زخمی شاہین ،زخموں سے چور

زخمی شاہین ،زخموں سے چور
 زخمی شاہین ،زخموں سے چور

  

آخر کار پروٹینز نے شاہینوں کو تیسرے ٹیسٹ میچ میں شکست دے کر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کر دیا ،یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ ہمارے شاہینوں کو افریقہ نے وائٹ واش کیا ہو اس سے قبل بھی ہماری قومی ٹیم 2013 کی سیریز میں اس طرح کی شکست سے دوچار ہو چکی ہے،اگر اب ہو گئی تو کیا ہوا یہ تو بھلا ہو ہماری ٹیم سلیکشن کمیٹی کا جس نے نیک نیتی کے ساتھ وہ ٹیم ٹیسٹ کے لیے منتخب کی جس کے بیشتر کھلاڑی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے ایکسپرٹ ہیں اور دنیا کی مختلف لیگز میں ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں بس انہیں مسئلہ ملک و قوم کی عزت سے ہے،جو اپنے ملک کے لیے کھیلتے ہوئے سب کچھ بھول جاتے ہیں ،

پھر رہی سہی کسر ہماری سلیکشن کمیٹی پوری کر دیتی ہے ،ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کا کھلاڑی ٹیسٹ کے لیے منتخب کر لیا جاتا ہے اور ٹیسٹ کے کھلاڑی سے باقی دو فارمیٹ کے کھیل کی توقع رکھتے ہیں،جس سے نا صرف براہ راست اثر کھلاڑیوں کی پرفامنس پر پڑتا ہے،خیر اثر تو جب پڑے گا جب کھلاڑی ملک و قوم کے لیے کھیلے گے اپنے لیے کھیلتے ہوئے انہیں فرق بھی نہیں پڑنا بس ایک پریس کانفرنس کے بعد معافی اور جان کھلاسی۔

گزشتہ روز کے ایک اخبار میں سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق کی کرکٹ میں آمد کا پڑھ کر خوشی ہوئی تو دوسری طرف یہ سوچنے پر مجبور بھی ہو گیا کہ امام الحق نے اپنے ٹیسٹ کیرئر میں کون سا ایسا تیر مار لیا کہ اپنے بھتیجے کی یاد ہر وقت انضمام الحق جیسے بڑے کرکٹر کے ساتھ رہتی ہے،ٖفخر زمان تو فاسٹ کرکٹ کا پلیئر ہے اور اس دورے پے انہیں سپشلسٹ کے طور پر شامل کیا گیا تھا ،حارث سہیل کو شاید ان کی انجری کے باعث ٹیم میں سلیکٹ کیا گیا ،اسد شفیق جو خود کو یونس خان کا متبادل سمجھتے ہیں انہیں اس جگہ پر پہنچنے کے لیے بڑی محنت کرنا پڑے گی،

سرفراز احمد شاید ویسے ہی اپنی پرفارمنس سے اور ٹیسٹ کپتانی سے خوش نظر آتے ہیں کیونکہ چیئرمین پی سی بی کا اعتماد انہیں حاصل ہے اور کیا کہنے سینئر بیٹسمین اظہر علی کے جنہوں نے پوری سیریز میں ایک ففٹی بھی نہیں بنائی اور محظ ساٹھ کے قریب اسکور کر کے خود کو سٹار بیٹسمین کا لیبل لگانے پر تلے ہوئے ہیں،باؤلنگ کے شعبہ میں مایہ ناز سپینریاسر شاہ ،حسن علی،شاہین شاہ آفریدی ،شاداب خان،فہیم اشرف،کس کس کو قصور وار ٹھہرائیں،اپنے پیارے کھلاڑیوں کی پرفارمنس پر بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں

ہماری قومی ٹیم ابھی بھی کچھ نہیں بھولی انہیں کھیلنا آتا ہے یہ بائیس کروڑ عوام کی ٹیم ہے کوئی گلی محلے کی ٹیم نہیں جو آئی اور آکر مخالف ٹیم کو جادو کی جپھی ڈال کر انہیں ہرا دے گی ،یہ کھلاڑی محنت کر کے آگے آئیں ہیں ،ان کے علاوہ کس کی مجال کہ سلیکشن کمیٹی کسی اور کو سلیکٹ کرے ،چاہے فواد عالم ہوں یا سلمان بٹ،سمیع اسلم ہوں یا عابد علی، راحت علی ہوں یا جنید خان کوئی کتنے ہی رنزوں کے ڈھیر لگا لے وکٹوں کی سینچریاں مکمل کر لے سلیکشن کمیٹی انہی کھلاڑیوں کی بانہوں میں بانہیں ڈال کرانہی کے گن گاتی نظر آئے گی ،

اب جب کہ ورلڈ کپ نزدیک ہے اور کوئی کھلاڑی پرفارمنس دیتا دکھائی نہیں دے رہاتو پھر کیوں نہ کھلاڑیوں کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے انہیں پرفارم کرنے کے لیے ون ڈے اور ٹی توئینٹی میں موقع دیا جائے اور یہ ہی کھلاڑی اپنی اصل کرکٹ میں پرفارم بھی کرتے نظر آئیں پھر سلیکشن کمیٹی اور پی سی بی کو کہنے کو کچھ تو مل جائے گا اور اگر خدا ناخواستہ ہمارے کھلاڑی ان دونوں فارمیٹ کی سیریز بھی ہار گئے تو پھر سلیکشن کمیٹی اور پی سی بی حکام کو سر جوڑ کر آنے والے ورلڈ کپ کے لیے وطن سے محبت کرنے والے اور جان لڑانے والے نظر انداز کھلاڑیوں کے نام ابھی سے فائینل کر کے انہیں موقع دے اور موجودہ کھلاڑیوں کو آرام کا موقع دے۔

مزید : رائے /کالم