کیاحکومت یا عدلیہ اس طرف بھی توجہ دے گی؟

کیاحکومت یا عدلیہ اس طرف بھی توجہ دے گی؟
کیاحکومت یا عدلیہ اس طرف بھی توجہ دے گی؟

  

تقریباً ایک سال پہلے میرے ایک قریبی عزیز ایک چینی فرم میں ایڈیشنل منیجر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ یہ چینی فرم/ کمپنی پاکستان میں کئی جگہ گزشتہ نون لیگ کی حکومت میں ایسے منصوبے مکمل کر رہی تھی جو ملک میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے سلسلے میں لگائے جا رہے تھے۔ ان میں ایک وہ منصوبہ بھی تھا جو بہاولپور کے قریب ایک وسیع علاقے میں شمسی توانائی پیدا کرنے کے لئے لگایا جا رہا تھا۔

اس فرم کا ہیڈکوارٹر تو شائد بیجنگ میں تھا جبکہ ایک ذیلی دفتر لاہور میں بھی تھا۔ میرا عزیز جب کبھی اپنے گھر میں کوئی فنکشن کرتا تو اپنے چینی دوستوں کو بھی بلا لیتا جو تعداد میں چار پانچ تھے۔

ہر ماہ تقریباً دو تین فنکشن ہوتے تھے جس میں، میں بھی مدعو ہوتا اور وہیں ان چینی دوستوں سے ملاقات ہو جاتی۔ مجھے تو چینی زبان بالکل نہیں آتی تھی لیکن وہ دوست کچھ کچھ انگریزی سمجھنے اور بولنے لگے تھے۔ ان کے ہیڈکوارٹر کی طرف سے ایک چینی لڑکی بطور مترجم ان کے ساتھ تھی جس کی عمر میرے حساب سے کوئی 19،20 برس ہوگی۔ وہ بڑی روانی سے انگریزی میں گفتگو کرتی تھی۔

چونکہ کھانے کے یہ فنکشن رات گئے تک جاری رہتے اس لئے میں اپنے ان چینی دوستوں سے چین کی حیرت انگیز اور تیز رفتار ترقی کے راز جاننا چاہتا تھا اور اس مترجم لڑکی کو اکثر سوالات سے لاد دیا کرتا تھا۔ یہ گفتگو نہ صرف میرے بلکہ دوسرے مہمانوں کے لئے بھی فکر انگیز ہوتی۔ میں پاک چین کمرشل موضوعات پر تو کچھ کہنا نہیں چاہوں گا۔آج کے کالم کے موضوع کے حوالے سے صرف چند ’’غیر کمرشل‘‘ باتیں قارئین سے شیئر کرنے کی کوشش کروں گا۔

برسبیلِ تذکرہ، ان چینی دوستوں کے بدن چھریرے تھے اور چہرے مہرے سے کوئی بھی چینی،30،35 برس سے زیادہ کا نہیں لگتا تھا۔ کھانا اگرچہ بہت پُرتکلف اور کم از کم دس بارہ ڈشز (Dishes) پر مشتمل ہوتا تھا لیکن وہ دوست شائد بہت ہی ’کم خور‘ تھے۔ زیادہ سے زیادہ ابلے ہوئے چاول اور سبزیوں کی طرف متوجہ رہتے جبکہ دوسرے پاکستانی مہمان ان دونوں ڈشز کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے اور چکن، مٹن اور بیف وغیرہ پر ’’گزارا‘‘ کرتے تھے۔

ایک دفعہ اس لڑکی نے مجھ سے پوچھا: ’’کرنل صاحب! ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ بھی ہماری طرح سبزیوں سے زیادہ رغبت رکھتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ ازراہِ مروت ہم چینی مہمانوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیتے اور اپنے دوسرے پاکستانی دوستوں کے برعکس گوشت وغیرہ سے بنی ڈشز کی طرف کم کم التفات کرتے ہیں؟۔۔۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ آپ صرف سادہ پانی کی بوتل کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں جبکہ آپ کے دوسرے مہمان سوڈا واٹر (کوک، مرنڈا، پیپسی، سپرائٹ وغیرہ) سے از بس شوق فرماتے ہیں‘‘۔ میں نے جواب دیا: ’’مس! میں نے برسوں سے دو ماکولات / مشروبات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

