اقتصادی راہداری منصوبہ

اقتصادی راہداری منصوبہ
 اقتصادی راہداری منصوبہ

  

چینی سرما یہ کا ری کے مزاج کو سمجھنے کے لئے دنیا بھر میں بہت تحقیق ہو ئی ہے۔ اس حوالے میں روانڈا کے صدر پال کاگمے کے 2009میں لکھے گئے آرٹیکل Why Africa welcomes the Chineseکو بھی بہت شہرت ملی۔ اس آرٹیکل کو مغرب کے تقریبا تمام بڑے اخبا رات نے بھی شا ئع کیا۔ پال کاگمے نے اس آرٹیکل میں بنیا دی طور پر یہی مو قف اختیا ر کیا کہ مغربی ممالک جب کسی ملک میں سرمایہ کا ری کرتے ہیں تو اس سرما یہ کا ری کے ساتھ بہت سی ایسی شرا ئط بھی عا ئد کر دیتے ہیں کہ جن کا تعلق معیشت سے زیا دہ سیاست یا کسی حد تک سامراجی عزائم سے ہو تا ہے جبکہ اس کے بر خلاف چینی سرمایہ کا ری میں اس طرح کی شرائط عائد نہیں کی جا تیں۔ چین کا مقصد صرف اور صرف سرمایہ کا ری اور اس کے معاشی فائدوں تک ہی محدود ہو تا ہے۔افریقہ کے ساتھ ساتھ لا طینی امریکہ اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں بھی چینی سرما یہ کاری کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے کیو نکہ امریکہ کے بر خلاف ان علا قوں میں چین کے کسی قسم کے سامراجی عزائم نہیں ہیں۔

ایک طرف جہا ں دنیا بھر میں چینی سر ما یہ کا ری کو راغب کرنے کیلئے کو ششیں ہو رہی ہیں ایسے میں اسے ہماری خوش قسمتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ چین نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ابھی پا کستان دہشت گردی سمیت کئی طرح کے مسائل کا شکا ر ہے اس کے با وجود اس نے پاکستان کے مستقبل پر اعتماد کرتے ہو ئے45ارب ڈالرز سے زائد کی سرما یہ کا ری کا فیصلہ کیا۔اتنی بڑی سرما یہ کا ری کے ہی با عث چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو دنیا بھر کے میڈیا نے پا کستان کیلئے ’’گیم چینجر ‘‘کا نا م دیا۔عالمی میڈیا میں تبصر ے کئے گئے کہ اگر45ارب ڈالرز سے زائد کے منصوبے تکمیل تک پہنچ گئے تو پا کستان ایک اہم معا شی حیثیت حا صل کر جا ئے گا،مگر بہ حیثیت ایک قوم کے یہ امر ہما رے لئے شرمندگی کا با عث ہو نا چاہیے کہ ہم قومی ترقی کے اس انتہا ئی اہم اور نا در مو قع سے فائدہ اٹھانے کی بجا ئے اپنی روایتی تنگ نظر ی اور خود غر ضی پر مبنی سوچ تک ہی محدود ہو کر رہ گئے۔اقتصادی راہداری منصوبے پر ہما رے اندرونی اختلا فات کے با عث چین کے سفا رت خانے کو بھی یہ بیا ن جا ری کرنا پڑا کہ چین یہ امید کرتا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے پر سازگار ماحول بنا نے کے لئے پا کستان کے متعلقہ فریقین کوآرڈینیشن کو بہتر بنا ئیں گے۔

چینی سفارت خانے کا یہ بیان علا قائیت اور صوبائیت کے تعصب میں گر فتا ر حکمرانوں اور سیاست دانوں کی آنکھیں کھولنے کے کافی ہونا چاہئے ۔28مئی 2015ء کو آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر اگر اس بات پر اتفاق کر لیا گیا تھا کہ اس منصوبے پر مغربی راہداری، یعنی تربت، پنجگور، بسیما، سہراب، قلات،کوئٹہ،قلعہ سیف اللہ اور ژوب سے ڈیرہ اسماعیل خان تک روٹ پر پہلے کام شروع کیا جا ئے گا تو پھر اس فیصلے پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی ہو نا چا ہے تھا۔اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ چھوٹے صوبوں کی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بھی اعلانیہ اس منصوبے کے خلاف بغاوت کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔اے این پی اور بلوچ قوم پرست جماعتیں ہی نہیں، بلکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف جیسی مُلک گیر جماعتیں بھی اس منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔پیپلز پا رٹی کے رہنما الزام لگا رہے ہیں کہ ن لیگ کی حکومت اس منصوبے سے پنجاب کو ہی فا ئدہ پہنچانا چا ہ رہی ہے۔

چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر ابہام کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وفا قی حکو مت شروع سے ہی اس منصوبے کی کھل کر وضا حت نہیں کر سکی اور تو اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گو رنرنے بھی اس منصوبے پر کھل کر اپنی کنفیوژن کا اظہا ر کیا اور حکومت سے اس میگا منصوبے کے تحت توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی تفصیلات فرا ہم کر نے کا مطا لبہ بھی کیا ۔گو رنر سٹیٹ بینک کے اس بیان کے بعد حکومت کو منصوبوں کی تفصیلات دینے کا خیال آیا اور وزیر خزانہ اسحق ڈار نے اس حوالے سے پریس کا نفرنس کی۔ اگر وفا قی حکومت شروع سے ہی اس منصوبے کی کھل کروضاحت کر تی ،چھوٹے صوبوں کو اعتما د میں لیتی تو آج یہ بد اعتما دی اور ابہام کی فضا مو جود نہ ہوتی۔ وفاقی حکومت کا ایسا رویہ صرف چائنا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ بہت سے اہم قومی ایشوز پر بھی سیاسی جماعتوں اور فریقین کو اعتماد میں کم ہی لیا جا تا ہے۔ بجلی بحران ،توانا ئی کے شعبے میں گر دشی قرضوں،آئی ایم ایف قرضوں کا پروگرام ،اداروں کی نجکا ری کے منصوبے،ایل این جی کی درآمد جسے انتہا ئی حساس معاملات میں حکومت کو اس لئے مشکلا ت کا سامنا رہا کیونکہ ان ایشوز پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے حکومت کی جا نب سے کو ئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

ایسے ہی رویے کے باعث اب اقتصادی راہداری منصوبے پر بھی اتفاق رائے پیدا نہیں ہو رہا۔یہ درست ہے کہ سیکورٹی کی انتہا ئی مخدوش صورت حال کے با عث کئی علاقوں میں صنعتی پا رکس،معاشی زونز،ڈرائی پورٹس، موٹر ویز کا قیا م ممکن نہیں مگر وفاقی حکو مت صوبوں کو یہ یقین دہانی تو کرواسکتی ہے کہ ایسے علاقے اگر اس سرما یہ کا ری سے براہ راست مستفید نہ بھی ہو پا ئے تو پھر بھی ایسی پالیسیاں اختیار کی جاسکتی ہیں جن سے ایسے محروم علاقے بالواسطہ طور پر ہی مستفید ہو سکیں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں سیکیورٹی کا ایشو بھی حکومت پاکستان کے لئے بہت زیا دہ اہمیت کا حامل ہے۔یہ منصوبہ تو اربوں ڈالرز کا ہے اگر کسی سرما یہ کا ر نے لاکھوں ڈالرز کی بھی سرما یہ کا ری کر نی ہو تو وہ بھی سیکورٹی کی ضمانت مانگتا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس وقت 8000سے زائد سیکیورٹی اہلکار پاکستان میں موجود چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لئے مامور ہیں۔ جبکہ اس وقت 8,100چینی شہری پاکستان کے مختلف علا قوں میں 210پراجیکٹس پر کا م کر رہے ہیں۔گزشتہ دو سال کے عرصے میں ایسے منصوبوں میں کام کرنے والے 10 سے زائد چینی شہری پا کستان میں ہلاک کئے گئے ۔ اسی طرح گزشتہ سال بلو چستان کے ضلع چا غی میں سینڈک منصوبے پر کا م کرنے والی چینی کمپنی پر حملہ کرکے اس کے 10سے زائد تیل کے ٹینکروں کو نقصان پہنچا یاگیا اور اس واقعہ میں دوچینی انجینئرز بھی ہلا ک ہو ئے۔ اس واقعہ کے بعد چینی حکومت نے پا کستان میں مو جود چینی شہریوں کی سیکیو رٹی مزید مضبوط بنا نے کا مطا لبہ کیا تھا ۔اب اقتصادی راہداری منصوبے کے دوران چینی شہریوں کی سیکیورٹی کویقینی بنا نا حکومت پاکستان اور سلا متی کے اداروں کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔اس اقتصادی راہداری کے منصوبے کی کامیابی پاکستان میں سیاسی استحکام اور امن و امان سے وابستہ ہے۔ قوموں کی زندگی میں ایسے سنہری موا قع بار بار نہیں آتے۔ اس میگا منصوبے سے فائدہ اٹھانے کے لئے روایتی تعصبات، تنگ نظری، علاقہ پرستی، صوبائیت، اور پرانے بیانیے کو مکمل طور پر ترک کرنا ہو گا۔

مزید : کالم