شہباز شریف کے سرپر ہما کا سایہ

شہباز شریف کے سرپر ہما کا سایہ
شہباز شریف کے سرپر ہما کا سایہ

  



حال ہی میں جو کچھ بلوچستان میں ہوا مسلم لیگ ن کیلئے ایک جھٹکا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ’’کنگ میکرز‘‘کی طرف سے تنبیہہ بھی ہے کہ تم باز نہ آئے تو ہم ’’چڑیوں سے بھی باز مرا سکتے ہیں‘‘یہ ن لیگی قیادت کی آنکھیں کھولنے کیلئے بھی کافی ہے،جہاں ایک ہی رات میں پارٹی کھودی،ن سے ق اقتدار پر قابض ہوگئی۔

کہنے کو تو ن لیگ کہتی ہے کہ موجودہ بلوچستان کابینہ میں 11وزیر اس کے ہیں لیکن’’وہ‘‘بھی ایسے ہی اپنے ہیں جیسے سندھ کا غوث علی شاہ،پنڈی کا چودھری نثاراور پنجاب کے ایسے بے شمار ایم این ایز اور ایم پی ایز جو گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر آئے ہیں یہ کوئی پہلی بار مسلم لیگ ن کے ساتھ نہیں ہورہا ،ایسا ایک بار پنجاب اسمبلی میں 90 کی دہائی میں ہواتھا،یہ حقیقت ہے کہ پی ایم ایل بلوچستان میں سینٹ الیکشن دو ماہ قبل ہی تقریباً ہار چکی ہے، مارچ میں ہونے والے انتخابات میں یہ پہلے ہی وہ گیارہ سینیٹرز ہارچکی ہے جنہیں منتخب ہوناتھا، اب اگلے انتخابات کون جیتے گا اور اگراگلی حکومت بنی تو کون بنائیگا۔

عمران خان’’ پْراعتماد‘‘ ہیں کہ ان کی پارٹی اگلی حکومت بنائے گی جب کہ آصف علی زرداری آئندہ وزیراعظم کیلئے بلاول بھٹو کی پیش گوئی کرچکے ہیں۔ رہی مسلم لیگ ن تو اس نے خادم اعلیٰ پنجاب کو خادم اعظم بنانے کیلئے نامزد کیا ہے،اب سوال یہ ہے کہ وہ پاکستان کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے پائیں گے یا پنجاب کی خدمت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

ماضی میں جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا رہا، کیسے حکومیتں بنیں کون سلطان بنا اور کون انتخابی دنگل سے باہر ہوا،1970 میں پہلی بار پارٹی بنیاد اور ایک شخص۔ ایک۔ ووٹ پر انتخابات کا اہتمام کیاگیا،سقوط ڈھاکہ کے بعد پیپلز پارٹی، پی پی پی جس نے مغربی پاکستان میں انتخابات جیتے تھے انھوں نے حکومت بنائی، 1977 میں دھاندلی کے الزامات کے باعث انتخابات کوکالعدم قراردے دیاگیا اور مارشل لاء نافذ کردیاگیا۔1985ء میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات منعقد ہوئے لیکن انتخابات سے پاکستان مسلم لیگ کا جنم ہوا اور محمد خان جونیجو وزیراعظم بن گئے، ان کی حکومت کالے قانون 2۔58 (B) کے تحت ختم کردی گئی اور طویل مدت تک حکمرانی کرنے والے جنرل ضیاء الحق کی موت تک انتخابات نہیں کرائے گئے۔1988 میں دوبارہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے اور پی پی پی انتخابات جیت گئی اور عبوری حکومت نے اقتدارانھیں منتقل کردیا، مرحومہ بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں لیکن 1990 میں صرف 22 ماہ کے اندر ہی اسی قانون کے تحت ان کی حکومت بھی برطرف کردی گئی اور نئے انتخابات کرائے گئے۔1990 میں پی ایم ایل (ن) کو فاتح قرار دیا گیا اور پہلی بارمیاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب سے وزیراعظم بن گئے۔ 1993 میں ان کی حکومت بھی اسی کالے قانون کاشکار بن گئی اورایک اور عبوری حکومت کی نگرانی میں انتخابات کرائے گئے۔ 1993 میں پی پی پی دوبارہ اقتدار میں آگئی اور بے نظیربھٹو دوسری بار وزیر اعظم بن گئیں لیکن انھیں بھی اْسی بحران کا سامنا کرناپڑا اور اس کا نتیجہ بھی ویسا ہی نکلا،1996 میں ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے کئی ہفتوں بعد مرحوم صدر فاروق لغاری نے اْسی قانون (B) 58۔2کے تحت انھیں برطرف کردیا۔ 1996 میں عبوری حکومت کے تحت ایک اور الیکشن کرائے گئے اور پہلی بار پی ایم ایل(ن) نے دوتہائی اکثریت حاصل کی جب کہ قومی اسمبلی میں پی پی پی کی 18 سیٹیں رہ گئیں۔،پھر آیا12 اکتوبر 1999 جب سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جنرل (ر) پرویز مشرف کی برطرفی اور جنرل ضیاء الدین بٹ کی تعیناتی کے بعد فوج نے اقتدارسنبھال لیا اور فوج مشرف کی وفادار رہی اور نواز شریف کو گھر بھیج دیاگیا۔ 2002 میں ایک اور الیکشن ہوئے لیکن پہلی باربینظیر بھٹواور نواز شریف مائنس ہوئے،پیپلز پارٹی واحد بڑی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن مشرف کی زیرقیادت حکومت نے اقتدار اْن کے حوالے نہیں کیا، اس کی بجائے ایک نئی پارٹی پی ایم ایل(ق) بنائی گئی اور محمد خان جمالی وزیراعظم بن گئے۔

