ملک کو سرسبز بنائیں

ملک کو سرسبز بنائیں
ملک کو سرسبز بنائیں

  

اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارا ملک فضائی آلودگی کا شکار ہو چکا ہے، جس کی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی اور آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے نہروں کے کنارے آبادیاں بسائی جا رہی ہیں۔ درختوں کو کاٹا جا رہا ہے۔

فصلوں، پھلوں، سبزیوں کے کھیتوں کو ختم کرکے ہاؤسنگ سکیمیں بنائی جا رہی ہیں۔لوگوں کو پلاٹ کی آڑ میں لوٹا جا رہا ہے۔ قدرتی طور پر جنگلات کو ختم کیا جا رہا ہے، جس سے درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، ملک میں بجلی کا استعمال بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

پہلے دفاتر ،گھر اور دیگر عمارتیں کھلی ہوا دار روشن تعمیر کی جاتی تھیں۔ بجلی کا استعمال کم ہوتا تھا۔ صحن میں پودے درخت لگے ہوتے تھے۔پھولوں کی خوشبو آتی تھی۔ تازہ ہوا آتی تھی۔ قدرتی مناظر سے انسان خوش خوش دکھائی دیتا تھا۔

چہرے پر مسکراہٹ سجی ہوتی تھی، مگر اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ چہرے پر کھچاؤ نظر آتا ہے۔ کام میں بھی دل نہیں لگتا۔اب ہر گھر، دفتر اور سرکاری عمارتوں میں بجلی کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ائرکنڈیشن ضروری ہو گئے ہیں۔ شیشے کے کمروں میں بند ہو گئے ہیں۔ تازہ ہوا سے ڈرنے لگے ہیں۔ صحت برباد کرلی ہے۔ پیٹ مٹکے ہو گئے ہیں، اے سی کمرے سے نکلے، اے سی گاڑی میں بیٹھ گئے۔

سرکاری دفتروں میں عملے کے آنے سے پہلے اے سی چلا دیئے جاتے ہیں۔ ان کی گرم ہُوا باہر کی فضا کو آلودہ کر دیتی ہے۔دوسرے سورج بھی آگ برسا رہا ہوتا ہے۔ لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان سب باتوں کا حل انسان کا قدرت سے تعلق جوڑنے سے ہو سکتا ہے۔ گھروں کو روشن اور ہوادار بنائیں۔

صحن میں خوبصورت پھل پھول کے درخت اور پودے لگائیں، فضا کو خوشگوار بنائیں، حکومتی سطح پر درخت لگانے کی مہم شروع کی جاتی ہے۔ اس کی سخت نگرانی بھی کی جائے۔ دیکھنے میں آیا ہے۔ قریب ہی چوپاؤں کا آزادانہ آنا جانا لگا رہتا ہے۔

بھیڑ، بکریاں، گائے، بھینسیں اس مہم کو ناکام بنا دیتی ہیں،پودے کھا جاتی ہیں۔ان کو روکنے والا کوئی نہیں، لاکھوں روپے یوں ہی ہر سال برباد ہو جاتے ہیں۔ یہ مافیا بڑا طاقتور ہے۔

پودوں کو بچانے کے لئے جنگلوں کا بندوبست کیا جائے۔ لوہے کے چھوٹے بڑے جنگلوں میں پودوں کو بڑا کیا جا سکتا ہے اور فضاء کو آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس طرح ملک کو سرسبز بنانے کی مہم کو کامیاب کیا جا سکتا ہے۔ اس میں عوام کو بھی حصہ ڈالنا چاہیے اور اپنے گھر کے صحن میں ایک پودا ضرور لگانا چاہیے۔ اس نئے سال کا آغاز پودا لگانے سے کریں اور جنت میں گھر بنائیں۔

دیکھنے میں آیا ہے۔مال روڈ ایچی سن کالج،فیروزپور روڈ قدیم درختوں کے تنوں میں بجری سیمنٹ تارکول ڈال دیا گیا ہے۔ اس طرح اور علاقوں میں بھی کیا گیا ہے، تاکہ فت پاتھ کو پختہ کیا جائے۔اس عمل سے درختوں کو پانی نہیں مل رہا اور درخت سوکھ رہے ہیں۔بارش کے پانی سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ دوسرے زمین میں پانی کی سطح کافی کم ہو گئی ہے۔

درختوں کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے تنوں سے بجری، تارکول وغیرہ نکال دی جائے۔اردگرد کی جگہ کچی رکھی جائے، کھاد ڈالی جائے۔ اس طرح وہ سرسبز ہوجائیں گے اور فضا کو خوشگوار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

بھیکے وال موڑ پر یونیورسٹی کی کافی جگہ خالی پڑی ہوئی ہے۔ البتہ اس کے اردگرد لوہے کا جنگلہ لگا ہوا ہے۔ اس طرح جگہ محفوظ ہو گئی ہے۔ اس کے اندر جھاڑ جھنکار اُگ رہا ہے۔

اس کی صفائی کی جائے۔ یونیورسٹی کے بے شمار مالیوں کی خدمات حاصل کرکے اس میں خوبصورت پھل و پھول والے درخت اور پودے لگائے جائیں اور ماحول کو خوبصورت بنایا جائے،اس طرح اس چوک کی خوبصورتی میں اضافہ ہو گا، جس کا انسانوں اور پرندوں پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ ہو سکے تو سبزیاں لگائی جائیں، تاکہ عوام کو سستی سبزیاں میسر ہو سکیں۔

مزید : رائے /کالم