سنگ مرمر پر چلو گے تو پھسل جاؤ گے

سنگ مرمر پر چلو گے تو پھسل جاؤ گے
 سنگ مرمر پر چلو گے تو پھسل جاؤ گے

  

سانحہ قصور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر طبقہ سراپا احتجاج ہے مجرم کوکیفر کردار تک پہنچانے کامطالبہ کررہاہے اپنی نسل کی بقا ،تحفظ کے لئے فکر مند بھی ہے، لیکن دوسری جانب سانحہ قصور پر مغرب نواز لبرل،سیکولر طبقہ اپنا کھیل کھیلنے میں مصروف عمل ہوگیا ہے اور اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ نصاب تعلیم میں جنسی آگاہی بارے تعلیمات کے باب کو شامل کیا جائے، جس پر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون رہنما نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اب چاہے جو بھی ہو سندھ کے نصاب میں جنسی آگاہی کی تعلیم شامل کریں گے، پاکستان میں کچھ نجی سکولز میں جنسی آگاہی تعلیم دینے کی رپورٹس منظر عام پر آ چکی ہیں اور ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستانی معاشرہ تیزی سے تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ اخلاقیات سے عاری ہوتے جا رہے ہیں، تہذیب و تمدن کھوتی چلی جا رہی ہے ادب و احترام کا فقدان پیدا ہوتا جا رہا ہے۔

مادہ پرستی کا رحجان بڑھ رہا ہے سانحہ قصور پر دل گرفتہ ہے اللہ تعالیٰ ہماری عزتوں، وقار، راحت، تقدس کی حفاظت فرمائے لیکن اب ہمیں نیک صالح عمل سے اپنی اسلامی، اخلاقی قومی اقدار کا تحفظ کرنا ہو گا۔

ہمارے سرکاری ،نیم سرکاری ،نجی سکولز،کالجز،یونیورسٹیز میں مخلوط نظام تعلیم کو ختم کرنا ہو گا ،مغرب نے مخلوط تعلیم اپنایا اس کا معاشرہ تباہ و برباد ہو گیا ہم نے اس کی تقلید کی اس کے بھیانک نتائج آرہے ہیں تعلیمی اداروں بالخصوص خواتین میں اخلاق باختہ لباس کی ترویج کو سپورٹ کیا جا رہا ہے، جب کہ اس پر ملک کا آئین و قانون رو رہا ہے کہ آئین کی روح سے اس کی روح نکال دی گئی ہے۔ جب تک والدین ،بزرگ ،اساتذہ ،علما کرام اپنا اپنا کردار ادا نہیں کریں گے یہ بگاڑ بڑھتا چلا جائے گا۔

حکومت کو چاہیے کہ فی الفور تمام سیکٹرز کے تعلیمی اداروں میں غیر اخلاقی لباس پہننے پر پابندی لگائے خواتین کے سکولز ،کالجز میں یونیفارم کا نفاذ کرے غیر اسلامی،غیر تہذہبی ،غیر قانونی ،غیر اخلاقی پروگرامات منعقد کرنے کے پہلے سے موجود SOP پر عملدر آمد کروائے۔غیر ملکی این جی اووز اور ان کے پروردہ افراد پر نظر رکھے۔

دوسری طرف ایک وقت تھا کہ پورا خاندان ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر ٹی وی پر فیملی پروگرام دیکھتا تھا اس پروگرام سے اپنی اصلاح کرتا تھا آج قومی ٹیلی ویژن اور نجی ٹی وی چینلز جن کے پاس ایک ہی سکرپٹ ہے محبت،شادی،طلاق اور اس سے آگے لمحہ فکریہ بات ہے طلاق کے بعد سابق شوہر کے گھر پر ہی مطلقہ عورت کا قیام رقص و سرور غیر اخلاقی ترغیبات اور نہ جانے کون کون سی قباحتیں یہ معاشرے میں بے راہ روی ،بے ہودگی بے ادبی،خاندانی نظام کی تباہی کا اسباب بن رہے ہیں، اس کو ختم کرنا ہو گا۔اپنی مٹی پر چلنے کا طریقہ سیکھو سنگ مرمر پر چلو گے تو پھسل جاؤ گے۔

مزید :

رائے -کالم -