سیاسی جماعتوں کا اقتصادی راہداری منصوبے پر اتفاق،مغربی روٹ اڑھائی برس میں مکمل ہو گا

سیاسی جماعتوں کا اقتصادی راہداری منصوبے پر اتفاق،مغربی روٹ اڑھائی برس میں ...

اسلام آباد(اے این این)وزیراعظم نوازشریف کے زیرصدارت سیاسی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ ا ڈھائی سال کی ٹائم لائن میں مکمل کرنے پر اتفاق کر لیاگیا،کام کی نگرانی وزیراعظم خودکرینگے،ضرورت پڑی تو اس روٹ کیلئے مختص 40 ارب روپے کے فنڈز میں اضافہ کردیا جائیگا، راہداری منصوبے پرعملدرآمدکاجائزہ لینے کیلئے رہبر کمیٹی قائم ، گلگت بلتسان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی پرمشتمل کمیٹی ہر تین ماہ بعد عملدرآمد میں پیشرفت کا جائزہ لے گی، سیاسی جماعتوں کے تحفظات دورکرنے کے حوالے سے اہم پیشرفت، تمام اقتصادی زونز کے قیام کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا جائیگا ،مستقبل میں تمام تحفظات دور کرنے کیلئے ادارہ جاتی فریم ورک پر اتفاق ، معلومات کے تبادلے اور رابطوں کیلئے وزارت منصوبہ بندی میں سیل قائم کیا جائے گا ، اجلاس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے راہداری کوقومی اہمیت کاحامل منصوبہ قراردیتے ہوئے ایک بارپھراس کی مکمل حمایت کااعادہ کیا ۔گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں نوازشریف کی زیرصدارت سیاسی جماعتوں کامشاورتی اجلاس ہوا جس میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ ،اعتزاز احسن ، تحریک انصاف کی نمائندگی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی اورعوامی نیشنل پارٹی کی نمائندگی افرا سیاب خٹک اورمیاں افتخارنے کی جبکہ دیگرسیاسی جماعتوں میں جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل ،پشتون خوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی ، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو ، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیر پاو ، جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیرمولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما مشاہد حسین سید ، گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب، وفاقی وزرا احسن اقبال اور سعد رفیق ودیگر اجلاس میں شریک ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ذرائع کے مطابق انہیں اس اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اجلاس کے بعدجاری مختصراعلامیے کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت مغربی راہداری ترجیحی بنیادور پر جولائی 2018 تک مکمل کر لیا جائے گا اور وزیراعظم نواز شریف تعمیراتی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی تعمیر کے لیے ڈھائی سال کے ٹائم لائن پر اتفاق کرتے ہوئے کہا گیا کہ مغربی روٹ پر ترجیحی بنیادوں پر تعمیر شروع ہوگی اور ضرورت پڑی تو مغربی روٹ کے لیے مختص 40 ارب روپے کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے گا۔ راہداری کے مغربی روٹ پر پہلے فیز میں 4 لین ایکسپریس وے تعمیر کی جائے گی جسے بعد ازاں 6 لین موٹروے تک رسائی دی جائے گی، موٹروے کے لیے زمین کا حصول خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہوگی، زمین کے حصول کے لیے فنڈز کی فراہمی وفاقی حکومت کرے گی جبکہ صنعتی زون کے لیے مقام کا تعین صوبوں کی مشاورت سے ہوگا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں مستقبل میں تمام تحفظات دور کرنے کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ معلومات کے تبادلے اور رابطوں کے لیے وزارت منصوبہ بندی میں سیل قائم کیا جائے گا۔ اجلاس میں راہداری منصوبے پر عملدرآمدکاجائزہ لینے کیلئے ایک رہبر کمیٹی تشکیل دی گئی ،گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی پر ممبرہوں گے ۔کمیٹی ہر تین ماہ بعد عملدرآمد میں پیش رفت کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی پلاننگ کمیشن کے ساتھ مل کر اس منصوبے کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں گی اور پلاننگ کمیشن اس کمیٹی کو اس منصوبے کے بارے میں تمام معلومات دینے کا پابند ہوگا۔ میڈیارپورٹ کے مطابق و زیراعظم نے پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی تیز تر بنیادوں پر تکمیل کی ہدایت کی ۔ انہوں نے شرکاء کویقین دہانی کرائی کہ مغربی روٹ ترجیحی بنیادوں پر پہلے بنے گا، فنڈز بھی دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وہ خود راہداری کے مغربی روٹ کی نگرانی کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات مشاورت کے ساتھ دور ہوں۔ اجلاس میں مستقبل میں تمام تحفظات دور کرنے کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ معلومات کے تبادلے اور رابطوں کے لیے وزارت منصوبہ بندی میں سیل قائم کیا جائے گا ۔اجلاس کے دوران تمام جماعتوں نے وزیراعظم کو اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جبکہ اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کو قومی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کا مکمل اعلان بھی کیا۔ سیاسی رہنماؤں نے کہاکہ مغربی روٹ پر صرف سڑک نہیں انفراسٹرکچر بھی چاہیے جس میں گیس بجلی سپلائی، آپٹک فائبر اور ریلوے ٹریک سمیت وہ تمام لوازمات ہوں جو سرکایہ کاروں کیلئے پرکشش ہوں۔ پرویزخٹک نے کہا کہ ہمارے صوبے میں بنیادی چیزیں نہیں ہونگی تو انڈسٹری نہیں لگے گی، ہمارے تحفظات دورکرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔افراسیاب خٹک نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو بجلی کے منصوبوں کا علم نہیں۔ سراج الحق نے تجویز دی کہ واخان کی پٹی، چترال کے راستے تاجکستان کو ملانے کا راستہ موجود ہے اسے بھی اقتصادی راہدادری میں شامل کیا جائے۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کے عوام کا منصوبہ ہے، وہ اسے متنازعہ نہیں بنانا چاہتے، انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ان کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ وزیراعظم کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی تجویز دی جو قبول کر لی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہتے ہیں، وفاق کو بھی اپنا رویہ تبدل کرنا ہوگا ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین بھی اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہے یہ ہماری ترجیح نہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو اس بات کا یقین دہانی کروائی ہے کہ مغربی روٹ پر کام تیزی سے ہوگا اور اس کی نگرانی وزیر اعظم خود کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے وفاق پر واضح کردیا ہے کہ صوبے کو حق ملے گا تو بات بنے گی۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ پنجاب کی ترقی چاہتے ہیں لیکن چھوٹے صوبوں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع دیں۔انہوں نے کہاکہ راہداری منصوبے سے پاکستان سپر پاور بن سکتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ اجلاس میں مغربی روٹ ترجیح قرار پایا ہے۔ مغربی روٹ پر چار سڑکیں ہوں گی اور اگر ضرورت ہوئی تو اسے چھ سڑکوں تک بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ تمام جماعتوں نے مشاورتی عمل پر اطمینان کا اظہارکیا ہے۔ اے این پی کے افرا سیاب خٹک نے کہاکہ چین کی طرح پاکستان کوبھی پسماندہ علاقوں کی ترقی پر زور دینا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی جماعت منصوبے کے خلاف نہیں ہے لیکن اگر خیبر پختونخوا کی عوام کی حق تلفی ہوگی تو ان کی جماعت دیگر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ ملکر عوام کے حقوق کے لیے احتجاج کا حق رکھتی ہے۔ وزیر اعظم نے تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ باہمی مشاورت کے ساتھ ہی منصوبے کو مکمل کیا جائے گا۔ جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ(ق) کے مشاہد حسین سید نے کہاکہ سیاسی قیادت نے بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مفاد میں فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان چین اقتصادی راہداری خوشحالی اور ترقی کی ضامن ہے ۔وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہاکہ تمام رہنماؤں نے منصوبے کی حمایت اور تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری سے تمام صوبوں کو فائدہ ہوگا، وزیر اعظم نے سیاسی قیادت کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ سیاسی قیادت سے مشاورت کے بعد اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر کام کا آغاز ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ چین اور پاکستان نے گذشتہ سال چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد رکھی تھی، جس کے تحت 46 ارب ڈالر کی لاگت سے چین کو بذریعہ سڑک اور ٹرین گوادر کی بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔

مزید : پشاورصفحہ اول