بھتیجے اور اس کی بیوی کے قاتل آزاد 8 برس سے انصاف کا متلاشی ہوں ،عدالت فیصلہ سنائے ،مدعی مقدمہ

بھتیجے اور اس کی بیوی کے قاتل آزاد 8 برس سے انصاف کا متلاشی ہوں ،عدالت فیصلہ ...

لاہور(کامران مغل )پسند کی شادی کرنے والی بیٹی سمیت اپنے داماد کوبہانے سے کھانے کی دعوت پرگھر بلواکر سفاک ساس نے اپنے 4ساتھیوں سے مل کر سینے اور سر میں گولیاں مارقتل کردیا۔ مذکورہ مقدمہ میں آج بھی 2ملزمان اشتہاری ہیں ،مرکزی ملزمہ کوثر بی بی (ساس)ضمانت پر جبکہ دیگر2ملزم جیل میں ہیں، اپنے بھتیجے اور بہو کے قاتلوں کو سزادلوانے کے لئے گزشتہ 8سالوں سے پیشیاں بھگت رہاہوں ،انصاف کے انتظار میں عدالتوں کے دھکے کھاتے اب بیمار رہنے لگا ہوں،خدارا مقدمہ کا فیصلہ کیاجائے ۔روزنامہ پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے سروے کے دوران 119جی کوچہ پیراں داں اندرون یکی گیٹ کے رہائشی محمد ریاض نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کے بارے میں بتایا کہ اس کے بھتیجے شفیق اکرم نے صباء نامی لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی اور ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رے تھے لیکن اس شادی سے شفیق کی ساس کوثر بی بی خوش نہیں تھی تاہم اس نے دکھاوے کے لئے انہیں قبول کرلیا اور ایک دن میرے بھتیجے اور اس کی بیوی کو کھانے کی دعوت دی ،20جولائی 2008ء کو میں اپنے بھتیجے شفیق اکرم، بہو صباء کے علاوہ دیگر دوستوں محمد افضل اور طاہر کے ہمراہ ان کے گھر کھانے پر چلے گیا ،کوثر بی بی نے ہمیں گھر کے اوپر والے حصے میں بٹھایا جہاں پر پہلے سے احسن بٹ اور ذیشان عرف شانی اور2نامعلوم افراد جو کہ مسلح تھے، جس پر ہم نے صباء کی والدہ کوثر بی بی سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جس کے فوری بعدکوثر بی بی نے دروازہ بند کردیا اور للکارا مارتے ہوئے کہا کہ شفیق کو پسند کی شادی کرنے کا مزہ چکھانا ہے اور اسی دوران مذکورہ افراد نے مجھے اور میرے دوستوں طاہر اور افضل کو سائیڈ پر کردیا اور فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجہ میں 4گولیاں میرے بھتیجے شفیق اکرم کے سینے اور ایک سر میں لگی جبکہ اس کی بیوی صباء کوسر میں گولی لگی ،دونوں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر دم توڑ گئے جبکہ ملزمان موقع سے فرار ہوگئے ۔ بعدازاں پولیس نے میری مدعیت میں مذکورہ ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر133/08بجرم302/109/148/149درج کرلیا۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ8سال سے مقدمہ سیشن کورٹ میں زیرسماعت ہے لیکن ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا ، عدالتوں کے دھکے کھا کھاکر تھک چکا ہوں ،عدالتوں میں خواری کی وجہ سے بیمار ہوگیا ہوں،خدارا مقدمہ کا فیصلہ جلد کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ مقدمہ میں ملزمہ خاتون بی بی نے ضمانت کروارکھی ہے جبکہ 2ملزمان ذیشان عرف شانی اور احسن بٹ جیل میں جبکہ 2ملزم ابھی تک مفرور ہیں ،درحقیقت پولیس نے مفرور ملزموں کے ساتھ سازباز کررکھی ہے جس کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جارہا ہے ۔مقدمہ مدعی کے وکلاء کا کہنا تھاکہ یہ کیس اب ایڈیشنل سیشن جج نوید اقبال کی عدالت میں ہے اور اس کی باقاعدہ سماعت کی جارہی ہے تاہم اس سے قبل یہ دہرے قتل کاکیس متعدد ایڈیشنل سیشن ججوں کی عدالتوں میں زیرسماعت رہا ہے ،فاضل جج نے اس کیس میں گواہان کو طلب کیا تھا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے جس پر عدالت نے گزشتہ سماعت پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ او کو حکم دے رکھا ہے کہ مذکورہ گواہان کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے ۔اس کیس کی مزید سماعت آج 16جنوری کو ہوگی۔

مزید : صفحہ آخر