِ سخن ‘، آخری (شعری مجموعہ ) روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں، 1963ء سے جمیل الدین عالی ’’دنیا مرے آگے‘‘ کے عنوان سے کالم نویسی کرتے رہے۔ انہوں نے بہت سے ایوارڈز حاصل کئے ’’جنگ‘‘ کراچی سے طویل رفاقت کا ایوارڈ بھی لیا۔

وہ 1977ء میں سینیٹر بھی بنائے گئے۔ ان کے سینیٹر بننے کے دور کی دلچسپ یادوں میں قارئین کو شریک کرتا چلوں۔

جناب جمیل الدین عالی سینیٹر کے طورپر سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد میں مقیم ہوتے تو ان سے اکثر ملاقات رہتی کہ میں بھی اسلام آباد ہی میں تھا۔ ان دنوں جناب نذیر ناجی اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین تھے۔ میں نے ہرماہ مقتدر ادباء و شعرا کے ساتھ ماہانہ شام پذیرائی ‘‘ کی تجویز دی جسے ناجی نے پزیرائی بخشی چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے ’’خدا کی بستی‘‘ والے شوکت صدیقی کے ساتھ شام منانے کا پروگرام مرتب کیا۔ نظامت کار میں تھا، آئیڈیا بھی میرا ہی تھا۔ چنانچہ میں جناب عالی کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ آپ اپنے دوست اور رائٹرز گلڈ کے ساتھی شوکت صدیقی پر مضمون پڑھیں گے۔ فوراً دن تاریخ وقت معلوم کرکے کہا مگر اس سے ایک دن پہلے تو میں کراچی واپس جاچکا ہوں گامجھے بلانا ہے تو کراچی سے بلواؤ چنانچہ نذیر ناجی جب سے بات کرکے انہیں کراچی تا اسلام آباد جہازکا ریٹرن ٹکٹ دیا گیا ہوٹل کا قیام وطعام بھی جبکہ بہت بعد میں یاروں نے چغلی کھائی کہ وہ واپس کراچی نہیں گئے تھے اسلام آباد ہی میں تھے ۔خیر !شاعروں ادیبوں کے نزدیک اس قسم کی موشگافیاں معمول کی بات رہی ہے۔ ابوالاثر ، حفیظ جالندھری اور حمایت علی شاعر بھی منتظمین مشاعرہ کے سامنے اسی قسم کی شرائط رکھ دیا کرتے تھے۔ حفیظ صاحب کبھی لاہور اور راولپنڈی ، دوشہروں کے رہائشی تھے اور حمایت علی شاعر حیدر آباد اور کراچی کے بیک وقت رہائشی چنانچہ مشاعرے میں شرکت کے لئے جہاں کا فاصلہ زیادہ بنتا وہ مشاعرے والے دن وہاں سے آمدورفت کے لوازمات منتظمین سے منوا لیتے تھے ۔!

عالی صاحب کو حکومت پاکستان سے صدارتی تمغابرائے حسن کارکردگی بھی ملا۔ کراچی کی 20سے زیادہ روٹری کلبوں سے نشان سپاس اور آرٹس کونسل کراچی سے 5بار نشان سپاس ملا۔ وہ ان سب اعزازات کے بجاطورپر مستحق تھے۔

جمیل الدین عالی پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز سے کمال فن ایوارڈ 2006ء میں ملا اور کینیڈین اکیڈمی آف لیٹرز سے بھی ایوارڈ ملا ۔ نواب میزرا صمصام الدین احمد خاں فیروز ان کے سسر تھے جن کا مشہور زمانہ شعر ہے :

عیادت رسم دنیا تھی چلے آتے تو کیا ہوتا

تمہارے پوچھ لینے سے نہ جی جاتے نہ مرجاتے

خواجہ میر درد کی پوتی شاعرہ وحید جناب عالی کی خالہ تھیں گویا سارا خانوادہ ہی شعروسخن کا دلدادہ تھا جمیل الدین عالی نے ریڈیو ٹی وی کے لئے بہت سے ملی نغمے لکھے۔ دونوں بڑی جنگوں کے دوران رزمیہ ترانے بھی لکھے مہدی ظہیر ضو کی آواز میں ’’اسلامک سمٹ ‘‘ کے یادگار موق پر لکھا گیا قومی نغمہ :

