ایوانوں میں حکمران جماعت کا رویہ، حزب اختلاف کی تنقید، یہ اچھا نہیں!

ایوانوں میں حکمران جماعت کا رویہ، حزب اختلاف کی تنقید، یہ اچھا نہیں!

تجزیہ: چودھری خادم حسین

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز سوالات کے وقفہ میں وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی اور تحریک انصاف کے اراکین کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپ ہوئی۔ تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے ایل این جی کے سودے بارے سوال پوچھے۔ وفاقی وزیر نے جب نرخ نہ بتائے اور دوسری طرف سے اصرار کیا گیا تو وہ برہم ہو گئے اور پھر بات ہنگامہ آرائی تک پہنچ گئی، سپیکر ایاز صادق نے چیمبر سے واپس آ کر صورت حال کو سنبھالا، محترم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ سینیٹ میں بھی اراکین اپوزیشن کا رویہ استفساریہ اور سخت تھا اور وہ بھی جواب میں تنک مزاجی سے کام لیتے رہے تاہم انہوں نے دونوں ایوانوں میں سے کسی ایوان میں بھی ایل این جی کے نرخ نہیں بتائے۔ یہ بڑا عجیب رویہ ہے وہ کہتے ہیں کہ ایل این جی فرنس آئل سے سستی پڑے گی تو پھر ان دونوں کی قیمتوں میں فرق اور فائدہ کیوں نہیں بتا دیتے، آخر آج نہیں تو کل تو یہ بات سامنے آ جائے گی۔ کیا ان کو یہ خدشہ ہے کہ زیادہ نرخوں پر سودے کی وجہ سے تنقید اور مخالفت بھی شدید ہو گی؟

تازہ ترین اطلاع کے مطابق تو حکومتِ قطر نے وزیر موصوف کی کوشش کے باوجود نرخ17ڈالر سے کم نہیں کئے،جبکہ یہی گیس بھارت کو 8-7ڈالر کے حساب سے فروخت کی گئی ہے، حکومت پاکستان کی طرف سے وزارت قدرتی وسائل نے اب نجی کمپنی سے معاہدہ کیا اور قومی اقتصادی کونسل سے اس کی اجازت لی ہے یقیناًیہ سودا اس سے زیادہ نرخوں پر ہوا ہو گا،جو متوقع طور پر فائدہ مند ہونا چاہئے، جو کچھ بھی ہے وزیر موصوف نے اگر ایوان میں آ کر جواب دینا پسند کیا اور یہ بھی کہا کہ وہ ہر قسم کی جواب دہی کے لئے تیار ہیں تو وہ کون سا امر مانع ہے جو ان کو نرخ بتانے سے روک رہا ہے۔ آخر کار وہ پارلیمینٹ میں آئے ہیں اس کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے تو اس کا احترام بھی کریں، وضاحت کرنا ہے تو پوری کریں ورنہ حزب اختلاف کی طرف سے الزام تو لگائے ہی جائیں گے۔

ایک بات جو عام فہم کے شہریوں کی سمجھ سے بالاتر ہے وہ یہ کہ آخر مسلم لیگ(ن) کی حکومتیں(جب بھی اقتدار ملا) ایوانوں کو ان کی اہمیت کے مطابق توجہ کے قابل کیوں نہیں سمجھتیں۔ یہ شکایت عام ہے کہ وزرا ایوان میں نہیں آتے، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ تو شاید ہی پھیرا لگاتے ہیں، حتیٰ کہ وزیر داخلہ بھی جب کبھی کوئی بھی تقریر کرتا ہو تو ایوان میں آتے ہیں ورنہ وہ بھی ضرورت نہیں سمجھتے،حالانکہ یہ سب حضرات انہی ایوانوں کے رکن اور انہی کے اراکین کی حمایت سے برسر اقتدار ہیں۔ یوں بھی جب جمہوریت کا ذکر ہو اور جمہوری اقدار کی بات کی جائے تو ایوانوں کو ہی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

یہ سب عرض کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے سی پیک پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے تحفظات دور کرنے کے لئے آج ہنگامی طور پر پارلیمینٹ کے پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس بُلا لیا، قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے بقول ان کو اجلاس کی اطلاع اس وقت دی گئی جب وہ کراچی جانے کے لئے ایئر پورٹ پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے اجلاس کو سوموار یا منگل تک موخر کرنے کی تجویز دی جسے قبول نہ کیا گیا۔ یوں بقول خورشید شاہ انہوں نے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی۔ قائد حزب اختلاف کی عدم موجودگی سے حکمران جماعت کو شاید کوئی فرق نہ پڑے، لیکن یہ جمہوری روایات کا حصہ نہیں ہے۔ یوں بھی اس سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے کہ اب وزیراعظم کے نزدیک پیپلزپارٹی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اسی لئے تو وزیر داخلہ رینجرز اختیارات کے مسئلے پر ابھی تک سندھ نہیں گئے اور دوریاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں، پیپلزپارٹی کو اب اور بھی زیادہ تدبر کے ساتھ حالات کو دیکھنا اور اپنے رویے کو درست کرنا ہو گا کہ حالات ان کے لئے ساز گار نہیں رہے۔ اس سلسلے میں پہلے بھی گزارش کی تھی، بعض حلقے تو سندھ میں ’’ان ہاؤس‘‘ تبدیلی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کی حزب اختلاف میں ’’ان ہاؤس‘‘ تبدیلی کی بات کر رہے ہیں،جو متحدہ کے تحریک انصاف سے ہاتھ ملوا کر لائی جا سکتی ہے اور یوں سید خورشید شاہ کو مسکت جواب دیا جا سکتا ہے۔ بہرحال پیپلزپارٹی، بلکہ سندھ اور وفاق کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے، کوئی جو بھی کہے حالات مفاہمت اور قومی اتفاق رائے کی ضرورت بتاتے ہیں، خواہ پیپلز پارٹی ہو، تحریک انصاف، اے این پی یا پھر متحدہ ہو، سب کو قومی امور پر خطرات و خدشات کے حوالے سے ایک صفحے پر آنا چاہئے۔

مزید : تجزیہ