عائشہ ممتاز سے مینگل تک۔۔۔۔۔۔

عائشہ ممتاز سے مینگل تک۔۔۔۔۔۔
 عائشہ ممتاز سے مینگل تک۔۔۔۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وزیراعلیٰ پنجاب (خادم اعلیٰ) جن کو بقول شعیب بن عزیز چین میں شہباز سپیڈ اور ترکی میں ’’مین آف ایکشن ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بار جب پنجاب کی تیسری مرتبہ وزارت اعلیٰ سنبھالی تو ان کے سامنے ایک بار پھر گڈ گورننس کا چیلنج تھا اور اس سلسلہ میں ان کا مقابلہ ایک بار پھر اپنے آپ سے اس لئے تھا کہ وہ ماضی کا جو ریکارڈ اور باقیات چھوڑ کر گئے تھے اسی کو انہوں نے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانا تھا۔ انہوں نے اس بار وزیراعلیٰ بننے کے ساتھ ہی مختلف محکموں کی کارکردگی کو بہتر کرنے کیلئے محکمانہ اتھارٹیز اور کمپنیاں قائم کرنا شروع کر دیں جن میں پنجاب ریونیو اتھارٹی ، فوڈ اتھارٹی ، صاف پانی کی اتھارٹی ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ، میٹ کمپنی وغیرہ شامل ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں جو محکمے رہ گئے ہیں ان میں بھی کمپنیاں یا اتھارٹیز بنائی جائیں گی۔ اتھارٹیز اور کمپنیوں کا رواج اس قدر عام ہوا کہ کلچر کے حوالے سے بھی ایک اتھارٹی بننے اور اس کے سی ای او کے طور پر بھاری معاوضے پر سابق ایم ڈی پی ٹی وی محمد مالک کی تعیناتی کی خبریں عام ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر تو ان کی تنخواہ 75 لاکھ بتائی جاتی ہے ۔ یہ خبر کہاں تک درست ہے اس پر پھرکسی دن بات کریں گے۔ آج مجھے خادم اعلیٰ کی مختلف محکموں کیلئے بنائی گئی اتھارٹیز میں سے فوڈ اتھارٹی کے بارے بات کرنی ہے جہاں پر آج کل سیاست عروج پر ہے۔ قارئین آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فوڈ اتھارٹی میں شاید سیاست اس لئے عروج پر ہے کیونکہ اتھارٹی کے زیر سایہ کھانے پینے والے تمام ریسٹورنٹ ، ہوٹل اور ادارے موجود ہیں تو ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ فوڈ اتھارٹی میں سیاست سابق دبنگ لیڈی ڈائریکٹر آپریشن فوڈ اتھارٹی عائشہ ممتاز گروپ اور ان کے اینٹی گروپ میں جاری ہے۔ عائشہ ممتاز جنہوں نے بطور ڈائریکٹر آپریشن فوڈ اتھارٹی لاہور سمیت پنجاب بھر میں سرکاری عہدے اور اختیارات کا ایک نیا رخ متعارف کروایا ہے ایک وقت تھا کہ فوڈ اتھارٹی کا نام ریسٹورنٹ مالکان ،ہوٹل مالکان اور کھانے پینے کی اشیاء بنانے والے بزنس مینوں کیلئے خوف کی علامت تھا اور عائشہ ممتازکی کارروائیوں سے تنگ ریسٹورنٹ مالکان ہوٹل مالکان اور بزنس مین سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ہمارا خیال تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جن کے خاندان کا بزنس کمیونٹی کے ساتھ ایک دیرینہ رشتہ ہے وہ اس معاملے میں بزنس کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہوں گے مگر عملاً صورتحال مختلف سامنے آئی۔ میاں شہبازشریف نے عائشہ ممتاز کو عہدے سے ہٹانے کی بجائے ان کو بلا کر شیلڈ پیش کر دی اور ساتھ شاباش دیتے اور تعریف کرتے ہوئے خبر اور تصویر میڈیا میں جاری کر کے ریسٹورنٹ مالکان کو دو ٹوک پیغام دیا کہ وہ اس معاملے میں عائشہ ممتاز کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ بزنس کمیونٹی اور ریسٹورنٹ مالکان نے اپنی بقا کی جنگ لڑنے کیلئے عدالتوں کا رخ کیا۔ میڈیا کے ذمہ داران سے رابطہ کئے مگر ان کو عائشہ ممتاز اور حکومت پنجاب کے خلاف بہت زیادہ ریلیف تو نہ مل سکا البتہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان فیس بک پر جاری کمپین اور میڈیا ٹرائل کو کسی حد تک روکنے یا کم کروانے میں کامیاب ہو گئے اور اس میں کوتھم کالجز کے سی ای او جن کا اپنا تو کوئی ریسٹورنٹ نہ تھا انہوں نے اور یم گروپ کے نثار چودھری نے نمایاں کردار ادا کیا۔ وقتی طور پر ریسٹورنٹ مالکان کو ریلیف ملا مگر عائشہ ممتاز کے چھاپوں کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری رہا۔ اس مسئلے پر ایک طرف عائشہ ممتاز اور ریسٹورنٹ مالکان آمنے سامنے تھے مگر دوسری طرف عوام جو اصل اسٹیک ہولڈر تھے وہ سخت پریشان اور تذبذب کا شکار تھے کہ اگر ان تمام ریسٹورنٹس پر گدھوں کا گوشت کھلایا جاتا ہے اور تمام کے تمام ہوٹل اور ریسٹورنٹس کے کچن میں گندگی ہے تو پھر ہم وہاں کھانا کھانے کیوں جاتے ہیں۔ عائشہ ممتاز کے چھاپوں اور آپریشن کا تمام ترفوکس ٹکروں اور خبروں پر تھا اس میں اصلاح کا پہلو بہت کم تھا ان کو متعدد بار بتانے اور سمجھانے کی بھی کوشش کی گئی کہ ریسٹورنٹ یا ہوٹل کو بند کرنے ، سیل کرنے یا پھر ان کی تصویریں اتروا کر سوشل میڈیا ، ٹی وی چینلز اور اخبارات میں دیکر ان کا کاروبار تباہ کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ان کے معیار کو بہتر کریں ان کی مانیٹرنگ کا نظام وضع کریں اور اس کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل بیٹھ کر ایس او پی بنائے جائیں اور پھر ان پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے۔ میں نے ذاتی طور پر ان کو ایک پروگرام میں عرض کیا تھا کہ آپ 100 ریسٹورنٹ بند یا سیل کرنے کا کریڈٹ لینے کی بجائے 50 ریسٹورنٹس کو ٹھیک کرنے کا کریڈٹ لیں مگر وہ ضرورت سے زیادہ میڈیا فیم یا میڈیا ٹریپ کا شکار ہو گئیں اور اب ایک طرف سوشل میڈیا پر عائشہ ممتاز کے حق اور ان کو واپس لانے کے حوالے سے مہم جاری ہے جبکہ دوسری طرف ان کے خلاف مہم جاری ہے بلکہ ان کی مخالفت میں تو موجودہ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل بھی میدان میں آ گئے ہیں ۔ انہوں نے تحریری طور پر اینٹی کرپشن اور سپیشل برانچ کو لکھا ہے کہ عائشہ ممتاز کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور اس حوالے سے کئی خبریں مارکیٹ میں گردش کر رہی ہیں۔


