توہین رسالت کا مرتکب ہونے کی غلط فہمی پر ہاتھ کاٹنے کا معاملہ، پولیس نے امام مسجد کوگرفتار کر لیا

توہین رسالت کا مرتکب ہونے کی غلط فہمی پر ہاتھ کاٹنے کا معاملہ، پولیس نے امام ...
توہین رسالت کا مرتکب ہونے کی غلط فہمی پر ہاتھ کاٹنے کا معاملہ، پولیس نے امام مسجد کوگرفتار کر لیا

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ضلع اوکاڑہ میں توہین رسالت کا مرتکب ہونے کی غلط فہمی پر 15 سالہ نوجوان کی جانب سے اپنا ہاتھ کاٹے جانے کے واقعے کے بعد پولیس نے اس امام مسجد کو گرفتار کر لیا ہے جس نے نوجوان کو گستاخ رسولﷺ قرار دیا تھا۔ ڈان نیوز کے مطابق جمعہ کی رات کو مذکورہ امام مسجد کے خلاف سرکار کی مدعیت میں دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ 324 کے تحت ایک ایف آئی آر نمبر 36/16 درج کی گئی جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق امام مسجد کو شرانگیز تقریر کرنے اور اس دوران متنازعہ سوال پوچھنے کے الزام میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ مذکورہ امام مسجد نے قریباً پانچ دن قبل حجرہ شاہ مقیم کے گاﺅں چک 3-D میں منعقدہ ایک محفل میلاد میں تقریر کے دوران سوال پوچھا کہ ” کون نبی کریمﷺ سے محبت نہیں کرتا؟ وہ ہاتھ کھڑا کرے“۔ لڑکے نے سوال کو صحیح طریقے سے نہ سمجھتے ہوئے ہاتھ کھڑا کر دیا تھا جس پر امام مسجد نے مذکورہ لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم نے گستاخی کی ہے،جس پر لڑکا دلبرداشتہ ہوکر گھر چلا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ امام مسجد نے لڑکے کی غلطی معاف کرنے کی بجائے اسے جذباتی طور پر اکسایا۔

تقریب میں موجود افراد کا کہنا ہے کہ انہیں احساس ہے کہ لڑکا کسی طرح کی گستاخی کا مرتکب نہیں ہوا کیونکہ لڑکے نے سوال صحیح طرح سے نہیں سنا اور غلط فہمی میں ہاتھ کھڑا کر دیا اور وہ اس غلطی فہمی کے گواہ ہیں۔ پولیس کا ماننا ہے کہ امام مسجد کی جانب سے گستاخ کہے جانے پر ہی لڑکا اپنا ہاتھ کاٹنے پر مجبور ہوا کیونکہ گستاخ کہلائے جانے پر وہ بہت شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔ دوسری جانب متاثرہ لڑکے کا کہنا ہے کہ امام مسجد کا کوئی قصور نہیں جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ لڑکے کے اہل خانہ اور اہل علاقہ کی جانب سے ہاٹھ کاٹے جانے کے اقدام پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔

مزید : قومی