سفارش ماننے والے جج نہیں ہوں گے تو سفارش کرنے والے بھی نہیں رہیں گے ،عاصمہ جہانگیر

سفارش ماننے والے جج نہیں ہوں گے تو سفارش کرنے والے بھی نہیں رہیں گے ،عاصمہ ...
سفارش ماننے والے جج نہیں ہوں گے تو سفارش کرنے والے بھی نہیں رہیں گے ،عاصمہ جہانگیر

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اگر سفارش سننے والے جج نہیں ہوں گے تو سفارش کرنے والے بھی نہیں ہوں گے ، ماضی کی نسبت سپریم کورٹ کا موجودہ دور بہتر ہے، ججز کے فیصلوں سے تعصب کی بو نہیں آنی چاہیے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میں نظام عدل کو درپیش چیلنجز کے موضوع پر منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے عاصمہ سپریم کورٹ کی طرف سے ترقی پسند فیصلے دیئے جا رہے ہیں جو خوش آئندہے، وکلاءکو کسی جج کے سامنے اچھے سے اچھا مقدمہ ہارنے پر بھی دکھ نہیں ہوتا مگر تکلیف تب ہوتی ہے جب جج کے فیصلے سے تعصب کی بو آتی ہے،ججز کے فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہونے چاہیے، ان میں سے تعصب کی بو نہیں آنی چاہیے، اگر جج رشوت لینے والے نہیں ہوں گے تو رشوت دینے والا بھی کوئی نہیں ہوگا، اگر جج سفارش سننے والے نہیں ہونگے تو سفارش کرنے والا بھی نہیں ہوگا،انہوں نے کہا کہ بنیاد ی آئینی حقوق کے تحفظ کی آڑ میں جعلی درخواست بازی روکنا وکلاءکا نہیں بلکہ ججز کا کام ہے، ججز کو چاہیے کہ وہ دیکھیں کہ مفاد عامہ کی درخواستیں فرمائشی ہیں یا اصلی ہیں، عدالتوں کو سکیورٹی کے نام پر عوام کے بنیاد ی حقوق کے خلاف فیصلے دینے سے گریز کرنا چاہیے، آئین نے ہر شہری کو اظہار کی آزادی دی ہے، عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کو چاہیے کہ وہ ملک بھر کی صوبائی بار کونسلز کی مدت 5سال سے کم کر کے 2 سال کر دے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ صوبائی بار کونسل مافیا بن جائیں، انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ میں سپریم کورٹ بار کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ اگر کسی بار کے صدر نے ججز کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے وکیل کا تحفظ کیا تو میں اپنے ساتھی وکلاءکے ساتھ بار کے اس صدر کے خلاف احتجاج کروں گی۔تقریب سے سینئر وکلاء،نامور قانون دانوں اور آئینی ماہرین نے بھی خطاب کیا۔

مزید : لاہور