سی این جی سٹیشنز پر دفعہ 144 کے نفاذ پر ضلعی حکومت اور ضلعی انتظامیہ ایک دوسرے کے مد مقابل

سی این جی سٹیشنز پر دفعہ 144 کے نفاذ پر ضلعی حکومت اور ضلعی انتظامیہ ایک دوسرے ...

کوہاٹ (بیورو رپورٹ) ضلع ناظم اور ڈپٹی کمشنر کے مابین اختیارات کی جنگ کا آغاز‘ سی این جی سٹیشنز پر دفعہ 144 کے نفاذ پر ضلعی حکومت اور ضلعی انتظامیہ ایک دوسرے کے مد مقابل‘ ڈپٹی کمشنر مطیع اللہ خان نے عوام کو صبح اور شام کے اوقات میں گیس سپلائی برقرار رکھنے کے لیے سی این جی سٹیشنز کو دفعہ 144 کے تحت ایک ماہ تک گیس فروخت کرنے پر پابندی کا اعلامیہ جاری کر دیا ضلع ناظم نسیم آفریدی نے اسے ڈپٹی کمشنر کا اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے وہ اعلامیہ منسوخ کر کے سی این جی سٹیشنز پر عائد پابندی ختم کرانے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جس پر ڈپٹی کمشنر نے ضلع ناظم کے نوٹیفیکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پابندی کے اطلاق کا حکم نافذ کر دیا تفصیلات کے مطابق کوھاٹ میں ضلع ناظم نسیم آفریدی اور ڈپٹی کمشنر مطیع اللہ خان کے مابین اختیارات کی سرد جنگ کا آغاز ہو گیا دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈٹ گئے اس کاغذی جنگ کا آغاز ڈپٹی کمشنر مطیع اللہ خان کے دفعہ 144 کے نفاذ کے اس اعلامیہ سے ہوا جو دس جنوری 2019 کو ڈی سی کے دستخط سے جاری ہوا جس کے مطابق سی این جی سٹیشنز کو صبح 6 سے 9 بجے اور شام 5 بجے تا 9 بجے تک گیس فروخت نہ کرنے کا پابند بنایا گیا تاکہ عوام کو گھریلو استعمال کے لیے گیس کی ترسیل میں رکاوٹ نہ ہو یہ پابندی ایک ماہ تک کے لیے لگائی گئی‘ شنید ہے سی این جی انتظامیہ نے ضلع ناظم کو عوامی نمائندہ سمجھ کر انہیں یہ پابندی ختم کرانے پر مجبور کیا ضلع ناظم نے مسئلہ کی افہام و تفہیم سے حل کرنے کے بجائے اسے ذاتی انا اور ڈی سی کے اختیارات سے تجاوز قرار دیا اور اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے پابندی کا اعلامیہ منسوخ کرتے ہوئے سی این جی سٹیشنز کو حسب معمول کاروباری جلدی رکھنے کا اعلامیہ جاری کر دیا حالانکہ محرم‘ ربیع الاول اور ضمنی الیکشن کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے جب دفعہ 144 کا نفاذ کیا تو ضلعی حکومت کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ضلع ناظم کے اعلامیہ کے جواب میں ڈپٹی کمشنر نے ضلعی حکومت کے آرڈر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ڈی سی کے اختیارات میں مداخلت قرار دیا اور دفعہ 144 کے نفاذ کا حکم برقرار رکھا جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت کارروائی کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا عوامی حلقوں نے دونوں اداروں کے مابین اس اختیارات کی جنگ پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے اور ضلعی نظم و نسق برار رکھنے کے لیے اسے ایک بدشگوئی سے تعبیر کیا ہے جو ہرگز عوامی مفاد میں نہیں عوام نے ضلعی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہسپتالوں کی صورت حال بہتر بنانے پر بھی اپنے اختیارات کو بروئے کار لائیں اور کوھاٹ میں گڈ گورننس کو یقینی بنایا جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر