الیکشن ایکٹ 2017 کیخلاف سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی

الیکشن ایکٹ 2017 کیخلاف سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی

اسلام آباد (آن لائن )اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف درخواستوں پر سماعت دو ہفتوں تک کے لئے ملتوی کر دی۔گزشتہ روزجسٹس عامر فاروق پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل رکنی بینچ نے سماعت کی۔فاضل بینچ نے جب سماعت شروع کی ملی مسلم (بقیہ نمبر46صفحہ7پر )

لیگ کی جانب سے راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا ترمیم کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے امیدوار کے فیس بڑھا دیئے ہیں۔صوبائی اسمبلی اور سینٹ کے لئے 20 ہزار اور قومی اسمبلی کے لئے 30 ہزار روپے فیس مقرر کر دی گئی ہے 2 ہزار ووٹر کی شناختی کارڈ کاپی بمائے انگوٹھے کا نشان اور دو لاکھ روپے ضروری قرار دیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی یہ قانون سازی آئین کی خلاف ورزی ہے۔اس قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔انتخابی اصلاحات کے نام پر الیکشن ایکٹ 2017 کامقصد انتخابی عمل پر اثر انداز ہونا ہے۔الیکشن ایکٹ کی 13 شقیں آئین اور قانون سے متصادم ہیں۔عدالت نے سپریم کورٹ کی ججمٹ اور آئینی حوالے کی کاپیاں عدالت کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے ہدایات جاری کی ایک دو اور درخواست گزار ہیں ان کو بھی سن کر وفاق کو سنتے ہیں۔بعدازں عدالت نے ملی مسلم کے وکیل کیدلائل مکمل ہونے کے بعدکیس کی سماعت دو ہفتوں تک کے لئے ملتوی کر ملتوی کر دیا۔

الیکشن ایکٹ

مزید : ملتان صفحہ آخر