پرائیویٹ اسکولز کی فیس کا تعین ،کمیٹی تشکیل دی جائے،نثار کھوڑو

پرائیویٹ اسکولز کی فیس کا تعین ،کمیٹی تشکیل دی جائے،نثار کھوڑو

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ کے سینئر وزیر تعلیم اور پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ پرائیویٹ اسکولز کی طرف سے فیسوں میں اضافے کا ایک نظام وضع کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ جمعہ کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین خان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر بیان دے رہے تھے ۔ محمد حسین خان نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز فیسوں میں من مانا اضافہ کر رہے ہیں ۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ وہ بے لگام ہیں ۔ کراچی میں 70 فیصد لوگ اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولز میں پڑھاتے ہیں ۔ یہ لوگ بہت پریشان ہیں ۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم مفت ہے ۔ وہاں کوئی فیس نہیں ہے ۔ کتابیں بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں ۔ جب پیپلز پارٹی نے پرائیویٹ اسکولز کو نیشنلائز کیا تھا تو اس پر بہت تنقید ہوئی تھی ۔ بعد ازاں نہ صرف نیشلائز ڈ اسکولز کو پرائیویٹ کر دیا گیا بلکہ نئے پرائیویٹ اسکولز کھولنے کی بھی اجازت دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز کو ریگولیٹ کرنے کے لے سندھ میں 2001 میں قانون بنا تھا ، جس کے مطابق پرائیویٹ اسکولز سالانہ 5 فیصد تک اضافہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مطلوبہ سہولتیں فراہم کر رہے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے انکم ٹیکس آرڈی ننس کے تحت ان اسکولز میں والدین کو ایڈوانس ٹیکس جمع کرانے کا پابند کر دیا تھا ، جن کی سالانہ فیس 2 لاکھ روپے سے زیادہ ہے ۔ کچھ اسکولز نے اس ٹیکس کی آڑ میں فیسوں میں 35 فیصد بغیر اجازت اضافہ کر دیا ۔ ہم نے اس صورت حال کا نوٹس لیا اور فیسوں کو کم کرانے میں کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ فیسوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ۔ ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول