سعودی عرب کا انوکھا اقدام، ایک ایسے ملک میں دھڑا دھڑ ہزاروں ایکڑ زمین خریدنا شروع کردی کہ نیا ہنگامہ برپاہوگیا

سعودی عرب کا انوکھا اقدام، ایک ایسے ملک میں دھڑا دھڑ ہزاروں ایکڑ زمین خریدنا ...
سعودی عرب کا انوکھا اقدام، ایک ایسے ملک میں دھڑا دھڑ ہزاروں ایکڑ زمین خریدنا شروع کردی کہ نیا ہنگامہ برپاہوگیا

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے اپنی سرزمین سے ہزاروں کلومیٹر دور جا کر امریکا کی زمین خریدنا شروع کر دی ہے، جس پر امریکی غصے سے لال پیلے ہو رہے ہیں، جبکہ کئی امریکی اداروں نے امریکا کی زمین کو سعودی عرب کے قبضے میں جانے سے بچانے کے لئے مہم شروع کر دی ہے۔

سعودی عرب امریکا کے جنوب مغربی علاقے میں بڑے پیمانے پر زمین کی خریداری کر رہا ہے، جس پر اگائی جانے والی فصلیں سعودی عرب بھیجی جارہی ہیں۔ نیوز سائٹ ’سی این بی سی‘ کے مطابق ریاست کیلیفورنیا اور ایریزونا کے کئی علاقوں میں سعودی عرب نے ہزاروں ایکڑ زمین خرید رکھی ہے۔ سعودی عرب نے اپنے ہاں پانی کی بچت کرنے کے لئے امریکا میں فصلیں اگانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے، جس پر سعودی عرب میں تو اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن امریکا میں سخت تشویش کا اظہار شروع ہوگیا ہے۔

مزید جانئے: تعلقات سنوارنے کا سنہری موقع، سعودی عرب اور ایران کیلئے بہت بڑی پیشکش آگئی

پرائیویٹ سعودی کمپنی فونڈو مونٹے کیلیفورنیا نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ ریاست کیلیفورنیا میں اس کمپنی نے کولوراڈو دریا کے ساتھ 1790 ایکڑ زرعی زمین کی خریداری کی ہے۔ دو سال قبل اسی کمپنی کی آبائی کمپنی، المارائی نے ریاست ایریزونا میں 10 ہزار ایکڑ زرعی زمین خریدی تھی۔

سعودی عرب کی طرف سے زرعی زمینیں بڑے پیمانے پر خریدنے کے خلاف مقامی کسان سخت پریشانی کا اظہار کررہے ہیں۔ ریاست ایریزونا کی متحدہ ڈیری یونین کے چیف ایگزیکٹو کیتھ مرفیلڈ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب امریکا میں فصلیں اگا کر اپنے ملک بھیج رہا ہے، یہ ملک صرف فصلیں ہی نہیں بلکہ امریکا کا پانی سعودی عرب لیجایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں سعودی عرب نے زمینیں خریدی ہیں وہاں پانی کی کمی ہوتی جارہی ہے اور مقامی لوگوں کو پانی نکالنے کے لئے پہلے سے زیادہ گہرائی تک کھدائی کرنا پڑرہی ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سعودی پرائیویٹ کمپنی فونڈومونٹے کی خریدی گئی زمینوں میں پانی کے 23 کنویں واقع ہیں، جن میں سے ہر ایک سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ گیلن پانی نکالا جاتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی