نئے چیف جسٹس سے توقعات

نئے چیف جسٹس سے توقعات
نئے چیف جسٹس سے توقعات

  

جسٹس آصف سعیدکھوسہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے 26ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے 17جنوری 2019ء کو حلف اٹھائیں گے جبکہ 18جنوری2019ء سے وہ باقاعدہ کام شروع کردیں گے ۔پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی ٹیم نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جس طرح کے دلیرانہ ، مدبرانہ اور مبنی بر انصاف فیصلے دئیے ہیں اس سے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کا وقار ملک اور ملک سے باہر بھی بہت بلند ہوا ان فیصلوں میں ایسے بھی تھے جو براہ راست عوامی مفاد کے حامل تھے جنہیں قومی سطح پر سراہا گیا ان فیصلوں سے اعلیٰ عدلیہ نے جو اعلیٰ معیار قائم کیا ہے اور ان سے جو راہیں متعین کی ہیں وہ آنے والوں کیلئے مشعل راہ ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کا جو ایک انبوہ کثیر موجود ہے جونئے آنے والون کو نپٹانا ہو گا اور ان کی قابلیت اور کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ وہ اس میں سرخرو ہوں گے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لینے کے حوالے سے بھی خاصی شہرت حاصل کی، تاہم اب بھی بعض فیصلے ایسے ہیں جو از خود نوٹس کے متقاضی ہیں ۔

قوم امید رکھتی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ازخود نوٹس لے کر عوامی امنگوں کا پورا خیال رکھے گی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ جن کا تدبر ، قابلیت اور قانون پر دسترس ایک مسلمہ امر ہے اور ہرقسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے۔

ایسے مقدمات میں خصوصی دلچسپی لیں گے جو قومی مفادات اور تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں یہ بجا کہ ان کی بحیثیت چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مدت صرف 337دن ہے جو ایک سال سے بھی کم ہے مگر ان کی صلاحیتوں، کارکردگی ،اعلیٰ تعلیمی قابلیت اور قوت فیصلہ کے پیش نظر یہ بات کرنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ اس مختصر عرصہ میں بھی نہ صرف زیادہ سے زیادہ مقدمات نمٹائیں گے بلکہ ایسے فیصلے بھی کریں گے جو دور رس نتائج کے حامل تاریخی فیصلے ہوں گے خصوصاً ایسے فیصلے جوقومی امنگوں سے ہمکنار ہوں ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ سینئر جج کی حیثیت سے کام کررہے ہیں وہ ان کی صلاحیتوں سے کما حقہ واقف ہوں گے اوروہ ان کے فیصلوں میں ان کے بہترین ممدو معاون ثابت ہوں گے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے 20دسمبر 2019ء میں بطور چیف جسٹس ریٹائر ہونے کے بعد مسٹر جسٹس گلزار احمد اسی سال چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدہ پر فائز ہوں گے اور دوسال سے زیادہ مدت تک کام کریں گے اور یکم فروری 2022ء کو ریٹائر ہوجائیں گے ۔

مزید : رائے /کالم