ایک تو ان میں پزّا (Pizza)ہے جس کے لئے میں حلف اٹھا سکتا ہوں کہ آج تک چکھ کر نہیں دیکھا کہ کیسا ہوتا ہے اور دوسرے کوک وغیرہ سے تقریباً گزشتہ دس بارہ برس سے اجتناب اختیار کر رکھا ہے‘‘۔۔۔۔ اس نے جب میرے جواب کا ترجمہ اپنے ہم وطنوں کو سنایا تو وہ بڑے متاثر ہوئے اور مجھ سے کہنے لگے: ’’آپ ان چند پاکستانی دوستوں میں شمار کئے جا سکتے ہیں جو کھانے پینے کے معاملے میں ہم چینیوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں۔‘‘۔۔۔ میں نے کہا: ’’مس آپ کا بہت شکریہ!‘‘

یہ سن کر وہ کہنے لگی: ’’آپ ہمیشہ مجھے ’مس‘کہہ کر خطاب کرتے ہیں جبکہ میں تو 19برس پہلے کی شادی شدہ ہوں اور دو بچوں کی ماں ہوں۔۔۔ دوسرا بچہ گھر چھوڑ آئی ہوں۔ جب سے چین کی نئی حکومت نے دوسرے بچے کی اجازت دی ہے، اکثر چینی خواتین نے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔‘‘

باقی لوگ جو یہ گفتگو سن رہے تھے ہنسنے لگے۔ وہ اس ’’لڑکی‘‘ کے دو بچوں پر نہیں ہنس رہے تھے بلکہ میری غلط فہمی پر قہقہے لگا رہے تھے کہ جس کو آپ ٹین ایجر دوشیزہ کہہ رہے تھے وہ 40برس کی ادھیڑ عمر ’ماں‘ نکلی!۔۔۔

ایک دوست کی بیوی نے اسی طرح کا ایک اور واقعہ سنایا۔۔۔ کہنے لگی: ’’کئی برس پہلے میں اورینٹل کالج لاہور میں اردو ادب کی کلاس میں سالِ پنجم کی طالبہ تھی۔ پیکنگ یونیورسٹی (اس وقت بیجنگ کو پیکنگ کہتے تھے) کے شعبہ ء اردو کی صدر اور اس کے ساتھ دو اور پروفیسر حضرات بھی لاہور آئے اور ہمارے استاد ڈاکٹر سید عبداللہ سے ملے جو یونیورسٹی میں اردو کے صدر شعبہ تھے۔

ہماری کلاس میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ تھی اور ہم حیران تھیں کہ وہ چینی لڑکی کس روانی سے اردو میں گفتگو کررہی تھی۔ اثنائے گفتگو میں ڈاکٹر عبداللہ اس کو ’’بیٹی، بیٹی‘‘ کہہ کر خطاب کر رہے تھے۔

جب گفتگو نے ذرا طول کھینچا تو اس لڑکی نے ڈاکٹر صاحب سے کہا: ’’سر!آپ کی عمر کیا ہے؟‘‘۔۔۔ ڈاکٹر صاحب یہ اچانک سوال سن کر کچھ دیر کے لئے ٹھٹکے اور پھر کہا : ’’بیٹی! میں ماشاء اللہ 56 برس کا ہوں‘‘۔۔۔۔ جس پر وہ لڑکی بولی : ’’ڈاکٹر صاحب! آپ کی اس ’’بیٹی‘‘ کی عمر 57برس اور سات ماہ ہے۔۔۔ آپ بار بار مجھے بیٹی بیٹی کہہ رہے تھے اور میں سوچ رہی تھی کہ شائد آپ کی عمر عزیز 80،85برس سے متجاوز ہو گی۔‘‘

کھانے کی میز پر بیٹھی اس مترجم ’لڑکی‘ نے بھی پہلی بار منہ کھول کر قہقہہ لگایا اور کہا :’’ کرنل صاحب اور ڈاکٹر عبداللہ کی غلط فہمیاں ایک جیسی ہیں‘‘۔

اس فرینک گفتگو کے بعد اس ’’لڑکی‘‘ مسز جن شی (Junshi) نے ہم پاکستانیوں کی تعریفیں شروع کر دیں اور کہا کہ : ’’ ہم علی الصبح جب کینال روڈ پر سیر کرنے جاتے ہیں تو وہاں نوجوان خواتین اور عمر رسیدہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد واک کر رہی ہوتی ہے۔ یہ ایک بڑی اچھی عادت اور ورزش ہے جس کا رواج آج کل ہمارے بڑے بڑے چینی شہروں میں کم ہوتا جاتا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ چند عشرے پہلے ہماری جو آبادی کم وزن اور سمارٹ کہلاتی تھی آج حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 45 فیصد فربہ اندامی کا شکار ہے۔۔۔ اور توندیں نکلی ہوئی ہیں!‘‘

