اینٹوں کے بھٹوں پر کم عمر بچوں سے مشقت کی ممانعت کے قانون 2016کا اطلاق کردیا گیا

اینٹوں کے بھٹوں پر کم عمر بچوں سے مشقت کی ممانعت کے قانون 2016کا اطلاق کردیا ...
اینٹوں کے بھٹوں پر کم عمر بچوں سے مشقت کی ممانعت کے قانون 2016کا اطلاق کردیا گیا

  

سیالکوٹ (صباح نیوز) اینٹوں کے بھٹوں پر کم عمر بچوں سے مشقت کی ممانعت کے قانون 2016کا اطلاق کردیا گیاجس کے تحت اینٹوں کے بھٹوں پر 5سے لیکر14سال تک کے بچوں سے مشقت لینا سنگین جرم ہے ‘ قانون پر عملدرآمد نہ کرنے پر بھٹہ سیل کرنے کے علاوہ بھٹہ مالک اور دیگر ذمہ داروں کو 5لاکھ روپے جرمانہ اور 6ماہ قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ بات ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر سیالکوٹ ڈاکٹر آصف طفیل نے ڈسٹرکٹ ویجی لینس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔

اجلاس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر سیالکوٹ عدنان محمود اعوان، ڈی او سی سیالکوٹ عبدالسلام عارف، اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ میثم عباس،اسسٹنٹ کمشنر پسرور توقیر الیاس چیمہ اور ڈی او لیبر کے علاوہ محکمہ پولیس اور بھٹہ خشت کے نمائندگان نے شرکت کی ۔ ڈی سی او نے کہاکہ حکومت پنجاب نے اینٹوں کے بھٹہ پر کام کرنے والے مزدوروں کے بچوں کی تعلیم کیلئے خصوصی انتظامات کرنے ، بچوں کو 1000روپے فی کس ماہانہ خصوصی وظیفہ کے اجراء کے علاوہ مفت کتابیں ، سٹیشنری ، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ ڈی سی او نے کہاکہ نئے قوانین کے اطلاق کو یقینی بنانے کیلئے وہ خود بھٹوں کے دورے کرینگے اور ان کے علاوہ ڈی پی او ، اسسٹنٹ کمشنر ز اور ایس ڈی پی اوز کی سربراہی میں ٹیمیں بھٹوں کی انسپکشن کریں گی۔

دریں اثناں ڈی سی او سیالکوٹ نے ڈسٹرکٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی سیالکوٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سیکرٹری ڈی آرٹی اے سیالکوٹ مظفر حیات اور ایس ڈی پی او ٹریفک سیالکوٹ وسیم احمد بٹ کو ہدایت کی کہ وہ ضلع سیالکوٹ میں کمرشل اوور لوڈنگ کرنے والے ڈمپرز،ٹرکوں، لوڈرز اور ٹریکٹرز ٹرالیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں ۔ انہوں نے کہاکہ اوورلوڈنگ سے مواصلات کا انفراسٹریکچر تباہ ہورہا ہے اور کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی سڑکیں اور پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اوورلوڈنگ جرم ہے اور اس جرم کے ارتکاب کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے ۔

مزید : انسانی حقوق