شیخ رشید کے دعوے اور ریلوے کی زبوں حالی

شیخ رشید کے دعوے اور ریلوے کی زبوں حالی
شیخ رشید کے دعوے اور ریلوے کی زبوں حالی

  

مجھے تو یوں لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو ان کا ہر وزیر اپنی جعلی کارکردگی سے متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور کامیاب بھی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان تو شاید اس طریقہ واردات سے مطمئن ہو جاتے ہوں ،لیکن عوم کے اندر اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ کل میرے کینیڈا سے آنے والے 70 سالہ بڑے بھائی رائے محمد فاروق خان نے ایک ایسی آپ بیتی سنائی ، جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ شیخ رشید احمد بھی انہی وزراء میں شامل ہیں جو اپنی جعلی کارکردگی کا ڈھنڈوڑا پیٹ کر عوام اور اپنے وزیر اعظم کو گمراہ کر رہے ہیں۔

وہ ہر وقت سیاست سیاست کھیلتے ہیں، شہبازشریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی سے ہٹانا چاہتے ہیں ،مگر جو ان کا اصل کام ہے ،یعنی ریلوے کی بحالی اور کارکردگی کو بہتر بنانا اس کی طرف ان کی سرے سے توجہ نہیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ فاروق صاحب کینیڈا سے لاہور آئے تو فلائٹ نہ ہونے کی وجہ سے ملتان اپنی اہلیہ کے ہمراہ موسیٰ پاک ٹرین سے جانے کا فیصلہ کیا جو لاہور سے چار بجے شام چلتی ہے۔ وہ لاہور ریلوے سٹیشن پہنچے تو بتایا گیا کہ جہاں سے سمجھوتہ ٹرین چلتی تھی، وہاں موسیٰ پاک ٹرین آئے گی۔

وہ بڑی مشکل سے سیڑھیاں چڑھتے اترتے اس پلیٹ فارم پر پہنچے۔ وہاں نہ کوئی بینچ تھا اور نہ چھت، سخت سردی میں دیگر مسافر بھی وہاں موجود تھے۔ موسیٰ پاک ٹرین سات بجے تک نہ آئی۔ انہوں نے وہاں شور شرابہ کیا تو ریلوے کے ایک ٹکٹ کلکٹر نے بتایا کہ کراچی سے جو تیز گام لاہور آتی ہے اس کی تین بوگیاں کاٹ کر موسیٰ پاک ٹرین کو لگائی جاتی ہیں، تیز گام چونکہ چار گھنٹے لیٹ ہو گئی، اس لئے اب بوگیاں واشنگ لائن میں دھل رہی ہیں، جس کے بعد وہ پلیٹ فارم پر آئیں گی۔ ساڑھے سات بجے وہ بوگیاں آئیں اور موسیٰ پاک چار گھنٹے کی تاخیر سے ملتان کے لئے روانہ ہوئی۔

پورے راستے ٹرین اندھیرے میں ڈوبی رہی، شکایت کی گئی تو بتایا گیا کہ اگر بوگیوں کی لائٹس آن کی گئیں تو انجن کی ہیڈ لائٹ بند ہو جائے گی، کیونکہ ٹرین کے ساتھ جو جنریٹر لگا ہے، وہ اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ بیک وقت انجن اور بوگیوں کو بجلی فراہم کر سکے۔

رائے محمد فاروق جو پچھلی کئی دہائیوں سے کینیڈا میں مقیم ہیں، کہنے لگے کہ وہاں ہم روزانہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے دعوے سنتے تھے کہ انہوں نے ریلوے کو بہت بہتر کر دیا ہے۔ سعد رفیق کے دور میں ریلوے کو تباہ کر دیا گیا تھا، ہم اسے بہتر بنا رہے ہیں، روزانہ نئی گاڑیاں چلانے کا اعلان بھی کرتے تھے، اس لئے جب میں نے ٹرین کے ذریعے لاہور سے ملتان جانے کا ارادہ کیا تو میرے ذہن میں یہ سب کچھ تھا۔ مگر عملاٰ جو کچھ دیکھا وہ اس قدر مایوس کن تھا کہ مجھے اس عمر میں شیخ رشید احمد پر بہت غصہ آیا ،کیونکہ کینیڈا میں کوئی وزیر ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا جو زمینی حقائق سے لگا نہ کھاتا ہو۔

