نطاقات پروگرام ختم؟ 11 روز بعد وزیر محنت اور سعودی مجلس شوریٰ کےدرمیان ایوان میں گرما گرم بحث متوقع

نطاقات پروگرام ختم؟ 11 روز بعد وزیر محنت اور سعودی مجلس شوریٰ کےدرمیان ایوان ...
نطاقات پروگرام ختم؟ 11 روز بعد وزیر محنت اور سعودی مجلس شوریٰ کےدرمیان ایوان میں گرما گرم بحث متوقع

  

جدہ (محمد اکرم اسد) سعودی مجلس شوریٰ کے ارکان نے واضح کیا ہے کہ نطاقات کا پروگرام اپنی موت آپ مرچکا۔ 11 روز بعد وزیر محنت اور ارکان شوریٰ کے درمیان ایوان میں گرما گرم بحث متوقع ہے۔

عکاظ اخبار نے رپورٹ دیتے ہوئے توجہ دلائی ہے کہ وزیر محنت مفرج الحقبانی 16 ربیع الثانی کو ایوان میں حاضر ہوں گے۔ ارکان شوریٰ کا کہنا ہے کہ الحقبانی سے اس بات کا تسلی بخش جواب طلب کیا جائے گا کہ آخر وہ شوریٰ کے فیصلوں اور سفارشوں پر عمل سے بار بار کیوں گریز کررہے ہیں؟ رکن شوریٰ فہد بن جمعہ نے کہا کہ نجانے کیوں الحقبانی نے کہا ہے شوریٰ کے فیصلوں پر معترض ہیں خصوصاً ریکروٹنگ کے معاملے پر انہوں نے جو اعتراضات کئے ہیں وہ عوامی آراء پر توجہ دئیے بغیر اور جائزہ لئے بغیر کئے ہیں۔ ارکان شوریٰ نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ 1436ھ کے دوران نجی اداروں میں سعودیوں کی ملازمت کی شرح 33 فیصد کم ہوئی ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی اور غیر ملکی ارکان کے لئے ویزے 60 فیصد سے زیادہ جاری کئے گئے۔ ایک اور رکن عبداللہ النقیبی نے کہا کہ 1436ھ کے دوران جتنی گھریلو ملازمائیں بلائی گئیں ان میں 60 فیصد فرار ہوچکی ہیں، مشعل اسلمی نے کہا کہ سرکاری اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ نطاقات پروگرام فیل ہوچکا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ 2012ء غیر ملکی کارکنان کی تعداد 7.3 ملین تھی یہ 2013ء میں بڑھ کر 8.2 ملین ا ور 2014ء میں 8.4 ملین ہوگئی، گزشتہ 3برسوں کے دوران نجی اداروں میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد سال بہ سال بڑھتی چلی گئی اب وہ 8.5 فیصد ہوچکے ہیں۔ اسلمی نے سوال اٹھایا کہ آخر نطاقات پروگرام 560539 بیروزگار سعودیوں کا روزگار دلانے میں ناکام کیوں ہوا۔

مزید : بین الاقوامی