جو سامان انہوں نے دوران آپریشن ریسٹورنٹس وغیرہ سے ضبط کیا تھا اس حوالے سے بلا شبہ عائشہ ممتاز یہ الزام عائد کر سکتی ہیں کہ ان کے خلاف الزامات اور کمپین ریسٹورنٹ اور ہوٹل مافیا چلا رہا ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ عائشہ ممتاز کے خلاف کسی دوسرے کو کسی طرح کی مہم چلانے کی ضرورت نہ ہے ان کیلئے اس کے سابق ساتھی اور فوڈ اتھارٹی کی موجودہ قیادت ہی کافی ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے موجودہ ڈی جی نور الامین مینگل جو خود ایک منجھے ہوئے بیورو کریٹ ہیں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی ریسٹورنٹ مالکان اور کھانے پینے کی اشیاء کے مینو فیکچررز کو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت سے نکالنے کی کوشش کی ہے اور ایک میکنزم کے ذریعے اصلاح کا ایک ایجنڈا ترتیب دیا ہے اور ریسٹورنٹ میں بہتری لانے کیلئے ہر ماہ ان میں مقابلے کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ نور الامین مینگل کے ویژن اور ایجنڈے میں فوڈ انڈسٹری کیلئے اصلاح اور ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں لیکن اگر انہوں نے اپنی ٹیم بنانے میں غلطی کر دی تو پھر ان پر بھی وہ وقت آ سکتا ہے کہ ایک دن ان کو بھی عائشہ ممتاز کی طرح صفائیاں دینی پڑیں گی کیونکہ لاہور اور پاکستان فوڈ کلچر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ بے بنیاد میڈیا ٹرائل کے ذریعے اور بعض ذاتی مقاصد کیلئے پاکستانی فوڈ انڈسٹری کو جس طرح نقصان پہنچایا گیا ہے اس کے امیج کی اصلاح کرتے ہوئے اصل شکل میں بحال کرنا ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کام کیلئے نور الامین سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے جو بلوچستان کے کلچر کے مطابق عزت دیتا بھی ہے اور اس کو عزت کروانا بھی آتی ہے اور سرکاری عہدہ پر کام کرنا بھی آتا ہے۔

مزید :

کالم -