اگر کرپشن کی ہو۔ تو عوام کا ہاتھ میرا گریبان۔شہباز شریف کا اعلان

اگر کرپشن کی ہو۔ تو عوام کا ہاتھ میرا گریبان۔شہباز شریف کا اعلان
 اگر کرپشن کی ہو۔ تو عوام کا ہاتھ میرا گریبان۔شہباز شریف کا اعلان

  

آج کل ملک میں کرپشن کا بہت شور ہے۔ نیب نے چند کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے۔ جس کی وجہ سے شور مچ گیا ہے۔ چند بڑی مچھلیوں کے گرفت میں آنے کی وجہ سے ایک ایسا ماحول بن گیا ہے جیسے ملک میں ہر کرپٹ آدمی پکڑا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ صرف چند پر ہاتھ ڈالنے سے خوف کی ایک فضا بن گئی ہے۔ سندھ میں تو ایک ڈاکٹر عاصم نے ہی سب کی جان نکال دی ہے۔ پنجاب میں کیانی برادران اور ڈی ایچ اے کے معاملے نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں ، کہ اگر فوج کے سابق سربراہ کے بھائیوں کو معافی نہیں ہے تو پھر باقی بھی کسی کو معافی ملنی مشکل ہے۔ کرپشن کے خلاف اس ماحول کی مختلف نظریات اور مفادات کے لوگ اپنے اپنے نظریہ اور مفاد کے مطابق تشریح کر رہے ہیں۔ زیادہ تو یہ کہا جا رہا ہے کہ نیب یہ سب کچھ اپنے طور پر نہیں کر رہی ہے۔بلکہ اس کو اسٹبلشمنٹ کی آشیرباد ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ پہلے سب کا احتساب کرے گی اور شریف برادران کی باری سب سے آخر میں آئے گی۔ اور یہ سارا ماحول شریف برادران کے احتساب کے لئے بنا یا جا رہا ہے۔ اسی لئے مارچ اپریل کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ ساری باتیں شریف برادران تک بھی پہنچ رہی ہیں۔ اور وہ بھی بدلتے ماحول کو سمجھ رہے ہیں ۔ اسی لئے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے یہ اعلان کہ اگر گزشتہ آٹھ سال کے اقتدار میں انہوں نے ایک پائی کی بھی کرپشن کی ہو تو عوام کا ہاتھ اور ان کا گریبان۔ انہوں نے یہ اعلان پوزیشن ہولڈر بچوں کی تقریب تقسیم انعامات کے درمیان کیا ہے جو پاکستان کا آئندہ مستقبل ہیں۔ شریف برادران پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک پاکستان پر حکمرانی کی ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی تیسری مرتبہ وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ میاں شہباز شریف کا دور وزارت اعلیٰ میاں نواز شریف سے بہت زیادہ ہے۔ 2008 کے انتخابات کے بعد بننے والے جمہوری نظام سے میاں نواز شریف باہر تھے لیکن میاں شہباز شریف کو پانچ سال پنجاب کی وزارت اعلیٰ کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ یہ وہی پانچ سال ہیں جب مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ آصف زرداری صدر تھے ، پہلے یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے پھر راجہ پرویز اشرف وزیر اعظم بن گئے۔ اور آج یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف سمیت ان کی کابینہ کے اکثر ارکان کرپشن کیسوں کی گرفت میں ہیں۔ اور میاں شہباز شریف نے خود کو اس دور کے احتساب کے لئے بھی پیش کیا ہے جب سب بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے تھے۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ میاں شہباز شریف نے تسلیم کیا ہے کہ پنجاب میں نچلی یعنی فنکشنل سطح پر کرپشن موجود ہے۔ اور وہ اور ان کی حکومت اس کرپشن کے خلاف ایکشن لیتی ہے۔ لیکن وہ اپنی قسم دے رہے تھے کہ گزشتہ آٹھ سال سے جب وہ مسلسل پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں ، اگر انہوں نے ایک پائی کی بھی کرپشن کی ہو تو ان کا گریبان عوام کے سامنے حاضر ہے۔ جب میاں شہباز شریف یہ اعلان کر رہے تھے تو میں ان کو سن رہا تھا اور غور طلب بات یہ تھی کہ انہوں نے عوام اور پاکستان کے مستقبل کے معماروں کے سامنے صرف اپنی قسم کھائی ہے ۔ اور انہوں نے اس قسم میں اپنی کابینہ کے ارکان اور دیگر ساتھیوں کو شامل نہیں کیا۔ یعنی سب اپنے خود ذمہ دار ہیں ۔ وہ کسی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

چند ماہ قبل وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی بجلی کے ایک منصوبے کے افتتاح کے موقع پریہ اعلان کیا تھا کہ ان کے موجودہ دور حکومت میں کرپشن کا کوئی سکینڈل نہیں ہے۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کرپشن کے تحت بننے والے مقدمات کو انتقامی کارروائی قرار دے رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شریف برادران نے کرپشن کے خلاف موجودہ مہم کو قبول کر لیا ہے۔ اور وہ پیپلز پارٹی کی طرح اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے۔ بلکہ اس کا حصہ بننے کے لئے تیار ہیں۔ اسی لئے وہ برملا اپنی صفائیاں دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ شریف برادران کے اعلانات میں ایک باریک نکتہ یہ بھی ہے کہ وہ صرف اپنے موجودہ دور کا ہی حساب دینے کو تیار ہیں اور 1999سے قبل ان کا جو دور اقتدار تھا۔ اس کی بات سننے کو تیار نہیں۔ اس ضمن میں شاید شریف برادران کا موقف تھا کہ ان کے اس دور اقتدار کا حساب جنرل پرویز مشرف اپنے دور اقتدار میں کر چکے ہیں۔ اس لئے اب دوبارہ اس دور کا حساب نہیں دے سکتے۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کرپشن کے خلاف مہم اور احتساب کا عمل کب سے شروع کیا جائے۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ احتساب اور کرپشن کے خلاف مہم 1947سے شروع ہونی چاہئے۔ لیکن دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تو گڑے مردے اکھاڑنے والی بات ہے۔ زیادہ تو مر گئے ہیں ۔ مرنے والوں کا کیا احتساب ہو گا۔ ہم تو مرنے والے کو جنتی مانتے ہیں۔ کوئی مرنے والوں کی برائی نہیں کرتا۔ اس کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تو مغفرت کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ پھر اگر اس کو 1947سے نہیں شروع کرنا تو کب سے شروع کرنا ہے۔ کیا پرویز مشرف کے دور سے شروع کر لیا جا ئے۔ پرویز مشرف کہیں گے کہ میرے دور سے ہی کیوں۔ اس کے بعد سے شروع کیا جائے۔ چودھری پرویز الہیٰ کو بھی اعتراض ہو گا کہ اگر شریف برادران کے پہلے دور شامل نہیں تو ان کا دور کیوں شامل ہے۔

اسی طرح میاں شہباز شریف کا یہ اعلان کہ ملک میں قرضہ خوروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ جن کے قرضے معاف ہوئے ان سے واپس لئے جائیں۔ اس میں بھی وہی سوال ہے کہ قرضوں کی وصولی کب سے شروع ہونی چاہئے۔ کب سے معاف ہونے والے قرضے واپس لئے جائیں۔ اور کب سے معاف ہونے والے قرضوں کو مکمل معاف کر دیا جائے۔

جہاں نیب کی کرپشن کے خلاف مہم نے سیاسی منظر نامہ کو ہلا دیا ہے۔ وہاں نیب کے حوالہ سے بھی یہ تحفظات سامنے آئے ہیں کہ وہ مقدمات کی تفتیش کو کافی لمبے عرصہ تک اپنے پاس زیر التوا رکھتا ہے۔ سالہا سال مقدمات کی تفتیش زیر التوا رہتی ہے۔ اور جب دل چاہتا ہے جس کیس کے بارے میں دل چاہتا ہے ۔ اس کو ٹاپ گیئر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس میں بھی کہا جاتا ہے کہ سب اشاروں پر ہو تا ہے۔ اس لئے نیب کو بھی اپنے اندر ایک شفافیت پیدا کرنا ہو گی۔

بہر حال میاں شہباز شریف کی جانب سے یہ اعلان خوش آئند ہے۔ ہمیں ملک کے تمام سیاستدانوں کو اس بات کا پابند کرنا چاہئے کہ وہ بھی اپنے بارے میں ایسے اعلانات کریں۔ کہ اگر وہ کسی بھی کرپشن میں ملوث ہیں تو عوام کا ہاتھ اور ان کا گریبان۔یہ بھی درست ہے کہ کچھ سیاستدان ایسے جعلی اعلانات بھی کردیں گے۔ لیکن پھر بھی یہ ایک اچھی روایت ہے۔ اور اس کو پروان چڑھانا چاہئے۔

مزید : کالم