جماعتی یاد داشتوں کی کھلی کتاب بند ہو گئی

جماعتی یاد داشتوں کی کھلی کتاب بند ہو گئی
 جماعتی یاد داشتوں کی کھلی کتاب بند ہو گئی

  

شب کے آٹھ بج چکے تھے اور ملتان روڈ لنک روڈ پربری طرح رکی اور پھنسی ہوئی ٹریفک میں پندرہ منٹ گزار کر یہ یقین ہو چلا تھا کہ شہر سے دور کینال روڈ پر واقع محافظ ٹاؤن میں ہونے والے صفدر چودھری صاحب کے جنازے میں اب نہیں پہنچ پاؤں گا، گھر واپسی کا قصد کرنے سے قبل آخری چانس لیتے ہوئے، مرکز جماعت میں استقبالیہ کے سربراہ جناب عمران ظہور غازی کو یہ سوچ کر فون کیا کہ وہ یقیناًوہاں پہنچ چکے ہوں گے اور تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کر سکیں گے ،ان کا جواب مثبت تھا کہ آدھ گھنٹے کی تاخیر ہے ، پہنچ جائیے ،میں نے موقع پاکر گاڑی کا رخ موٹر وے کی طرف موڑ دیا اور قانونی رفتار کی آخری حد تک برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگلے دس منٹ میں ٹھوکر جا اترا،جہاں سے اے بلاک کی پارک زیادہ دور نہیں تھی۔حامد ریاض ڈوگر کا افسردگی سے بھرافون شام میں ہی ملا تھا۔

عیادت اور جنازہ مجھے دونوں سے ہمیشہ ڈر لگتا رہا ہے ،پہلے یہ سوچتا تھا وہاں جا کر ایک بیمار یا زخمی آدمی سے کیا کہوں گا ،تسلی کے الفاظ کہیں اسے بھی جھوٹے جھوٹے سے نہ لگیں،عیادت کے لئے آئے لوگوں کو مریض کاحوصلہ توڑنے والی باتوں سے بے شک منع کیا گیا ہے، مگر ہمیں جس بات سے منع کیا گیا ہو کہاں اس سے رکتے ہیں ، بیماری کی بے وجہ کی تفصیل پوچھتے ہوئے دکھی سا چہرہ اور منہ بنا کرکوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور سنادینا ہوتا ہے، جس سے مریض کی نہ سہی اس کے حوصلے کی کمر ضرور ٹوٹ جائے ،بار بار کے تجربے اور مشاہدے نے ایک عرصہ نیکی کے اس کام سے ہی روکے رکھا تاآنکہ احساس ہونے لگا کہ اب اپنے بیمار اور فوت ہونے کی باری آنے والی ہے ،ایک عقل مند دنیا دار ہونے کے ناطے لازم ہے کہ اس کی تیاری شروع کر لی جائے [ مراد آخرت کی کل وقتی تیاری نہیں]یہاں سوشل نیٹ ورکنگ کی بہتری اور استواری ہے۔ اب تو ان جنازوں پر بھی چلا جاتا ہوں جہاں سے علم بھی ہوتا ہے کہ اپنی باری کوئی آنے والا بھی نہیں ہوگا،صفدر چودھری صاحب کا تو معاملہ البتہ دوسرا تھا میرے لئے برسوں پہلے منصورہ میں جھانکنے کی وہی پہلی کھڑکی بنے تھے ،منصورہ بنیادی طور پر ملک کے وفاقی سیکریٹریٹ جیسا ہی ہے موسم جیسے بھی ہوں، یہاں زندگی کی سرگرمی کم نہیں ہوتی،الیکشن جیتنے اور ہارنے سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا،الگ الگ شعبے اور الگ الگ لوگ جو اپنے اپنے دفتروں اور کاموں میں صبح سے ظہر تک اور عصر سے عشاء تک مصروف رہتے ہیں۔

جماعت اسلامی میں اچھے لوگوں کا تو ہجوم ہے، مگر بہترین ذرا تلاش سے ملتے ہیں ، جو ہیں وہ اپنے تنظیمی کاموں میں ہی اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ہم جیسے عوام الناس سے موثر اور خوشگواررابطے کو اپنے کام میں ہی مخل گردانتے ہوئے زندگی گزار دیتے ہیں،صفدر چودھری صاحب ایسے بالکل نہ تھے ،سچ کہوں تو جماعت سے باہر کی دنیا کے لئے وہ مدتوں جماعت کا سافٹ چہرہ رہے ہیں،صحافیوں میں ،اخباری مالکوں میں بھی پسندیدہ تھے یہاں تک کہ میں نے جناب مجید نظامی کو بھی ان کا لحاظ اور خیال کرتے پایا،اللہ نے ان کو مسکراتا چہرہ دیا تھا جس کی لک بے شک جماعتی تھی مگر اصل میں وہ ایک دل پذیر شخصیت کے حامل اور مالک تھے۔

