پاکستان اور بھارت کو مذاکرات ختم نہیں کرنے چاہئیں ،سیاسی رہنما ء عسکری ماہرین

پاکستان اور بھارت کو مذاکرات ختم نہیں کرنے چاہئیں ،سیاسی رہنما ء عسکری ...

 لاہور(محمد نواز سنگرا)پاکستان اور بھارت کو مذاکرات ختم نہیں کرنے چاہیں ۔دونوں ممالک کو رکاوٹیں دور کر کے بات چیت کے عمل کو جاری رکھنا چاہیے لیکن موجودہ حالات سے بظاہر لگتا ہے کہ روائتی انداز میں مذاکرات کو سپوتاژ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔تیسرے فریق کو بھی ڈال کر بات چیت کی جا سکتی ہے ،موقع گنوایا گیا تو بات چیت کو نئے سرے سے شروع کرنا مشکل ہو جائے گا۔دونوں حکومتوں کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ہر صورت مسئلہ کشمیر ،پانی اور سیاچین سمیت دیگر ایشوزپر بات چیت کو یقینی بنانا ہے۔ان خیالا ت کا اظہار سیاسی رہنما وں و عسکری ماہرین نے ’’ پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔سابق وفاقی وزیر نذرمحمد گوندل نے کہا دنیا مانتی ہے کہ کسی بھی مسئلے کا حل مذاکرات ہی ہوتے ہیں ۔بد قسمتی سے جب بھی بات چیت کا عمل شروع ہوتا ہے تو واقعات رونما ہوتے ہیں جس کے پیچھے خفیہ ہاتھ بھی ہو سکتے ہیں ۔دونوں ممالک کی حکومتوں کو مذاکرات ہر صورت کامیاب بنانے چاہیں ۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا افضل خان نے کہا کہ وزارت خارجہ کی طرف سے بیان جاری ہو چکا ہے کہ مذاکرات ملتوی کیے گئے ہیں لیکن ختم نہیں ہوئے ۔حکومت پاکستان بات چیت کرنے میں سنجید ہے اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کی بھر پور کاوشیں جاری ہیں اور پاکستان بھارت کے ساتھ مکمل تعاون بھی کر رہا ہے۔جنرل (ر)راحت لطیف نے کہا کہ مذاکرات ملتوی نہیں ہونے چاہیں تھے تاکہ واضح ہو جاتا کہ دونو ں ممالک سنجیدہ ہیں ۔جب بات چیت کا فیصلہ کیاگیا تو مذاکرات بھی ہو جائیں گے۔اس وقت بات چیت کا ایک اچھا موقع ہے جس کو گنوانا نہیں چاہیے ۔ہندوستان پر یقین نہیں کیا جا سکتا لیکن دونوں حکومتوں کو کشمیر،پانی اور سیاچین جیسے مسائل پر بات کر کے حل کرنے چاہیں۔ مذاکرات میں کسی تیسرے فریق کو بھی ڈال کر بات کی جا سکتی ہے ۔جنرل(ر)جمشید ایا زنے کہا کہ رکاوٹیں ہٹا کر دونوں ممالک کو آگے بڑھنا چاہیے اور بات چیت کو ہر صورت کامیاب بنانا چاہیے ۔

مزید : صفحہ آخر