ٹرینوں کی حالت نا گفتہ بہ ہے، لیٹرینوں میں صفائی نہیں، لائٹ نہیں۔ انہوں نے یہ دلچسپ مطالبہ بھی کیا کہ کسی دن شیخ رشید احمد کو کسی گاڑی کی لیٹرین میں بیٹھ کر دیکھنا چاہئے کہ ان جیسے کسی بندے کے لئے مرغی کے ڈربوں جیسی لیٹرین میں بیٹھنا ممکن بھی ہے یا نہیں؟ پھر انہوں نے ایک اور بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں ایسا نہیں ہوتا کہ بغیر انفراسٹرکچر کے کوئی نئی ٹرین شروع کر دی جائے، وہاں مہینوں اس کی تیاری ہوتی ہے۔ اس کی ہر چیز نئی تیار ہوتی ہے، تاکہ اس کی وجہ سے پہلے جو نظام چل رہا ہے، اس میں کوئی رخنہ نہ آئے۔ مگر یہاں غالباً شعبدہ بازی سے کام لیا جا رہا ہے ۔نہ تو نئی ٹرینوں کے لئے نئی بوگیاں بنوائی جا رہی ہیں اور نہ ہی نئے انجن خریدے جا رہے ہیں۔

ایک ٹرین کے ڈبے کاٹ کر نئی ٹرین چلا دی جاتی ہے۔ اس طرح جب کوئی ایک ٹرین لیٹ ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے وہ ٹرینیں بھی لیٹ ہو جاتی ہیں، جنہیں دوسری ٹرینوں سے بوگیاں علیحدہ کر کے چلایا جاتا ہے۔

جیسا لاہور ریلوے اسٹیشن پر ہوا، تیز گام کی تین بوگیاں کاٹ کر کوموسیٰ پاک کو ملتان بھیجنا تھا۔ تیز گام تین گھنٹے لیٹ آئی تو موسیٰ پاک بھی لیٹ ہو گئی۔ تیز گام کے لیٹ ہونے کا سبب بھی یہی ہوگا کہ کراچی سے جو بوگیاں اسے لگنی تھیں، وہ ٹرینیں تاخیر سے کراچی پہنچیں اور نظام تتربتر ہو گیا۔

ان کی یہ باتیں سن کر مَیں نے اپنے طور پر یہ کھوج لگانے کی کوشش کی کہ آج کل ریل گاڑیوں کے وقت پر پہنچنے کی شرح کیا ہے؟ ملتان ریلوے سٹیشن کے قلیوں سے معلومات لی گئیں تو انہوں نے بتایا کہ ہر گاڑی دو سے تین گھنٹے لیٹ آ رہی ہے۔ تیز گام جیسی بڑی گاڑیاں بھی کہ جن کے لیٹ ہونے کی شرح بہت کم تھی، نئی ٹرینیں چلانے کی کارکردگی دکھاؤ مہم کی وجہ سے وقت پر نہیں آ رہیں، کیونکہ ان کے ساتھ بوگیاں وقت پر نہیں لگتیں۔ وہ ٹرینیں وقت پر نہیں آتیں، جن کی بوگیاں اتار کر بڑی ٹرینوں کے ساتھ لگائی جاتی ہیں۔

اس طرح پورے ملک میں ریلوے کے نظام الاوقات درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہ بات بھی علم میں آئی کہ سعد رفیق کے زمانے میں ریل گاڑیاں وقت پر آتی تھیں اور وہ اس پہلو پر سب سے زیادہ زور دیتے تھے۔ لیٹ ہونے والی گاڑی کے ڈرائیور سے باز پرس کی جاتی اور وجوہات کا جائزہ لے کر صورت حال بہتر بنائی جاتی تھی۔

اب شیخ رشید احمد کا سارا فوکس صرف زیادہ گاڑیاں چلانے پر ہے، وہ اس کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں، حالانکہ بغیر منصوبہ بندی اور وسائل کے چلائی جانے والی یہ گاڑیاں ریلوے کے بنے بنائے امیج کو تباہ کر رہی ہیں، جیسے میرے بڑے بھائی نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اب کبھی ٹرین میں سفر نہیں کریں گے۔ اب وہ زمانہ گیا کہ لوگ گھنٹوں ریلوے سٹیشن پر بیٹھے گاڑی آنے کا انتظار کرتے رہیں، اب ان کے پاس کئی متبادل ذرائع موجود ہیں، جن کے ذریعے وہ کم وقت میں اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں۔ غلام احمد بلور کے دور میں ریلوے کا زوال اس لئے شروع ہوا تھا کہ ریل گاڑی کبھی وقت پر نہیں پہنچتی تھی۔

