کرمنل پراسیکیوشن قانون میں ترمیم پر شور شرابہ کرنے والے شہہ سرخیوں میں جگہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں: سید قائم علی شاہ

کرمنل پراسیکیوشن قانون میں ترمیم پر شور شرابہ کرنے والے شہہ سرخیوں میں جگہ ...
کرمنل پراسیکیوشن قانون میں ترمیم پر شور شرابہ کرنے والے شہہ سرخیوں میں جگہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں: سید قائم علی شاہ

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کرمنل پراسیکیوشن قانون میں ترمیم ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں کی گئی ،اس قانون سے پراسیکیوشن کو مضبوط کیا گیا ،ا س حوالے سے شور شرابہ کرنے والے صرف شہہ سرخیوں میں جگہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔

ایگلٹ کورس کی 28ویں پاسنگ آوٹ پریڈ کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرمنل پراسیکیوشن قانون میں ترمیم اس لئے کی گئی ہے کہ اے ٹی سی کورٹس سے سزاوں کی شرح حوصلہ افزا نہیں تھی اور یہ 10-فیصد سے زائد نہیں تھی، مگر ہماری کوششوں سے اے ٹی سی سے سزاوں کی شرح بہتر ہو کر 27فیصد ہوگئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ داعش اور تحریک طالبان پاکستان ایک ہی سکے کو دو رخ ہیں،دو نوں دہشتگرد ہیں اور وہ انہیں انسانیت اور اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں ،دونوں کے مقاصد اور عزائم ایک ہی ہیں یہ صرف لوگوں کو کنفیوز کرنے کیلئے مختلف نام استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں، ہم نے طویل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کی ،لہذا ہم اس کی قدر کرتے اور وطن کو غیرمستحکم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ آیا داعش سندھ میں موجود ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ دہشتگرد یہاں موجود ہیں اور ہماری پولیس اور رینجرز نے ان کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کیا ہوا ہے اور ہمیں اس کے اچھے اور حوصلہ افزائی نتائج حاصل ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے جب اقتدار سنبھالہ تھا تو اس وقت امن و امان کا بجٹ 14-بلین روپے تھا اور اب یہ 60-بلین روپے ہے اور اس میں اضافہ اس لئے ہوا ہے کہ ہم نے پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں نہ صرف اضافہ کیا ہے بلکہ شہید ہونے والوں کے ورثاءکیلئے معاوضے میں بھی اضافہ کیا ہے، تاکہ پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جذبہ کو فروغ ملے اور ان کے اعتماد میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے پولیس فورس کی استعدادکار میں اضافہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے، ہم نے اپنے تربیتی مراکز کو اپ گریڈ کیا ہے اور پولیس اہلکاروں کو تربیت دینے کیلئے آرمی افسران کی خدمات حاصل کی گئیں اور پولیس اہلکاروں کو خصوصی تربیت کیلئے بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا شگرگذارہوں کہ انہوں نے پولیس کی تربیت اور انہیں جدید اسلحہ سے مزین کرنے کیلئے بھرپور طریقے سے تعاون کیا۔

مزید : قومی