جوانوں، نوجوانوں سے لیکر اپنے ہم عمروں اور بزرگوں تک ان کی خوب رسائی تھی اپنے بیٹے کی کشمیر میں شہادت اور اپنے جواں سال پوتے کی حادثاتی موت پر بھی ان کے چہرے پر شکائت اور کرب کی کوئی علامت ڈھونڈنے سے نہیں ملی، ایک مطمئن روح کے باعث یوں آسودگی سے اپنی طویل عمر اور زندگی کے طویل سفر کے اختتام پر وہ اس لمحے کتنے مطمئن ہوں گے، جب جماعتی احباب اور زعماء حافظ ادریس صاحب ،فرید پراچہ، مولانا عبدالمالک سب ان کی موجودگی میں ایک قطعی غیر جماعتی رویئے کو اپنائے ان کے مزاج اور خدمت کی فضیلتیں اور تعریفیں بیان کر رہے تھے، ان کی سعادت بھری زندگی کی تحسین کر رہے تھے، میں نے انہیں ہمیشہ اپنے مرشد سید مودودی کا ذکر اتنی الفت اور چاہت سے کرتے دیکھا اور سناکہ حیرت ہوا کرتی تھی آج تو سگے باپ کی وفات کے بعد اولاد مہینوں برسوں ان کا ذکر نہیں کرتی۔

ان کے پاس میاں صاحب ،قاضی صاحب اور سید منور حسن کی یادوں اور باتوں کا بھی ایک خزانہ تھا جو وہ باٹتے اور تقسیم کرتے رہتے، اس معاملے میں صرف ایک بار انہیں مشکل میں دیکھا جب میں نے اردو ڈائجسٹ کے قاضی حسین احمد نمبر کے لئے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا تو قاضی صاحب کے معاون خصوصی ابرار صاحب نے صفدر صاحب کے وقت طے کرانے کے باوجود چٹا جواب دے دیا اور کتنی ہی کوششوں کے باوجود اپنی ناں کے عزم اور ارادے کے پروں پر پانی نہ پڑنے دیا ۔ منصورہ دارالضیافہ میں امراء جماعت کے لئے کالم نگاروں کے ساتھ مل بیٹھنے کے سالانہ کھانوں کی نشستوں اور افطاریوں کا اہتمام ان کے فرائض منصبی کا اہم حصہ ہوا کرتا تھا ،ان تمام مواقع پر وہ ایک عمدہ مینیجر کی طرح انتظام واہتمام کراتے ،مجال ہے خو دکبھی محفل میں گفتگو کاکوئی لقمہ بھی دے جاتے ہوں ،وہ اس لحاظ سے ایک یکسو آدمی تھے کہ کبھی سیاسی یاتنظیمی لیڈر بننے کی آرزو کو اپنے دل کے کسی نہاں خانے میں پنپنے نہیں دیا،وہ اپنے کردار اور ذمہ داری کے ہی ہمیشہ ہو کے رہے ، شعبہ نشرو اشاعت کے ساتھ ساتھ ایشیا کے مدیر بنائے گئے تو وہ کام بھی ایسے کرنے لگے جیسے وہی کرتے جوان ہوئے ہوں، شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ بنائے گئے تو اسے اوڑھ لیا۔اتنے برسوں کی طویل رفاقت جس میں ایک پڑاؤ ان کے صاحبزادے مبشر نعیم چودھری سے تعلق اور دوسرے پڑاؤ پر ان کے داماد جناب امجد ظہور ورائچ سے دوستانہ کے باعث بارہا گھر پرکھانے اور افطاری کی دعوتوں کا موقع ملا ، جن کی سادگی اور ان کی گفتگو [جس میں کبھی کسی فرد یا ذمہ دار کے بارے میں کوئی چٹ پٹا تبصرہ یا تبصرے مینیو میں شامل نہ ہوتے] میرے لئے ہمیشہ خوشگوار حیرت کا باعث بنتی رہی ،عالم برزخ میں جہاں وہ اپنے تین پرانے امراء جماعت کے ساتھ مہربان رب کی میزبانی کے مزے لے رہے ہوں گے وہاں نعیم صدیقی صاحب بھی ان سے بار بار ملنے آتے ہوں گے جن پرتحریک اسلامی میں جانے اور وہاں سے نکالے جانے کے بعد عملاً زندگی بہت تنگ ہوگئی تھی یہاں تک کہ ایک روز صفدر صاحب ان کے گھر گئے تو بجلی بھی کئی روز سے کٹی ہوئی تھی ،یہ دیکھ کر آب دیدہ ہوئے قاضی صاحب سے ذکر کیا اورپھر ان کی آخری سانسوں تک ان کے گھر اور منصورہ ہسپتال میں ان کی دیکھ ریکھ سے کبھی غافل نہیں ہوئے ،ان بھلے لوگوں کا ذکر ضرور افسوس سے کرتے، جنہوں نے اپنے مفاد کے لئے اپنے عہد کے اس نامور مصنف او رشاعر کا دل دکھایا اور کام نکلنے کے بعد خالی پھوک کی طرح واپس کر دیا۔