میں نے یہاں جن شی کو ٹوکا اور کہا: ’’ہم پاکستانیوں میں تو یہ مشہور ہے کہ آپ بہت سمارٹ لوگ ہیں اور اس کا راز یہ ہے کہ آپ ہمیشہ تازہ یا نیم گرم پانی کی بوتل اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ گرمیاں ہوں کہ سردیاں یہ پانی آپ کا وزن اور پیٹ بڑھنے نہیں دیتا‘‘۔۔۔

اس پر وہ بولی: ’’ہاں 15،20 برس پہلے ہماری صحت کی یہی کیفیت تھی لیکن آج جنک فوڈ اور کوکا کولا نے نئی پود کا ستیاناس مار دیا ہے۔ ہمارے سکولوں میں ہر چوتھا بچہ / بچی موٹاپے کا شکار ہے اور موٹاپے کے ساتھ جو بیماریاں وابستہ ہوتی ہیں مثلاً بلڈ پریشر اور شوگر وغیرہ وہ عام ہو چکی ہیں۔ کوکا کولا 1978ء میں چین میں آیا تھا۔ اس وقت ہماری قوم غریب تھی۔اس کے بعد بتدریج غربت کم ہوتی چلی گئی اور موٹاپا بڑھتا چلا گیا۔ شائد ہم نے صدیوں کی بھوک پیاس برداشت کرنے کے بعد یکدم خوشحالی اور فربہ اندامی کو گلے لگا لیا تھا!‘‘

’’ یہ عجیب بات ہے کہ ‘‘۔۔۔ جن شی نے اپنی شکایات جاری رکھیں۔۔۔’’یورپ اور امریکہ میں میٹھے مشروبات میں چینی کی جگہ دوسرے میٹھے کیمیکل (Sweeteners) استعمال ہو رہے ہیں۔ خود کوک کے بین الاقوامی تجارتی ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ کوکا کولا کی ایک سٹینڈرڈ سائز کی بوتل میں چھ کھانے والے چمچ کے برابر چینی ہوتی ہے۔اور ہم نے ہر بوتل پر یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ خبردار! یہ مشروب شوگر کا باعث ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی لوگ ذرہ بھر پرواہ نہیں کرتے!‘‘

یہ سن کر ایک مہمان نے جیب سے سیگرٹ کی ایک ڈبیہ نکالی اور کہا :’’ہم پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے۔ ہر ڈبیہ پر لکھا ہوا ہے کہ تمباکو نوشی مضرِ صحت ہے۔ لیکن میں کوئی اَن پڑھ نہیں ہوں۔ سب کچھ جانتا ہوں لیکن دن میں ایک ڈبیہ ختم کرنا میرا معمول ہے!‘‘۔

میں نے دل میں سوچا کہ اگر چین جیسا ملک اپنے ہاں ماکولات و مشروبات پر کوئی قدغن عائد نہیں کر سکتا اور اپنی نئی پود کو موٹاپے کا شکار دیکھ کر بے بس ہے تو پاکستان کی نو خوشحال آبادی کا کیا قصور ہے؟ہم دیکھ رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے کھانے پینے کی بہت سی دکانیں اور فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ حتیٰ کہ لاہور میں گورمے اور ’’چمن‘‘ آئس کریم کے بندش کے احکامات بھی جاری ہو چکے ہیں لیکن شوارما، سیخ کباب، مرغ روسٹ اور پزّا (Pizza) کی باربی کیوز اور دکانوں کی بھرمار ہوتی جا رہی ہے۔

کھاتے پیتے گھرانوں کی اکثر خواتین شام کو کچن کا رخ ہی نہیں کرتیں بلکہ بازار جاتی ہیں اور اپنے مردوں اور بچوں کے ساتھ کسی ریستوران میں ڈنر کرنا ایک معمول بنا چکی ہیں۔ لاہور میں جگہ جگہ فاسٹ فوڈ کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ ہر اتوار میرے ہاں جو اردو اور انگریزی اخبار آتے ہیں ان کے ساتھ ہر ہفتے ایک نئی ’’پزا شاپ‘‘ کے افتتاح کا خوبصورت، رنگین اور گلیز پیپر پر چھپا ہوا اے ۔4سائز کا اشتہار ضرور ہوتا ہے۔ جس پر پہلے ایک سو گاہکوں کے لئے 75فیصد رعائت کا مژدہ بھی درج ہوتا ہے۔