مشرف کے دورِ حکومت کے دوران جمالی کو شوکت عزیز سے بدل دیا گیا، 2007 میں مشرف نے نئے انتخابات کرائے جو بے نظیر بھٹو کی شہاد ت کے بعد 2008 میں منعقد ہوئے تھے،پیپلز پارٹی نے انتخابات میں فتح حاصل کی اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے جبکہ آصف علی زرداری صدر بن گئے اور مشرف نے اقتدارچھوڑدیا۔1970 کے بعد 2013 میں پہلی بار کسی جماعت نے مکمل مدت پوری کی اور حکومت اور اپوزیشن کی رضامندی سے انتخابات عبوری حکومت کے تحت منعقد ہوئے، پی ایم ایل(ن) نے انتخابات میں فتح حاصل کی اور نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے، اب پی ایم ایل(ن) اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے،اور انتخابات شیڈول کے مطابق جولائی 2018 میں منعقد ہوں گے اور اگر ہم مذکورہ بالا رجحان کودیکھیں تو یہ واضح ہوگا کہ وجہ جو بھی ہو کسی بھی پارٹی نے مسلسل دو بار انتخابات نہیں جیتے۔

لیکن برطانوی جریدہ 'دی اکانومسٹ' اس حقیقت کی نفی کررہا ہے ۔اس کی ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کے کامیاب ہونے کا امکان ہے لیکن شریف خاندان پر کرپشن کے الزامات اور معاشی عدم استحکام کا الیکشن نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے اور عام انتخابات تک سیاسی استحکام کو بہت زیادہ خطرات رہیں گے۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے چونکہ پنجاب میں بہت اچھے کام کیے ہیں لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسے واقعات تاحال ان کا پیچھا کررہے ہیں،شہباز شریف نے جس طرح’’سپیڈ پنجاب‘‘کا اعزاز اپنے نام کیا ہے جس کے معترف چین اور ترکی جیسے ملک ہیں،باقی صوبوں کے عوام بھی ایسی ہی ترقی کے خواہش مند ہیں وہ بھی چاہتے ہیں کہ شہباز شریف جیسا وزیر اعلیٰ ہو ،بڑے بھائی اور ان کی اولاد کی سزا تو شہباز شریف کو مل سکتی ہے،وفاق میں کیے گئے’’گناہ‘‘تو ان کے کھاتے میں ڈالے جاسکتے ہیں لیکن ان کی اپنی پوزیشن کلیئر دکھائی دیتی ہے کیونکہ ان کا سارا کاروبار ملک میں ہے،ان کے بچے پاکستان میں ہیں،حدیبیہ کیس کا باب بند ہوچکا ہے،مخالفین کو ملتان میٹرو کیس سے کچھ ملا نہیں، لیکن وہ شہباز شریف کے سر پر ہما کا سایہ دیکھ رہے ہیں۔اسی لئے اپوزیشن خوب واویلا کررہی ہے جس کا اندازہ حالیہ احتجاج در احتجاج،اپوزیشن اور مذہبی پریشر گروپوں کی طرف سے تحریکوں سے لگایا جاسکتا ہے اور یہ سلسلہ الیکشن تک چلتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ مسلم لیگ ن کے مخالفین کے سوا ان کے نامہ اعمال میں کچھ نہیں جس کو بنیاد بنا کر انتخابی مہم چلائی جاسکے،اپوزیشن کی اس مہم کا خلق خدا نے بہت اثر لیا ہے ،پانامہ کیس سے زیادہ ختم نبوت کے معاملے نے ان کی ساکھ تباہ کرکے رکھ دی ہے،ایسی صورتحال میں جہاں شہباز شریف کا وزیر اعظم بننا سوالیہ نشان ہے،اگر اقتدار کا ہما انکے سر پر نہیں بیٹھے گا ،تو عمران خان ،بلاول بھٹو زرداری کے سر پر کیسے بیٹھے گا،یہ بھی اک سوالیہ نشان ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