صفدر صاحب منصورہ ہسپتال میں داخل ہر اہم مہمان کی خبر رکھتے اور تیمار داری کے لئے پہنچتے جب وہ خود اس منزل کے مہمان ہوئے اور ڈاکٹرز نے پہلے انہیں انگوٹھے سے محروم کیا اور بعد میں ٹانگ سے تو ان کا کمرہ ہمیشہ تیمار داروں سے بھرا ہی دیکھا،یہ دوسروں کے دکھ درد میں شرکت کرنے والے کی شخصی انویسٹ منٹ کا قدرتی جواب تھا ،اللہ نے ان کو پوتوں نواسوں کا سکھ بھی دکھایا اور دکھ بھی،وہ ان کے بھی دوست ہی تھے اور ان کی حفاظت بھی دوستوں کی طرح ہی کرتے رہے۔

منصورہ سے رخصت ہونا کوئی آسان امر نہیں تھا، لیکن اللہ نے اس کو بھی ان کے لئے آسانی کا باعث بنادیا۔مجھے ان کے ساتھ جماعت کے بعض بڑے اجتماعات میں شرکت کا موقع بھی ملتا رہا،ایسے موقع پر وہ اپنی ذات کو اس قدر غیر اہم کر لیتے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی،یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا، لیکن انہوں نے اسے اپنے لئے بہت آسان اور پسندیدہ کر لیا تھا۔

صفدر چودھری صاحب نے بوڑھے ہونے میں بہت وقت لیا، جب آپ اندر سے جوان فکر اور متحرک رہتے ہیں تو بڑھاپا بھی پاس آتے ہوئے کئی بار سوچتا ہے اور پھر پلٹ کر دوبارہ آنے کے لئے چلا جاتا ہے ،صفدر صاحب کے کیس میں اس بیچارے کے کئی چکر لگ گئے تھے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ ساہیوال سے انہیں کسی نے گڑھتی ہی اتنی میٹھی دی تھی یا یہ انداز ان کا اپنا انتخاب تھا ،جماعت کے چار پانچ بڑے معروف اور نیک نام چودھریوں میں سے ایک کراچی کے چودھری غلام محمد صاحب اوراندرون پنجاب کے چودھری علی احمد سے کبھی ملنے کااتفاق نہیں ہوا لیکن ان کے بارے میں سن کر اور پڑھ کر لگتا ہے کہ کافی مختلف اور شاندار انسان رہے ہوں گے جو اس جہان فانی سے جانے کے کئی دہائیوں بعد بھی ان کا تذکرہ زندہ ہے ، ایشیا سے تعلق رکھنے والے دو چودھریوں میں سے ایک چودھری غلام جیلانی تھے اور ان سے ملنے کا موقع البتہ یونیورسٹی آف پنجاب میں پڑھائی کے دوران بھی ملتا رہا،اسی زمانے میں روزنامہ جنگ اور نوائے وقت نے مقابلے پر سیاسی فورم بنائے اور خوب خوب پروگرام کئے ،وہاں بھی انہیں ملنے اور سننے کا موقع میسر آتا رہا، ہم قدم کی ادارت میرے ذمے لگی اور بعد میں روزنامہ نوائے وقت میں پھول کی ایڈیٹری جہاں وہ ایوان وقت میں شرکت کے لئے تشریف لاتے تو وہاں انہیں اپنا مہمان بنانے کا بھی موقع نکل آتا ۔ان کی وفات کے بعد چودھری صفدر صاحب ایشیا کے مدیر بنائے گئے ،مرحوم محمد افضل ان کے معاون اور مددگار تھے جو خوب باوزن ہونے کے باوجود اپنا کام بخوبی کرتے، صفدر صاحب صحافی نہیں تھے، مگرصحافیوں میں بہت پذیرائی پاتے تھے،وہ اصل میں تعلقات عامہ کے کمال آدمی تھے ،یہ خوبی قدرت نے انہیں بڑی فیاضی سے عطا کی تھی ،وہ جس سے ایک بار مل لیتے اس کی یادوں میں اپنی بے ریا مسکراہٹ اور اپنائیت بھرا لہجہ چھوڑ آتے ،وہ خودلکھنے والے نہیں تھے، مگر ہر اہم لکھنے والے کے دل میں ضرور تھے، وہ کتابی آدمی بھی نہیں تھے، مگر جماعتی یادداشتوں اور واقعات کی کمال کھلی کتاب تھے،ان کا جنازہ اٹھا کے لے جایا جا چکا تھا میں ب برسوں بعد نظر آنے والے امجد مختار چوہان سے گلے مل رہاتھا تو برادرم عبدالغفار عزیز شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ کا قہقہہ گونجا،قدرت اللہ شہاب نے اپنی والدہ کی وفات پر لکھا تھا کہ ان کی طرف سے تو خیرات بھی کی جائے تو گیارہ پیسے سے زیادہ کی ہمت نہیں ہوتی ،ان کا بھی یہی کہنا تھا ان کی یاد میں کچھ کہا بھی جائے تو اس دھیمے قہقہے کے سوا ہمت نہیں ہوتی جو ساری عمر بات بات پر لگاتے اور اپنی زندگی بڑھاتے رہے۔

مزید :

رائے -کالم -