ایم ایم عالم روڈ پر جا کر دیکھیں تو وہاں راتیں جاگتی اور دن سوتے ہیں اور جاگنے والوں کی کثیر تعداد آخرِ شب ریستورانوں میں مصروفِ ناؤلوش ہوتی ہے۔۔۔ شراب بے شک بند ہو چکی ہے لیکن سوڈا واٹر کی مختلف برانڈز نے اس کی جگہ لے لی ہے۔

یہ کلچر صرف لاہور میں ہی عام نہیں بلکہ پاکستان کے دوسرے بڑے بڑے شہروں میں بھی لوگ اسی ’’علّت‘‘ کا شکار ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہسپتالوں میں رش بڑھ چکا ہے اور زیادہ مریض دل، جگر، معدے کی بیماریوں اور ذیابیطس کا شکار ہیں۔۔۔ لگتا ہے ہم من حیث القوم آنکھوں دیکھ کر ’’مکھیاں‘‘ نگل رہے ہیں۔۔۔ امراضِ قلب کے ایک دوست ڈاکٹر نے ایک حالیہ ملاقات میں انکشاف کیا کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں دل کے مریضوں کی تعداد گھٹنے لگی ہے۔ وہاں شراب نوشی، تمباکو نوشی اور میٹھے مشروبات سے گریز کا کلچر فروغ پا رہا ہے اور اس میں مسلمان تارکینِ وطن کا بڑا ہاتھ ہے!

مغربی اقوام اب برملا کہنے لگی ہیں کہ اسلامائزیشن کے عمل میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے عمل دخل کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن خوردونوش کی جو عادات مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں، ان کا اثر مقامی آبادی کے سوادِ اعظم پر ضرور ہوتا نظر آ رہا ہے۔ مسلمان گھرانوں کے کچن صبح و شام آباد رہتے ہیں اور ان میں نہ صرف خواتینِ خانہ بلکہ مردوں کی بھی ایک بڑی تعداد ان کا ہاتھ بٹاتی نظر آتی ہے!

لاہور میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کیپٹن عثمان کی سربراہی میں گزشتہ حکومت کے دور میں بڑے اچھے کام کئے۔ اب نئے پاکستان میں کیا ہو رہا ہے، مجھے اس کی خبر نہیں۔ باقی صوبوں میں بھی اس طرح کا کوئی حکومتی / انتظامی ڈھانچہ بھی ہے یا نہیں، اس کا بھی کچھ اتہ پتہ نہیں۔ لیکن یہ محکمہ اعلیٰ ترین سطح پر توجہ کا طالب ہے۔ میں نے نیٹ پر دیکھا تو معلوم ہوا کہ (PFA)کی نئی ویب سائٹ زیرِ تشکیل ہے۔

سیاسی مصالح اور وابستہ مفادات روزِ اول سے اس اتھارٹی کی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ باقی صوبوں کے محکمہ ہائے صحت کو بھی اس شعبے میں ایک فعال کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں میں عوامی سطح پر کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات پر جس طرح اور جس سکیل کا کنٹرول ہے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر ہمارے ہاں سپریم کورٹ ہی نے سارے فیصلے کرنے ہیں تو اک ’’گناہ‘‘ اور سہی!۔۔۔ چیف جسٹس تو کل جا رہے ہیں۔ آنے والی عدالتِ عظمی کو پاکستانی عوام کے ’’بنیادی حقوق‘‘ کا بھی اسی طرح خیال رکھنا پڑے گا جس طرح میاں ثاقب نثار نے رکھا تھا۔

میڈیا کا کردار بھی اس ضمن میں بطورِ خاص قابلِ تحسین ہے۔ ایک ٹی وی چینل تو بہ بانگ دہل اپنے عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کے ایک کثیر طبقے کی جانیں بچاتا اور اس کی صحت کا خیال رکھتا رہا ہے۔ARY کی دیکھا دیکھی کئی دوسرے چینل بھی اس طرف متوجہ ہوئے ہیں لیکن مائیکرو لیول پر اس پروگرام کے مثبت اثرات مرتب ہوتے (Trickle down)نہیں دیکھے گئے۔

اس کے لئے مرکزی اور صوبائی سطح پر ایک ایک الگ وزارت کے قیام کی ضرورت ہے جو ’’قومی صحت کی وزارت‘‘ (منسٹری آف نیشنل ہیلتھ) کہی جا سکتی ہے۔ لیکن وزارتیں قائم کرکے ان کے فوائد کا بیرومیٹر بھی کہیں نہ کہیں قائم ہونا چاہیے۔۔۔ آنے والے فاضل چیف جسٹس کے لئے یہ میدان بھی دعوتِ عمل دے رہا ہے!

مزید : رائے /کالم