گھنٹوں لیٹ ہونا ایک روایت بن چکی تھی۔ دوسری طرف ان کی ٹائمنگ ایسی رکھی گئی تھی کہ لوگوں کے لئے سہولت کی بجائے زحمت بن جائے۔ اللہ اللہ کر کے ٹرینوں کا بروقت آنا اور روانہ ہونا یقینی ہو گیا تھا۔ یہی وہ سب سے بڑی کشش تھی جس نے مسافروں کو دوبارہ ریلوے کی طرف متوجہ کیا، لیکن اب شیخ صاحب کی زیادہ ٹرینیں چلاؤ، کارکردگی دکھاؤ حکمت عملی نے ریلوے کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔

شیخ صاحب ریلوے کو آسمان پر لے جانے کی جتنی مرضی بڑھکیں مارتے رہیں، حقیقت یہ ہے کہ ریلوے پھر زوال کی طرف جا رہا ہے۔ بغیر منصوبہ بندی کے چلائی جانے والی ٹرینیں ریلوے کے نظام کو ایک جنجال پورہ بنا رہی ہیں، جس میں سوائے انتشار کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

بوگیاں وہی ہیں، ٹرینوں کی تعداد بڑھ گئی۔ کیا ہمارے پاس الٰہ دین کا چراغ ہے کہ ہم گاڑیوں کو وقت پر پہنچا سکیں۔ یہ بات مجھے ریل گاڑی کے ایک ڈرائیور نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں کہی۔ اس کا کہنا تھا کہ مسافر ہم سے لڑتے ہیں کہ گاڑی میں لائٹ نہیں، صفائی نہیں، جب ایک بوگی کسی نہ کسی گاڑی کے ساتھ چوبیس گھنٹے چلتی رہے گی تو اس میں صفائی اور سہولتیں کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہیں۔

اس نے بتایا کہ جب سے شیخ رشید احمد وزیر ریلوے بنے ہیں، گاڑی کا وقت پر پہنچنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا، نہ ہی کوئی اس حوالے سے پوچھ گچھ ہوتی ہے، کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ ایک ہی جواب آئے گا، پچھلی گاڑی کی بوگیاں نہیں پہنچیں اس لئے گاڑی وقت پر نہیں چل سکی۔ اب اس میں قصور ڈرائیور کا ہے۔ ڈی ایس ریلوے کا اور نہ ہی کسی ا ور کا چادر چھوٹی اور پاؤں بڑھے ہو چکے ہیں۔ آپ دس کی بجائے جب پندرہ ٹرینیں نئی بوگیاں بنوائے بغیر چلائیں گے تو یہ کرشمہ رونما نہیں ہو سکے گا۔

شیخ صاحب ہر مہینے بعد پانچ نئی ٹرینیں چلانے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ واہ واہ ہو جاتی ہے، تالیاں بجتی ہیں، مگر ان سے یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ نئی ٹرینوں کے ڈبے کیا انہوں نے نئے خریدے ہیں؟ ریلوے کے واقفان حال یہ بھی کہتے ہیں کہ شیخ صاحب کے دور میں ریلوے حادثات کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ بوگیوں کو بغیر دیکھ بھال کے گاڑی کے ساتھ فٹ کر دیا جاتا ہے جس کے باعث وہ پٹڑی سے اتر جاتی ہیں۔

شیخ رشید احمد الیکٹرانک میڈیا کے لاڈلے ہیں۔ روزانہ کِسی نہ کِسی ٹاک شو میں وزیر اعظم سے اپنا قریبی تعلق گنواتے ہیں اور مخالفین کے خلاف اخلاق سے گرا ہوا سیاسی تبصرہ بھی کرتے ہیں، اگر اس کی بجائے وہ روزانہ کسی بڑے ریلوے سٹیشن پر چلے جائیں، وہاں عوام کو دی گئی سہولتیں چیک کریں اور یہ بھی دیکھیں کہ ٹرینیں مقررہ وقت سے کس قدر لیٹ آ رہی ہیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ ریلوے کو بہتر بنانے کا وہ جو ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، وہ ایک سیاسی شعبدہ بازی ہے اور کچھ نہیں،لیکن وہ تو بس باتوں کی کمائی کھاتے رہنا چاہتے ہیں، عملی کام چاہے صفر ہو۔

مزید : رائے /کالم