ہم مصطفوی ۔ مصطفوی ۔ مصطفوی ہیں ۔

واقعی یادگار ہے۔اور ’’جیوے ، جیوے پاکستان‘‘ بھی انہوں نے کبھی کہا تھا :

گاہے گاہے یاد کرلینے سے کیا یاد آئے گا

یاد ہی رکھنا مجھے یا بھول ہی جانا مجھے

انہوں نے ’’دوہے‘‘ لکھے تو بقول ڈاکٹر فرمان فتحپوری ’’دوہے کی صنف کو رتبۂ اعتبار بخشا‘‘۔ عالی صاحب کے دوچار دوہے ملاحظہ ہوں :

ساجن ہم سے ملے بھی لیکن ایسے ملے کہ ہائے !

جیسے سوکھے کھیت سے بادل بن برسے اڑجائے

دوہے گیت سناکر عالی من کی پیاس بجھائے

من کی پیاس بجھی نہ کسی سے اسے یہ کون بتائے

ایک تو یہ گھنگھور بدریا پھر برہا کی مار

بوند پڑے ہے بدن پہ ایسے جیسے لگے کٹار

جمیل الدین عالی کی مختلف غزلوں سے کچھ خاص اشعار اہل ذوق قارئین کے لئے :

عمر بھر کا یاد ہے بس ایک افسانہ مجھے

میں نے پہچانا جسے اس نے نہ پہچانا مجھے

انجمن کی انجمن مجھ سے مخاطب ہوگئی

آپ نے دیکھا تھاشاید بے نیازانہ مجھے

کچھ نہ تھا یاد بجز کار محبت اک عمر !

وہ جو بگڑا ہے تو اب کام کئی یاد آئے

سب نے رد کردیا تو پھر میں نے

اپنے ہونے کا اعتبار کیا

تم ایسے کون خدا ہو کہ عمر بھرتم سے

امید بھی نہ رکھوں ناامید بھی نہ رہوں

اور ایک مقطع میں جناب جمیل الدین عالی کا یہ دعویٰ فی الحقیقت درست تھاکہ :

یہ امتیاز ہے غالبؔ کے بعد عالی ؔ کا

کہ جس پہ آپ مرے ہیں اسے بھی مارآئے

20جنوری 1926ء کو دہلی کے افق پر طلوع ہونے والا ستارۂ ادب ،مہر عالم تاب کی صورت میں 23نومبر 2015ء کو ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔ 24نومبر کو ڈیفنس کراچی کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ۔سدا رہے نام اللہ کا ۔

اس موقع پر لگے ہاتھوں ایک دو غلط بخشیوں کی نشاندہی کرتا چلوں ، تو بے جا نہ ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر احسن اختر ناز نے جو خود بھی شاعر ہیں اور خوش گو مرحوم شاعر مجذوب چشتی کے صاحبزادے ہیں ،6اکتوبر 2012ء کو روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں اپنے کالم کے ذریعے دو شعر جمیل الدین عالی ؔ کو بخش دیئے کہ :

اک دوسرے سے بچ کے نکلنا محال تھا

اک دوسرے کو روند کے جانا پڑا ہمیں

اپنے دیئے کو چاند بتانے کے واسطے

بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑا ہمیں

جبکہ یہ اشعار جلیل عالی کے ہیں، جمیل الدین عالی کے ہرگز نہیں۔

اسی غزل کا جلیل عالی کا مطلع اور ایک اور شعر دیکھئے :

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں

خود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیں

ذیلی حکایتوں میں سبھی لوگ کھوگئے

قصہ تمام بھر سے سنانا پڑا ہمیں

اسی طرح نورجہاں کا گایا ہوا مشہور قومی نغمہ :

اے وطن کے سجیلے جوانو!

میرے نغمے تمہارے لئے ہیں

قتیل شفائی کا ہے، عالی صاحب کا نہیں اور ایک نغمہ :

میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں

پر کام کروں گا بڑے بڑے

بھی قتیل شفائی کا ہے جو برسوں پہلے ’’کھلونا ‘‘ دہلی میں قتیل شفائی کے نام سے ہی چھپا تھا یہ غلط بخشی نجانے کیوں اور کیسے روار کھی جارہی ہے ؟

مزید : کالم